پاکستان کے ثقافتی سفیر!

07 نومبر 2017

سیف اللہ سپرا

زندگی کے دیگر شعبوں کی طرح فن و ثقافت کے شعبہ سے تعلق رکھنے والے لوگ بھی کام کاج اور سیر و تفریح کے سلسلے میں بیرون ملک جاتے رہتے ہیں اور وہاں پر قیام کے دوران اپنی سیرت و کردار سے اپنے ملک کی اچھی یا بری شناخت کراتے ہیں۔ گویا پاکستان کے یہ فن کار جب بیرون ملک جاتے ہیں تو درحقیقت یہ وہاں پر اپنے ملک کے سفیر ہوتے ہیں۔ قارئین کو یہ بات ذہن نشین کرانے کے لئے کہ پاکستان کے یہ ثقافتی سفیر بیرون ملک کیسی سفارتکاری کر رہے ہیں۔ میں یہاں پر چند ان واقعات کا اعادہ کرنا چاہتا ہوں جو گاہے بگاہے اخبارات کی زینت بنتے رہے ہیں۔ سینئر گلوکار غلام علی کو ہی دیکھ لیں۔ زیادہ تر بھارت میں ہی رہتے ہیں اور وہاں کے معاشرے میں اس قدر رچ بس گئے ہیں کہ انہیں یاد ہی نہیں رہتا کہ ان کا مذہب کون سا ہے اورغلام علی ہوکر اکثر سادگی میں مورتیوں کو سجدے بھی کر لیتے ہیں۔ گلوکار غلام علی کے بھارت میں زیادہ قیام اور وہاں پر شوز کرنے پر ایک بھارتی گلوکار نے انہیں ڈینگی مچھر کے لقب سے نوازا ہے۔ ان کے بعد گلوکار راحت فتح علی ہیں جو ایک طویل عرصہ بھارت میں مقیم رہے۔ جس کے دوران وہاں پر فلموں کی موسیقی دی‘ گانے ریکارڈ کرائے اور شوز کئے۔ اچانک ایک ناخوشگوار واقعہ ہوا جس کے بعد انہوں نے بھارت جانا تو چھوڑ دیا تاہم بھارتی فلموں میںکام نہیں چھوڑا۔ اب وہ بھارتی فلموں کے گانے یا تو دوبئی میں ریکارڈ کراتے ہیں یا پاکستان میں۔ بعض اخبارات کے مطابق ناخوشگوار واقعہ یہ تھا کہ پاکستان میں چونکہ ٹیکس کی وصولی کے حوالے سے زیادہ سختی نہیں ہے اس لئے انہوں نے بھارت میں جو کمائی کی اس پر انکم ٹیکس ادا نہ کیا اور ساری دولت سمیٹ کر پاکستان کے لئے روانہ ہو گئے۔ جب بھارت کے ٹیکس حکام کو پتہ چلا تو وہ راحت فتح علی کے پیچھے ائرپورٹ پر پہنچ گئے اور انہیں گرفتار کر لیا اور ٹیکس کی ادائیگی کے بعد رہا کر دیا۔ اس واقعہ سے راحت فتح علی نے یہ سبق سیکھا کہ ٹیکس دینے سے بچت اسی صورت میں ہی ہو سکتی ہے کہ بھارت کی سرزمین پر کام نہ کیا جائے اور اس حوالے سے پاکستان آئیڈیل جگہ ہے جس کی تصدیق یکم نومبر 2017ء کے اخبارات کر رہے ہیں۔ جن میں خبر شائع ہوئی ہے کہ ایف بی آر نے انکم ٹیکس کی عدم ادائیگی پر گلوکار راحت فتح علی خاں کے اکاؤنٹس منجمد کر دیئے۔ اب راحت فتح علی یا تو ٹیکس دینے کی عادت اپنا لیں گے یا پھر پانامہ سٹی یا کسی دوسرے ٹیکس فری ملک کا سراغ لگائیں گے۔
سال 2005ء میں اداکارہ میرا بھارت گئیں جہاں پر انہوں نے فلم ڈائریکٹر مہیش بھٹ کی فلم ’’نظر‘‘ میں بھارتی اداکار اشمیت کے ساتھ نہایت ہی قابل اعتراض سین عکسبند کرائے۔ جس کی گواہی آج بھی انٹرنیٹ پر پڑی ہوئی تصاویر سے مل سکتی ہے۔ ان کے بعد اداکارہ وینا ملک بھارتی فلموں میں کام کے لئے گئیں اور انہوں نے نہ صرف بھارتی فلموں میں عریاں سین عکسبند کرائے بلکہ ایک بھارتی میگزین کے لئے ایسا شوٹ کرایا جس میں انہوں نے لباس اپنے وجود کے قریب نہیں آنے دیا۔ ان کے بعد اداکارہ ماہرہ خان بھارتی فلم رئیس میں کام کے لئے گئیں فلم میں ان کا کردار قدرے سنجیدہ تھا جس کی وجہ سے انہیں اس فلم میں عریاں سین عکسبند کرانے کا کوئی موقع نہ مل سکا تاہم انہوں نے اپنی یہ حسرت امریکہ میں بھارتی اداکار رنبیر کپور کے ساتھ شب بسری کی تصاویر بنوا کر پوری کر لی۔ یہ تصاویر بھی انٹرنیٹ پر موجود ہیں جن میں سے ایک تصویر میں ماہرہ خان نہایت ہی اخلاق باختہ لباس میں سگریٹ کے کش لگا رہی ہیں اور ان کے سامنے رنبیر کپور رت جگے کی وجہ سے جمائیاں لے رہے ہیں۔
پاکستان کی معروف فلم ڈائریکٹر شرمین عبید چنائے نے بھی بیرون ملک پاکستان کی سفارتکاری کی مگر ان کا انداز مذکورہ بالا فن کاروں سے ذرا مختلف تھا۔ انہوں نے پاکستانی معاشرے سے موضوعات کا انتخاب کر کے دو فلمیں ’’اے گرل ان دی ریور‘ دی پرائس آف فار گیونیس اور سیونگ فیس بنائیں۔ ان فلموں پر انہیں آسکرایوارڈ ملے۔ اتفاق یہ ہے کہ دونوں فلموں کے موضوعات ایسے ہیں جن میں پاکستانی معاشرے بارے میں منفی امیج اجاگر ہوا جہاں پر کچھ لوگوں نے ان کی تعریف کی وہاں پر لوگوں کی ایک بڑی تعداد غلط موضوعات کے انتخاب پر ان سے ناراض بھی ہے اور اکثر لوگ ان سے اس بارے میں سوال بھی کرتے ہیں۔ چند روز قبل لاہور میں منعقد ہونے والے ہیریٹیج فیسٹیول میں مجھے بھی ان کی ایک ثقافتی نشست میں حاضری کا اتفاق ہوا۔ وہاں پر ایک ثقافتی شخصیت خالد غیاث نے بھی ان سے ایسا ہی سوال کیا جس کا انہوں نے جواب نہیں دیا۔ جب نشست ختم ہوئی تو میں نے بھی ان سے اسی نوعیت کا سوال کیا کہ آپ فلموں کے لئے ایسے موضوعات کا انتخاب کیوں کرتی ہیں۔ جن سے پاکستان کی دنیا میں بدنامی ہو اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ ’’جی ہاں میں ایسی ہی فلمیں بناتی ہوں اور ایسی ہی بناؤں گی۔‘‘ یہ کہہ کر وہ وہاں سے چل پڑیں میں بھی اپنے دو ساتھی رپورٹرز کے ساتھ ان کے ساتھ چل پڑا اور انہیں کچھ سوالات کے لئے درخواست کی جس پر انہوں نے انتہائی ناراضگی سے جواب دیا کہ میں مزید کوئی بات نہیں کرنا چاہتی اور وہاں سے چلی گئیں۔
یہ امر قابل ذکر ہے کہ ان کی دونوں فلموں اے گرل ان دی ریور اور سیونگ فیس کے بارے میں سوال صرف میرا ہی نہیں ہر ذی شعور پاکستانی کا ہے جس کا وہ کوئی جواب نہیں دینا چاہتیں۔ فلم سیونگ فیس میں کام کرنے والی رخسانہ بھی ٹی وی چینلز اور فیس بک پر ان سے پوچھ رہی ہے کہ آپ نے مجھ سے فلم میں کام کرایا اس پر آسکر ایوارڈ وصول کیا مگر مکان اور نقد رقم دینے کے وعدے پورے نہیں کئے۔خالی اشٹام پر دستخط کرنے سے انکار پر مجھ سے رابطہ ہی ختم کردیا اور الٹا مجھے یہ نقصان ہوا ہے کہ میرے خاوند نے مجھے اس فلم میں کام کرنے پر طلاق دے دی اور میرا اور میرے گھر والوں کا لوگوں نے سوشل بائیکاٹ کر دیا ہے۔
یہ امر باعث حیرت ہے کہ شرمین عبید چنائے کے نزدیک عزت کا معیار اپنے لئے کچھ اور ہے اور دوسروں کے لئے کچھ اور ہے۔ مثال کے طور پر میڈیا ذرائع کے مطابق پچھلے دنوں ان کی بہن کراچی کے ایک ہسپتال میں علاج کے لئے گئیں جہاں پر ان کا علاج ہوا۔ کچھ دن بعد فیس بک پر ان کے معالج ڈاکٹر نے ان کی بہن کو فرینڈ ریکوئسٹ بھیجی جس پر شرمین عبید چنائے نے بہت احتجاج کیا اور ایک نجی ٹی وی چینل پر آ کر بیان دیا کہ ڈاکٹر کو پتہ چل جائے گا کہ اس نے کس خاندان کے ساتھ ’’پنگا ‘‘لیا ہے۔ ان کے احتجاج پر اس ڈاکٹر کو نوکری سے فارغ کر دیا گیا۔ توجہ طلب بات یہ ہے کہ فیس بک ایک رابطے کا ذریعہ ہے اس پر فرینڈ ریکوئسٹ کا ہی ایک آپشن ہے جس کے ذریعے لوگوں کے ساتھ رابطہ ہوتا ہے۔ وہ چاہے بہن ہو‘ والدہ‘ والد ہو‘ بھائی ہو یا کوئی اور۔ ایک طرف شرمین عبید اور ان کی بہن کا گھرانہ ایساہے کہ انہیں فرینڈ ریکوئسٹ بھیجنے سے ان کے خاندان کی عزت خطرے میں پڑ گئی ہے۔ دوسری طرف وہ بے چاری رخسانہ ہے جس سے انہوں نے اپنی فلم سیونگ فیس میں کام کرایا اور پیسے نہیں دیئے۔ اسے اس فلم میں کام کرنے پر طلاق بھی ہو گئی ہے۔ لوگوں نے ان کے خاندان کا سوشل بائیکاٹ کر دیا ہے۔ کیا رخسانہ اور اس کے خاندان کی کوئی عزت نہیں۔
آج کل سوشل میڈیا پر فلم سیونگ فیس میں کام کرنے والی عورت رخسانہ کی طرف سے شرمین کو وعدے پورے کرنے کی التجاؤں اور شرمین کی بہن کو فیس بک پر فرینڈ ریکوئسٹ بھیجنے والے ڈاکٹر کی نوکری ختم ہونے پر شرمین عبید کو کافی تنقید کا سامنا ہے۔
یاد رہے کہ شرمین عبید چنائے نے دوسری اداکاراؤں میرا،وینا ملک اور ماہرہ خان کی طرح بیرون ملک بے لباسی تو اختیا نہیں کی تاہم انہوں نے اپنی فلموں کے ذریعے پاکستان کا منفی امیج پیش کر کے پوری قوم کے کپڑے اتارنے کی کوشش کی ہے۔ ثقافتی حلقوں نے شرمین عبید چنائے سے سوال کیا کہ کیا انہیں پاکستان میں برے لوگ ہی نظر آتے ہیں۔ انہیں عبدالستار ایدھی جیسے لوگ کیوں نظر نہیں آتے۔ جن کی زندگیوں پر فلمیں بنائی جا سکتی ہیں۔ تاکہ ان سے پاکستان کا اچھا امیج دنیا کے سامنے پیش کیا جا سکے۔
میری پاکستان کے ثقافتی سفیروں سے درخواست ہے کہ جب آپ لوگ بیرون ملک جاتے ہیں تو ایسے کام نہ کریں جن سے پاکستان کی بدنامی کا پہلو نکلتا ہو اور حکومت کو بھی چاہئے کہ ایسے فن کاروں پر بیرون ملک جانے پر پابندی عائد کرے جو پاکستان کی بدنامی کا باعث ہیں۔