ڈاکٹر امجد پرویز

07 نومبر 2017

شکیل گیلانی
’’چل میلے نوں چلئے‘ تیرا لٹیا شہر بھنبور نی‘‘ جو بھی کچھ ہے محبت کا پھیلائو ہے اور اس طرح کے بے شمار فوک نغموں سے بے انتہا شہرت پانے والے عطائی گلوکار جو بااعتبار پیشہ انجینئر‘ بلحاظ عہدہ منیجنگ ڈائریکٹر (ریٹائرڈ) نیسپاک بالحاظ تعلیم انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی بحیثیت فنکار کلاسیکل گائیک‘ ریڈیو پاکستان لاہور سے آجکل نشر ہونے والے ہفتہ وار پروگرام ’’ہمارے موسیقار‘‘ اور ماضی میں ریڈیو نمبر 2 کا لائیو/ براہ راست کلاسیکل پروگرام ’’آہنگ خسروی‘‘ پیش کرنے والے ڈاکٹر امجد پرویز ہیں جن کا تعلق ایک صاحب علم خاندان سے ہے۔ ریڈیو پاکستان لاہور کے بچوں کے پروگرام ’’ہونہار‘‘ سے چائلڈ سنگر‘ گلوکاری کا آغاز کیا اور پھر 1976ء میں استاد نزاکت علی خان‘ استاد سلامت علی خان کی باقاعدہ شاگردی کرکے فن موسیقی میں سفر کا آغاز کیا اور پھر 1992ء میں استاد غلام شبیر خان‘ استاد جعفر خان سے بھی کلاسیکل موسیقی کی تعلیم حاصل کی۔ ڈاکٹر امجد پرویز نے 60ء کی دہائی میں ریڈیو پروڈیوسر اعظم خان کے پیش کردہ میوزک پروگرام ’’خاطر احباب‘‘ میں کئی دفعہ اپنے فن کا مظاہرہ کیا جس پر میڈم فریدہ خانم نے ان کی حوصلہ افزائی کی کیونکہ یہ دہائی موسیقی کے اعتبا رسے ریڈیو پاکستان لاہور کے تخلیقی دور میں شمار کی جاتی ہے جس میں پی ایچ اور سی پی یو کے تمام میوزیکل سٹوڈیو ریکارڈنگز اور ریہرسلز میں مصروف ہوتے تھے۔ کئی نامور گلوکار اور سازندے‘ موسیقار حضرات ریکارڈنگ کے منتظر ہوتے تھے۔ یہی وجہ ہے کہ اس دور میں موسیقی کیلئے کیاگیا کام آج بھی سماعتوںکا حصہ ہے۔ یہ بڑے کمال کی بات ہے کہ ڈاکٹر امجد پرویز کلاسیکل گائیک ہونے کیساتھ ساتھ نیم کلاسیکل موسیقی میں بھی بڑے نمایاں ہیں۔ انہوں نے کئی معروف شعراء کرام کی غزلیں بھی گائیں جیسے شہزاد جالندھری کی غزل اجنبی پن کے نئے روگ لگانے آئو‘ میرے دل میں میری آنکھوں میں سمانے آئو اسی طرح ریڈیو پاکستان کے سب سے پہلے انائونسر مصطفی علی ہمدانی کے فرزند ریڈیو پروڈیوسر صفدر ہمدانی کی غزل خفا ہوئے ہیں تو ایسے کہ پھر ملے بھی نہیں۔ مرزا غالب ‘ میر تقی میر‘ فیض احمد فیض ‘ علامہ اقبال‘ سید رضی ترمذی اور دورحاضر کے شعراء کا جدید کلام بھی گا رہے ہیں۔ ڈاکٹر امجد پرویز کلاسیکل گائیکی ٹھمری اور خیال کے علاوہ کافی‘ غزل‘ گیت اور فوک جیسے نغمے موسیقیت کی بندش میں رہتے ہوئے کمال انداز میں پیش کرنے کا فن بخوبی جانتے ہیں۔ ڈاکٹر امجد پرویز نے ماسٹر منظورحسین‘ کالے خان‘ بخشی وزیر‘ کریم شہاب الدین‘ وزیرافضل‘ نثار بزمی‘ عنایت حضروی‘ الطاف حسین‘ رشید عطرے‘ امجد بوبی اور ریڈیو پاکستان کے سابق ڈائریکٹر اور میوزک ماسٹر خالد اصغر کی بنائی ہوئی دھنوںمیں امر گیت گائے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ پوری دنیا میں ان کے مداحوں کی تعداد میں روزبروز اضافہ ہو رہا ہے۔ ڈاکٹر امجد پرویز حبیب ولی محمد (مرحوم) کے بعد واحد پاکستانی گلوکار ہیں جن کو میانمار/ برما میں سرکاری سطح پر سنا اور جانا جاتا ہے۔ برما کی حکومت اور میوزک لورز ان کی آمد کا شدت سے انتظار کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ امریکہ‘ یوکے‘ فرانس‘ اٹلی‘ ناروے‘ ڈنمارک‘ مصر‘ سعودی عرب‘ قطر‘ یو اے ای‘ بحرین‘ بھارت اور یہ کہنا بے جا نہ ہوگا ڈاکٹر امجد پرویز دنیا میں پاکستانی ثقافت کے سفیر کے طورپر اب بھی جانے جاتے ہیں۔ ڈاکٹر امجد پرویز نے میڈم نورجہاں اور مہدی حسن کے ساتھ کچھ فلمی نغمے بھی گائے جو عوام میں خاصے مقبول بھی ہیں۔ اس کے علاوہ کچھ ڈیوٹ (دوگانے) جن میں ناہید اختر‘ مہناز‘ نیئرہ نور اور کچھ دوسری گلوکارائیں بھی ہیں۔ چونکہ مشکل کام کرنا زیادہ پسند ہے اسی لئے خود کو زیادہ تر کلاسیکل اور نیم کلاسیکل موسیقی میں مصروف رکھا۔
ڈاکٹر امجد پرویز نے اپنی انڈسٹریل انجینئرنگ ہی کو اپنایا اور باوقار ذریعہ معاش رکھا اور ایک بڑے سرکاری ادارے کے ایم ڈی رہے۔ ڈاکٹر امجد پرویز اب تک سات کتابیں لکھ چکے ہیں جن میں چار کتب موسیقی بارے اور تین کتب ادب (لٹریچر) پر۔ لطف کی بات ہے کہ ساتوں کتابیں انگریزی میں ہیں‘ لیکن اب ان کا قومی زبان اردو میں ترجمہ کر دیا گیا ہے جو شہر کے تمام بڑے سٹورز اور لائبریریوں میں موجود ہیں اور آٹھویں کتاب جس کا عنوان ہے ’’فوک لیجنڈز آف پاکستان‘‘ جو طباعتی مراحل میں ہے جس میں صرف پاکستان کے تمام بڑے فوک سنگرز جن میں طفیل نیازی‘ پٹھانے خان‘ عالم لوہار‘ حامد علی بیلا‘ اللہ دتہ لونے والا‘ زاہدہ پروین‘ ریشماں‘ عقیل منور‘ عطاء اللہ خان عیسیٰ خیلوی‘ فدا حسین اورکئی اور دوسرے شامل ہیں۔ یہ کتاب بیک وقت انگریزی اور اردو میں چھاپی جا رہی ہے۔
حال ہی میں چھپنے والی کتاب ’’میلوڈی سنگرز‘‘ جس میں برصغیر کے تقریباً تمام بڑے گلوکاروں کے اسمائے گرامی اور ان کی گائیکی بارے تفصیل موجود ہے جو یقینا عرق ریزی ہے مگر ڈاکٹر صاحب مشکل کام میں بھی آسانی تلاش کرنے کے ماہر ہیں۔ ڈاکٹر امجد پرویز کو صوبائی اور ریجنل ایوارڈ بولان اور گریجوایٹ ایوارڈ کے علاوہ 2000ء میں صدارتی تمغہ برائے حسن کارکردگی سے بھی نوازا گیا جو ڈاکٹر امجد پرویز کی فنی صلاحیتوں کے اعتراف کا منہ بولتا ثبوت ہے۔ ریڈیو پاکستان آج بھی تفریح اور ابلاغ کا مؤثر ترین ذریعہ ہیں۔ حکام بالا کی عدم توجہی کی وجہ سے سامعین دلبرداشتہ ضرور ہیں‘ لیکن قومی حکومت سے توجہ کیلئے ملتمس ہیں۔ امید ہے ڈی جی ریڈیو اور ان کی ٹیم اس بات کو یقینی بنائے گی کہ ریڈیو کے کردار کو مزید فعال بنایا جائے۔

مری بکل دے وچ چور ....

فاضل چیف جسٹس کے گذشتہ روز کے ریمارکس معنی خیز ہیں۔ کیا توہین عدالت کا مرتکب ...