سٹیج ڈرامہ ’’ماسٹر جی‘‘

07 نومبر 2017

٭… سلیم ناز

یہ حقیقت ہے کہ سٹیج ڈرامہ جب سے آرٹس کونسل کی سٹیج سے نجی تھیٹرز پر منتقل ہوا۔ شائقین فیملیز نے سٹیج ڈرامہ سے منہ موڑ لیا۔ کونسل کی سخت پالیسیوں اور بھاری کرائے کی وجہ سے پروڈیوسرز‘ نجی تھیٹرز کو ترجیح دینے لگے۔ ایک تو وہاں کرائے کم‘ اور محدود نشستوں کو بھرنا آسان ہوتا تھا لیکن ایک موقع ایسا بھی آیا کہ ایک سوسے زائد نشستیں بھی خالی رہنے لگیں تو پروڈیوسر نے مجروں اور فحش جگتوں کا سہارا لینا شروع کر دیا لہٰذا ڈرامہ شائقین تماشبینوں میں بدل گئے۔ پروڈیوسرز کی آمدن میں تو اضافہ ہو گیا لیکن سٹیج ڈرامہ اپنی اصل شناخت کھو بیٹھا۔ غور طلب پہلو یہ ہے کہ ماضی میں آرٹس کونسل کی انتظامیہ نے بھی اصل ڈرامے کی بحالی کیلئے کوشش نہیں کی۔ ایسا محسوس ہوتا تھا کہ آرٹس کونسل انتظامیہ گھر بٹھے تنخواہیں وصول کرناچاہتی ہے۔ اگر کبھی انتظامی افسر آرٹس کونسل میں قدم رنجہ فرما بھی لیتاتو مقصد حاضری پوری کرنا اور تنخواہ کا چیک وصول کرنا ہوتا تھا اور یہ سلسلہ ایک عرصے تک اوپر سے نیچے تک جاری رہا محمد علی واسطی کے بعد جتنے ڈائریکٹر آئے انہوں نے ڈرامہ تو کیا فنون لطیفہ کی ترویج و ترقی میں دلچسپی لینے کی بجائے خود کو ’’اپنی تسکین اور تفریح‘‘ تک محدود کر لیا۔
ملتان آرٹس کونسل کی خوش قسمتی کہ سجاد جہانیہ انفارمیشن سے یہاں بطور ڈائریکٹر تبدیل ہو کر آئے تو سٹیج فنکاروں نے ویرانے میں بہار آنے کی امیدوں کا اظہار کیا۔ انہوں نے بھی فنکاروں سے ناطہ جوڑا اور کونسل کی سٹیج پر ڈرامے کا دوبارہ آغاز کیا۔ اگرچہ یہ سلسلہ متواتر نہیںمگر دیر آید درست آید کے مصداق ڈرامہ شائقین فیملیز کو واپس لانے کی کوششیں قابل تحسین ہیں۔ انہوں نے گزشتہ دنوں سٹیج ڈرامہ ’’ماسٹر جی‘‘ کے اختتامی شو میں اس بات کا اعلان کیا کہ ملتان آرٹس کونسل کی سٹیج پر ہر ماہ تین روز فری سٹیج ڈرامے کا انعقاد ہوا کرے گا کیونکہ ہمارا مقصد سٹیج ڈرامے کی بحالی اور فیملیز کو واپس لانا ہے۔
اختتامی تقریب کے مہمان خصوصی ممتاز دانشور پروفیسر ڈاکٹر اسد اریب نے نہ صرف آرٹس کونسل کی رونقوں کی بحالی پر مسرت کا اظہار کیا بلکہ صوبائی حکومت اور پنجاب آرٹس کونسل کی انتظامیہ سے مطالبہ کیا کہ ملتان سٹیج فنکاروں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی کے لئے باقاعدہ منصوبہ بندی کی جائے کیونکہ آج کے دور میں دوسروں کو ہنسانا اور تفریح کی فراہمی کوئی آسان کام نہیں۔ تین روز تک فری ڈرامے کے اختتامی شو میں معروف فنکار آغا ماجد‘ منیر تاج اور قسور حیدری بھی موجود تھے۔ آغا ماجد نے اس حوالے سے رب کائنات کا شکر ادا کیا کہ ان سے سینئر فنکار ملتان میں ’’رُل‘‘ رہے ہیں اور انہوں نے ملکی سطح پر ٹی وی چینلز پر اپنی پرفارمنس سے اپنے شہر کا نام روشن کیا ہے۔ انہوں نے اس راز سے پردہ نہیں اٹھایا کہ خود کو منوانے کے لئے انہیں سٹیج ڈراموں میں ’’جوتے‘‘ بھی کھانے پڑے۔ بادشاہ سے خواجہ سرا بھی بننا پڑا۔ جو کردار بھی ملتا اس میں ڈوب کر پرفارم کرتے‘ شہرت کی بلندیوں پر پہنچنے کے باوجود اپنے آبائی شہر اور ساتھی فنکاروں کو نہیں بھلایا جب بھی ملتان آتے ہیں تو ساتھی فنکاروں کی حوصلہ افزائی کے لئے ڈرامہ دیکھنے ضرور آتے ہیں۔ انہوں نے ناہید رضوان کے لکھے ہوئے کھیل ’’ماسٹر جی‘‘ جس کے ہدایت کار علی رضوان تھے میں فنکاروں کی پرفارمنس کو سراہا۔ 3 روز ہال فیملیز اور دیگر ڈرامہ شائقین سے بھرا رہا۔ قبل ازیں اگست میں ہونیوالے ڈرامے کے موقع پر کثیر تعداد میں لوگوں کی دلچسپی کے باعث آرٹس کونسل کی انتظامیہ کے حوصلے بلند ہو گئے اور اب ہر ماہ تین روز فری ڈرامہ شائقین دیکھا کریں گے۔ ناہید رضوان کے لکھے ہوئے اس کھیل میں کہیں کہیں جھول بھی نظر آتا رہا تاہم رمضان شہزاد‘ سیف چانڈیو‘ افضل شیخی‘ بندیا علی‘ ریشم رانا کی عمدہ پرفارمنس پر شائقین نے دل کھول کر داد دی۔ دیگر فنکاروں میں رضوان شہزاد‘ علی حسین‘ عمران نور‘ علی شہزاد‘ ملک سکندر‘ طاہر بھٹی‘ جاوید سندھو‘ اعظم شہزاد‘ رضوان شاہ اور علی رضوان شامل تھے۔ عمر رسیدہ ہیرو اور نوجوان ہیروئن کا تجربہ کیسا رہا یہ بات انتظامیہ ہی بہتر بتا سکتی ہے۔اختتامی شو میں مذکورہ بالا فنکاروں میں ایوارڈ تقسیم کئے گئے۔ ڈرامہ شائقین کی آغاز سے اختتام تک برقرار رہنے والی دلچسپی اس بات کا ثبوت تھی کہ شائقین آرٹس کونسل کی انتظامیہ کے ساتھ بھرپور تعاون کیا کریں گے۔ کھیل ’’ماسٹر جی‘‘ کی کامیابی اور مقبولیت کی اور دلیل کیا دی جا سکتی ہے کہ اسے دیکھنے کے لئے مختلف طبقۂ فکر کے علاوہ قاری‘ حفاظ اور معلمین بھی موجود تھے۔