پانی کی شدید قلت‘ دسمبر تک برقرار رہے گی‘ قومی اسمبلی میں حکومت کا اعتراف....

07 نومبر 2017

اسلام آباد (ایجنسیاں+ خبر نگار+ نوائے وقت رپورٹ) سینٹ میں پیر کو ہر قسم کی سرکاری زرعی زمینوں کو رہائشی وتجارتی زمین میں تبدیل کرنے پر پابندی، بچوں کا تفریحی ٹی وی چینل کھولنے سمیت مختلف معاملات پر تین قراردادیں منظور کر لی گئیں۔ اسلام آبادکے تجارتی مراکز کو سی سی ٹی وی کیمرے لگانے کی قانونی پابند بنانے سمیت ضابطہ دیوانی میں ضروری ردوبدل کے دونوں ترمیمی بلز اتفاق رائے سے منظور کر لیے گئے۔ اجلاس میں سینیٹر جہانزیب جمالدینی نے قرارداد پیش کی کہ وفاقی حکومت کے زیر انتظام زرعی زمین اور پہاڑی علاقوں کو رہائشی اور تجارتی زمین میں تبدیل کرنے پر پابندی عائد کی جائے حکومت کی طرف سے قرارداد کی مخالفت نہیں کی گئی۔سینیٹر کریم خواجہ نے قرارداد پیش کی یہ کہ حکومت بچوں کی تعلیم سائنسی معلومات اور تخلیقی رجحانات کی طرف راغب کرنے اور ان کے اندر پاکستان کی ثقافت کی حقیقی روح اور نظریے کو اجاگر کرنے کے لیے پی ٹی وی کے علیحدہ چینل کا آغاز کرے۔ وزیر مملکت اطلاعات و نشریات مریم اورنگزیب نے کہا کہ پی ٹی وی اور ریڈیو سے بچوں کے پروگرامات دکھائے اور نشر کیے جا رہے ہیں۔ اس قرارداد کو متفقہ طور پر منظور کر لیا گیا۔ سینیٹر محسن عزیز نے سرکاری ملازمین کو پرائیویٹ رہائش کی رینٹل سیلنگ کو انکی تنخواہ سے منسلک کرنے کی قرارداد پیش کی حکومتی موقف کے لیے متعلقہ وزیر ایوان میں موجود نہیں تھے۔ چیئرمین سینٹ نے کہا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حکومت مخالف نہیں ہے۔ قرارداد کو اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا۔ سینیٹر محسن نے مجموعہ ضابطہ دیوانی 1980 میں ترمیم کا بل پیش کیا ہے اتفاق رائے سے منظور کر لیا گیا۔ وزیر مملکت برائے داخلہ انجینئر بلیغ الرحمن نے کہا ہے کہ ٹیکس مقدمات سننے کے لئے الگ سے عدالتوں کے قیام کی ضرورت نہیں جبکہ ارکان سینٹ نے کہا ہے کہ ادارے کیوں کمزور اور شخصیات کیوں مضبوط ہو رہی ہیں؟ ہمیں عدل و توازن پر مبنی نظام لانا ہو گا۔ پیر کو عتیق شیخ نے تحریک پیش کی کہ ٹیکس مقدمات کو فوری نمٹانے اور ٹیکس دہندگان کے حقوق کے تحفظ کے لئے خود مختار نیشنل ٹیکس عدالتوں کے قیام کی ضرورت ہے، کو زیر بحث لائے۔ وہی اس پر فیصلہ کرتے ہیں جس سے انصاف نہیں ہو پاتا، دنیا کے مختلف ممالک میں ٹیکس کی الگ عدالتیں ہیں، یہاں بھی قائم کی جائیں۔ سینیٹر سردار اعظم موسیٰ خیل نے کہا کہ وہ تحریک کی حمایت کرتے ہیں۔ سینیٹر عثمان کاکڑ نے بھی تحریک کی تائید کی۔ سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ ہم گیارہ ساڑھے گیارہ لاکھ ٹیکس دہندگان سے آگے نہیں بڑھ سکے، سینیٹر خوش بخت شجاعت نے کہا ہے کہ پارلیمان اتنی کمزور ہے کہ جو چاہتا ہے جب چاہتا ہے اس پر چڑھائی کر دیتا ہے اور جمہوری قوتوں کو پامال کیا جاتا ہے، پورے ایوان پر مشتمل کمیٹی بنائی جائے اور دوسرے اداروں کا نکتہ نظر بھی سنا جائے، ادارے کیوں کمزور اور شخصیات مضبوط ہو رہی ہیں؟ بچوں اور بچیوں سے زیادتیوں اور ناروا سلوک کے واقعات ہو رہے ہیں اور ہم بے بس ہیں۔ سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ اشرافیہ منرل واٹر پیتی ہے جبکہ عوام گندا پانی پینے پر مجبور ہیں۔ بیرسٹر محمد علی سیف نے کہا کہ مغرب کا پارلیمانی نظام تو ہم نے اختیار کر لیا لیکن ہمارا معاشرہ اس کے لئے تیار نہیں تھا، ہمیں عدل اور توازن پر مبنی نظام لانا ہو گا۔ حافظ حمد اللہ نے کہا کہ چند ماہ قبل پانامہ لیکس کے بعد ملک میں سیاسی زلزلہ آ گیا اور ایک وزیراعظم جس کا نام پانامہ لیکس میں نہیں تھا اس کو گھر بھیج دیا گیا لیکن ایک سابق وزیراعظم شوکت عزیز جس کا نام پیراڈائز لیکس میں آیا ہے اس سے کوئی حساب کتاب نہیں مانگ رہا۔ انہوں نے کہا کہ شوکت عزیز کو ایک آمر اپنی سرپرستی میں لایا، وہ آمر کمر درد کا بہانہ بنا کر ملک سے فرار ہے اور شوکت عزیز کو بھی کوئی پوچھنے والا نہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں ایک قرارداد منظور کرنی چاہیے جس میں زور دیا جائے کہ اقتدار کا راستہ عوام سے ہو کر گزرتا ہے تاکہ آمروں کے منہ پر طمانچہ رسید ہو۔ انتخابی فہرستوں میں قادیانیوں اور ان سے منسلک تمام گروپوں کا غیر مسلم حیثیت میں اندراج کی قانونی شقوں کو نئے انتخابی قانون میں مکمل متن کے ساتھ شامل کرنے کا بل پیر کو سینٹ میں پیش کردیا گیا، تحریک انصاف اس بل کی محرک ہے جب کہ خود کشی کے واقعات میں بچ جانے والے افراد کیلئے مروجہ سزا کی تحلیل کے بل پر چیئرمین سینٹ میاں رضاربانی نے اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجواتے ہوئے رائے مانگ لی بل پر قائمہ کمیٹی میں دوبارہ غور کی رولنگ جاری کردی گئی ہے گزشتہ روز 4مختلف ترمیمی بلز سینٹ میں متعلقہ قائم کمیٹیوں کے سپرد کردیئے گئے ہیں۔ ادھر قومی اسمبلی میں وزیر آبی وسائل سید جاوید علی نے بتایا کہ پاکستان میں موسمیاتی تبدیلی کے باعث پانی کی قلت پیدا ہوئی جو دسمبر تک جاری رہے گی۔ پانی کا بحران ستمبر سے شروع ہوا، ارسا آئندہ دو ماہ میں مزید بحران کی پیش گوئی کی آئندہ دو ماہ تک تمام دریاﺅں کا بہاﺅ معمول سے کم ہو گا، آئندہ ربیع کے موسم میں پانی کی 20فیصد قلت کا سامنا ہو گا جبکہ ربیع سیزن کے لئے پانی کی قلت میں مزید اضافے اور فصل متاثر ہونے کا بھی خدشہ ہے۔ چار بڑے دریاﺅں میں پانی کے بہاﺅ میں9ہزار600کیوسک کمی ہوئی، دریاﺅں میں اس وقت پانی کا بہاﺅ48ہزار300کیوسک ہے، جبکہ تاریخی طور پر پانی کا اوسط بہاﺅ57ہزار900کیوسک ہے۔ نئے ذخائر کی تعمیر سے پانی کی قلت سے بچا جا سکتا ہے۔ قومی اسمبلی نے پمز ہسپتال کو انتظامی طور پر شہید ذوالفقار علی بھٹو میڈیکل یونیورسٹی سے علیحدہ کرنے کا بل کثرت رائے سے منظور کر لیا ہے پمز ہسپتال اس میڈیکل یونیورسٹی کا تدریسی ہسپتال بر قرار ہے۔اپوزیشن و حکومتی اتحادی جماعتیں نئی مردم شماری کے عبوری نتائج پر اعتراضات کرتے ہوئے احتجاجاً واک آﺅٹ کر گئیں۔ وزیر قانون و انصاف زاہد حامد نے کہا کہ مشاورت جاری ہے ........ کا الزام حکومت پر عائد کرنا درست نہیں۔ یہ کہنا بے جا ہے کہ حکومت اس معاملے میں تاخیر کر رہی ہے۔ چیئرمین سینٹ نے کہاکہ قومی اسمبلی کے پارلیمانی لیڈرز کے اجلاس کے اتفاق رائے سے سینٹ کا کوئی تعلق نہیں ہے۔ چیئرمین کے اس معاملے پر اپوزیشن کو باضابطہ طور پر تحریک التواءلانے کی ہدایت کر دی ہے۔ قومیت پرست جماعتوں نے اپوزیشن کی بڑی جماعت کے مﺅقف کی حمایت کر دی ہے۔ سینیٹر تاج حیدر کی حال ہی میں کی گئی مردم شماری 2017ءکے حوالے سے موخر شدہ تحریک زیرہ قاعدہ 218 ایجنڈا پر تھی تاج حیدر تفصیلی بحث کے بعد حکومتی بیان کا مطالبہ کیا۔ چیئرمین سینٹ نے کہاکہ باضابطہ طور پر تحریک التوا لے آئیں۔ وزیر قانون و انصاف زاہد حامد نے کہاکہ زیادہ وقت نہیں ہے آئینی ترمیم کی منظوری کا مرحلہ ہے پیپلزپارٹی‘ تحریک انصاف‘ ایم کیو ایم حکومتی اتحادی جماعتیں پختونخوا ملی عوامی پارٹی فاٹا کے ارکان متذکرہ وزیر کے بیان تو مسترد کرتے ہوئے سینٹ سے احتجاجاً واک آﺅٹ کر گئیں۔ سینیٹر سستی پلیجو وزیر قانون کے بیان پر بات کرنا چاہتی تھی۔ چیئرمین سینٹ نے خاتون سینیٹر کو نشست پر بیٹھنے کی سخت انداز میں ہدایت کر دی۔ سستی پلیجو شور اور ہنگامہ کرتی رہی۔ چیئرمین نے سخت انداز میں کہاکہ ست ڈاﺅن‘ سی پلیجو بولتی رہی۔ چیئرمین سینٹ ’سٹ ڈاﺅن“ سٹ ڈاﺅن“ سیٹ ڈاﺅن“ کی ہدایت کرتے رہے۔ خاتون سرخ چہرے کے ساتھ ایوان سے باہر چلی گئیں۔ وزیر قانون و انصاف کابینہ نئی مردم شماری کے تحت حلقہ بندیوں کیلئے آئینی ترمیم کی منظوری دے چکی ہے۔ یہ معاملہ سپیکر قومی اسمبلی کی صدارت میں پارلیمانی لیڈرز کے اجلاس میں زیر غور آیا۔ الیکشن کمشن واضح کر چکا ہے کہ جلد ترمیم منظور نہ ہوئی تو انتخابات میں تاخیر ہو سکتی ہے۔ اس دوران وزیر موسمیاتی تبدیلی مشاہد اللہ خان نے اپوزیشن و اتحادی جماعتوں کے سینیٹرز کو مناکر ایوان میں لے آئے۔ قومی اسمبلی کے اجلاس میں حلقہ بندیوں کا بل منظور نہیں ہوسکا۔ بل منظور کئے بغیر اجلاس غیر معینہ مدت کیلئے ملتوی ہوگیا۔ اجلاس میں صرف 36 ارکان موجود تھے، حکومتی بنچوں پر صرف 11 ارکان موجود تھے، ایک بھی وزیر شریک نہیں ہوا۔ رکن اسمبلی آفتاب شیرپاﺅ نے کہا کہ تمام جماعتیں اتفاق کرلیں کہ انتخابات بروقت ہوں گے۔ کچھ وزراءنے بھی کہا کہ انتخابات میں تاخیر ہوسکتی ہے۔ اکرم درانی نے کہا کہ حلقہ بندیوں سے متعلق خدشات دور کئے جائیں۔ انتخابات کا التواءملک اور اسمبلی کیلئے خطرناک ہے۔ وفاقی وزیر برجیس طاہر نے کہا کہ موجودہ حلقہ بندیوں سے پنجاب کو نقصان ہوا۔ الیکشن کمشن نے کہا قانون سازی نہ ہوئی تو انتخابات ممکن نہیں۔ ادھر سینٹ میں دوسری جانب نواز شریف کی زیر صدارت مسلم لیگ ن کی قیادت کا اجلاس اسلام آباد میں ہوا اس حوالے سے وزیر داخلہ احسن اقبال نے بتایا کہ اجلاس میں بالخصوص 2018ءکے انتخابات کے انتظامات کا جائزہ لیا گیا ملک میں سکیورٹی ٹھیک ہونے پر فوج کے ساتھ مردم شماری کرائی دنیا کو بتانا ہے کہ پاکستان ایک مستحکم اور جمہوری ملک بن چکا ہے 2013ءمیں 66 سال کے بعد پارلیمنٹ کی مدت پوری کرنے میں کامیاب ہوئے اجلاس میں مردم شماری کے عبوری نتائج کے تحت الیکشن پر اتفاق کیا گیا۔ سپیکر کی زیر صدارت تمام جماعتوں کے اجلاس میں آئینی ترمیم پر اتفاق ہوا خیبر پی کے میں 5 نشستوں کا اضافہ ہو رہا ہے بلوچستان کی تین اور اسلام آباد کی ایک نشست بڑھ رہی ہے سیاسی جماعتوں سے دوبارہ مشاورت کریں گے۔ جمہوری نتائج کے مطابق عام انتخابات کرانے پر سب نے اتفاق کیا حیرت ہوئی جب بل پیش کیا کچھ جماعتیں پیچھے ہٹ گئیں کوئی جماعت بروقت انتخابات میں رخنہ ڈالنے کی متحمل نہیں ہو سکتی مردم شماری کے نتائج کو تسلیم کرکے آگے بڑھنا چاہئے مردم شماری پر ایم کیو ایم اور پی پی نے تحفظات کا اظہار کیا مردم شماری پر حکومت نے سنجیدگی سے کوشش کی 1998ءکی مردم شماری پر الیکشن کی تجویز چھوٹے صوبوں سے زیادتی ہو گی 5 جون 2018ءکو اسمبلی مدت پوری کرکے تحلیل ہو گی مردم شماری کے عبوری نتائج کے بعد قبل از وقت الیکشن کا کوئی امکان نہیں کچھ لوگ جان بوجھ کر کنفیوژن پھیلا رہے ہیں پاکستان آئینی اور جمہوری ملک سے ایک ہی این آر او سے جو عوام کے ساتھ سے ہے جمہوری عمل کے 20 کروڑ عوام محافظ ہیں ٹیکنو کریٹ حکومت کی آئین میں گنجائش نہیں دس نومبر کو آئینی ترمیم پاس ہوئی تو الیکشن کمشن 2018ءکے انتخابات کا انتظام کرے گا اگست 2018ءکے پہلے ہفتے میں عام انتخابات کا انعقاد ہونا ہے 1998ءکی مردم شماری کے مطابق الیکشن کرانا ممکن نہیں۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ دوسری بار منتخب حکومت اپنی مدت پوری کر رہی ہے ہر پاکستانی چاہتا ہے انتخابات وقت پر ہو، سیاسی جماعتوں سے درخواست ہے کہ وہ ہمارے ساتھ تعاون کریں۔ ہم چاہتے ہیں کہ آئینی تقاضے پورے کئے جائیں ہم نے مردم شماری کے نتائج قبول کئے ہیں۔وزیر قانون زاہد حامد نے کہا ہے کہ حلقہ بندیوں پر آئینی ترمیم کا مشورہ پارلیمانی رہنما¶ں نے دیا جب بل پیش ہوا تو غیر سیاسی جماعتوں نے رکاوٹ ڈالی امید ہے کہ ترمیمی بل اتفاق رائے سے پاس ہو جائے گا تاکہ الیکشن بروقت ہوں۔پارلیمانی سیکرٹری کابینہ ڈویژن راجہ جاوید اخلاص نے قومی اسمبلی میں کہا ہے کہ نیویارک کے لئے پی آئی اے کی فلائٹ عارضی طورپر بند کی گئی ہے۔ اس روٹ پر سالانہ ایک ارب روپے کا نقصان ہو رہا تھا۔ پی آئی اے کے صرف چار ہوائی جہاز ویٹ لیز پر ہیں۔

سینٹ


وقفہ سوالات