ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کے وفد کی سینیٹ اجلاس میں شرکت

07 نومبر 2017

اسلام آباد ( نمائندہ نوائے وقت) ڈیفینس آف ہیومن رائٹس کی چیئر پرسن آمنہ مسعود جنجوعہ ،وکلاءاور سول سوسائٹی کے چیدہ چیدہ نمائندگان نے سینٹ کی کارروائی کا بغور مشاہدہ کیا اور وفد کی شکل میں چیئرمین سینٹ رضا ربانی کو لاپتہ افراد سے متعلق اپنی سفارشات پیش کیں۔جن میں حالیہ جبری گمشدگیوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے حوالے سے مطالبات پر مبنی یادداشت پیش کی گئی۔ ملاقات کے دوران آمنہ مسعود نے کہا کہ چیئرمین سینٹ اپنی بھرپور قائدانہ صلاحیتوں کے ساتھ پہلے ہی انسانی حقوق اورجبری گمشدگیوں کے حوالے سے تشویش ظاہر کر چکے ہیں اور جرا¾ت مندانہ طریقے سے پاکستانی شہریوں کے آئینی اور انسانی حقوق ، شخصی آزادیوں اور جمہوری روایات کی پاسبانی کرتے رہے ہیں۔ اس حوالے سے سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انسانی حقوق کے تحت فرحت اللہ بابر، نسرین جلیل اور سینٹر تاج حیدر بھی جبری گمشدگیوں کے خلاف بھرپور آواز ا±ٹھاتے رہے ہیں۔ان کا مزید کہنا تھا کہ یونائیٹڈ نیشنز میں ہونے والے یو پی آر میں پاکستان کو جب 194 ممالک کے سامنے اگر جبری گمشدیوں کے حوالے سے سوال اٹھے گا تو پاکستان کےا م¶قف پیش کرے گا؟۔جبری گمشدگیوں سے متعلق چیئرمین سینٹ کو گزشتہ تین سالوں کے اعداد و شمار بھی پیش کئے گئے۔