نامکمل ترقیاتی کام‘ سڑکوں‘ گلی محلوں میں گرد و مٹی نے ڈیرے جما لئے‘ بچے‘ بوڑھے بیماریوں میں مبتلا

07 نومبر 2017

لاہور (خصوصی نامہ نگار) شہر کی تعمیر و ترقی کے ذمہ دار محکموں نے ترقیاتی کام بروقت مکمل کرنے کی روایت کو یکسر نظرانداز کردیا ہے جبکہ تساہل کی پالیسی کو اپنا شیوا بنا لیا، شہر میں مختلف نامکمل ترقیاتی کاموں کے باعث سڑکوں اور گلی محلوں میں گردومٹی نے ڈیرے جما لئے، ادھیڑی ہوئی سڑکوں پر آئے روز حادثے معمول بن گئے، گڑھوں میں جمع ہونے والے پانی میں مچھر افزائش پانے لگے، گرد و غبار سے شہری خصوصاً بچے اور بوڑھے سانس کے امراض میں مبتلا ہونے لگے، بارہا شکایات اور معاملات کی بہتری کی درخواستوں کے باوجود متعلقہ حکام کے کان پر جوں تک نہیں رینگتی، ایل ڈی اے اور اس کی ذیلی ایجنسیوں اور ٹیپا اور واسا کے زیراہتمام شہر کے مختلف مقامات ترقیاتی کام جاری ہیں اور مختلف مقامات پر ایل ڈی اے اور اس کی ذیلی ایجنسیوں سے شہریوں کو شکایات ہیں کہ ٹھیکیدار اہلکاروں کی ملی بھگت سے کام مکمل کئے بغیر غائب ہو جاتے اور بارہا شکایات کے باوجود شہریوں کی شنوائی نہیں ہوتی۔ میسن روڈ کے مکینوں کو بھی ایل ڈی اے واسا اور ٹیپا سے بھی شکایت ہے چند ماہ قبل میسن روڈ اور اس سے متصل گلیوں میں واسا نے نکاسی آب کے منصوبے پر کام شروع کیا اور سڑک کو مختلف مقامات پر کھودائی بھی کی گئی، پائپ کی تنصیب کے بعد کھدائی کرنے والی مقامات کو مکمل پر کئے بغیر ٹھیکیدار نے کام کو ”اوکے“ کر دیا تھا۔ جس کے باعث وہاں کے رہائشی شدید ماحولیاتی اور آلودگی سے دوچار ہیں جبکہ میسن روڈ اور منسلک گلیوں میں بڑے بڑے کھڈوں سے گاڑیوں اور موٹر سائیکل پر گذرنے والے تو درکنار پیدل گزرنے والے شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ اہل علاقہ کا کہنا ہے کہ متعلقہ حکام کو ادھورے کام کی بارہا نشاندہی کی گئی تاہم انکا کہنا ہے کہ سڑک کی دوبارہ تعمیر کا کام جلد شروع کر دیا جائے گا، اس حوالے سے واسا حکام کا کہنا ہے کہ ایجنسی نے اپنے ذمہ کام مکمل کر لیا اب ٹیپا نے سڑک کی تعمیر کا کام مکمل کرنا ہے ۔
نامکمل ترقیاتی کام

روحانی شادی....

شادی کام ہی روحانی ہے لیکن چھپن چھپائی نے اسے بدنامی بنا دیا ہے۔ مرد جب چاہے ...