ادویات کی قلت ،روزانہ چار ہزار لوگ موت کے منہ میں جا رہے ہیں

07 نومبر 2017

اسلام آباد(خصوصی نمائندہ) پاکستان میں ادویات کی قلت کی وجہ سے روزانہ چار ہزار لوگ موت کے منہ میں جا رہے ہیں ڈریپ نے قیمتوں میں اضافے اور ٹیکس بڑھانے کے سواءکچھ نہیں کیا ہے ۔ سینٹ کی قائمہ کمیٹی نے ڈریپ کو سب سے زیادہ کرپٹ ادارہ قرار دیدیا ہے ۔ ڈرگ ریگولیٹری اتھارٹی آف پاکستان (ڈریپ )میں غیر قانونی بھرتیوںکا سلسلہ جاری ہے ۔ سپریم کورٹ کے حکم کے باوجود ڈیپوٹیشن پر آنے والے افسران ابھی تک واپس نہیں بھیجے گئے ہیں ۔ڈریپ میں ایک افسر شیخ اختر حسین کاغذات میں مردہ ظاہر ہو چکا ہے اس کے باوجود وہ چار چار عہدوں پر کام کر رہا ہے ۔ نیب اور ایف آئی اے میں واضح ثبوت کے باوجود اس افسر کے خلاف کوئی کارروائی نہیں کی گئی ۔ ڈریپ کے ایک جونیئر گریڈ سترہ کے افسرنے گریڈ بیس کے افسر کی انکوائری رپورٹ میں اسے بے گناہ قرار دیدیا ہے ۔ ان خیالات کا اظہار ینگ فارما ایسوسی ایشن کے ڈاکٹرعثمان اور ینگ لائر فورم کے مہر نور محمد نے مقامی ہوٹل میں مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا ۔ ڈاکٹرعثمان کا کہنا تھا کہ چیف ایگزیکٹو آفیسر اسلم افغانی اور دیگر نے غیر قانونی بھرتیاں بھی کیں ہیں اور اس میں بھاری رقم وصول کی گئی ہے ۔ سپریم کورٹ کے 2013 احکامات کے خلاف جا کے مختلف اداروں سے آئے ملازمین کو بھی مستقل کیا گیا ہے۔سپریم کورٹ کے احکامات کی دھجیاں بکھیری گئئں ہیں۔اس ادارے سے قانونی کام کرنے کی کیسے توقع کی جاسکتی ہے۔100 لوگوں کو بغیر تنخواہ کے سال سے زائدعرصہ کیلئے بھرتی کرنے کے بعد فارغ کر دیاگیا ۔اس کے علاوہ 91 اسٹنٹ ڈائریکٹر بھی بھرتی کیے گئے بھرتی کیلئے این ٹی ایس کے امتحانات میں بھی 50 لاکھ کی رشوت دی گئی ۔یہ بچے مارچ میں بھرتی ہوئے بغیر تجربہ کے ان میں سے نو فیڈرل ڈرگ انسپکٹر بنا دیا گیا حالانکہ قوانین کے مطابق ڈرگ انسپکٹر کیلئے دس سال کا تجربہ ضروری ہے اس کو نظر انداز کیا گیا ہے ۔