منڈا ڈیم کے لئے زمین حاصل کر لی گئی‘ پشاور اور مردان کو پانی فراہم کیا گیا: پارلیمانی سیکرٹری

07 نومبر 2017

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) قومی اسمبلی میں وقفہ سوالات کے دوران پارلیمانی سیکرٹری آبی وسائل ڈاکٹر درشن نے کہا ہے کہ منڈا ڈیم کے لئے زمین حاصل کر گئی ہے راولپنڈی اسلام آباد کو سی سی آئی میں ہونے والے فیصلہ کی روشنی میں 700 کیوسک پانی ملے گا۔ ایوان کو بتایا گیا کہ بھارت سندھ طاس معاہدہ کی خلاف ورزی کر رہا ہے بھارت کے پن بجلی کے منصوبے معاہدے کے مطابق نہیں۔ دریا¶ں میں پانی کے بہا¶ اوسط بہا¶ سے کم ہے۔ منڈا ڈیم سے پشاور اور مردان کو پانی فراہم کی جائے گا۔ وزارت مذہبی امور کی طرف سے بتایا گیا کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہوں سے زکوةٰ نہیں کاٹی جاتی ہے۔ مجاملہ ویزہ مہربانی کا ویزا ہے جو سعودی عرب سفارت خانہ اپنے اختیارات کے مطابق ان افراد کو جاری کرتاہے جو براہ راست رسائی لیتے ہیں۔ وزارت ہا¶سنگ کی طرف سے قومی اسمبلی کو بتایا گیا کہ آئینی اداروں کے ملازمین کو سرکاری رہائش گاہ آلاٹ نہیں کی جاتی ہے۔ وزیراعظم کو ترمیم بھیجی گئی ہے جس میں ان کی اہلیت کا معاملہ پیش کیا گیا ہے۔ وزارت پانی کی طرف سے ایوان کو بتایا گیا کہ بھاشا ڈیم کے لئے 37 ہزار 419 ایکڑ زمین میں سے 31 ہزار 696 ایکڑ زمین حاصل کر لی گئی ہے۔ منصوبے کے لئے وفاقی ترقیاتی پروگرام سے رقم دی جائے گی۔ منصوبہ 9 سال میں فعال ہوگا۔ داسو ڈیم کے لئے سروے اور ریونیو ریکارڈ کے مرحلہ پر کام ہو رہا ہے۔ جسے جلد مکمل کر لیا جائے گا۔ اکھوڑی ڈیم اس سال کے پی ایس ڈی پی میں شامل نہیں ہے۔ بھاشا ڈیم کے لئے مقامی آبادی کی ارسرنو آباد کاری کے لئے تین عدد ٹھیکے ایوارڈ کئے گئے ہیں۔ بڑے سول کام کے ٹھیکے سی جی بی سی چائنا کو دیئے گئے ہیں۔ کنٹریکٹر نے 23 جون 2017ءسے کام شروع کردیا ہے۔ داسو ڈیم 2023ءتک مکمل ہو جائے گا۔ وزارت پورٹ کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ گواردر پورٹ 2008 ءسے تجارت کے لئے تیار ہے اب تک 64 لاکھ 31 ہزار ٹن کارگو درآمد یا برآمد کیا گیا۔ اکتوبر سے دسمبر 2017ءتک دریا¶ں کا بہا¶ معمول سے کم رہے گا۔ فصلوں کے انشورنس کے سلسلہ میں صوبوں میں ایک ارب 96 کروڑ روپے کے دعوے ادا کئے گئے۔ وزارت قومی غذائی تحفظ کی جانب سے بتایا گیا کہ ملک کے اندر اہم غذائی آئٹمز کی بہتات ہے تاہم خط غربت سے نیچے زندگی گزارنے والوں کو خوراک کی فراہمی کے لئے کوئی تجویز نہیں۔ ملک میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کے لئے علماءو مشائخ کونسل تشکیل دی گئی ہے۔ وزارت صنعت کی طرف سے بتایا گیا کہ جنوبی وزیرستان میں چار یوٹیلیٹی سٹورز ہیں مزید تین قائم کرنے کی تجویز ہے۔ جو زم کچ‘ لدھا اور شکئی میں قائم ہوں گے۔ وزارت قومی صحت کی طرف سے بتایا گیا کہ این آئی ایچ میں براہ راست کوٹہ کی 272 آسامیاں خالی ہیں وزارت پانی کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ اس وقت 5.8 ملین ایکڑ فٹ پانی فراہم کیا جا رہا ہے۔ اس میں پنجاب کو 3.3‘ سندھ 2.2‘ بلوچستان 0.1 اور کے پی کے کو 0.09 ملین ایکڑ پانی دیا جا رہا ہے۔ راولپنڈی اور اسلام آباد کو 200 کیوسک پانی دینے کی منظوری سی سی آئی نے دی۔ اس میں سے سندھ اور پنجاب میں چوہتر 74 کیوسک ،بلوچستان 24 اور کے پی کے 28 کیوسک پانی اپنے حصے میں سے دے گا۔ وزارت صنعت کی طرف سے بتایا گیا کہ نجکاری کمشن پاکستان سٹیل ملز کی فروخت کے لئے فنانشل ایڈوائزر تعینات کرنے کے لئے کوشاں ہے۔ عالمی بینک داسو ڈیم کے لئے 588 ملین ڈالر کا قرضہ اور 460 ملین ڈالر کے جزوی قرضہ گارنٹی دے گا۔ وزارت آبی وسائل کی طرف سے بتایا گیا کہ یہ کہنا درست نہیں کہ بھارت سندھ طاس معاہدہ کی تصریحات کے مطابق عمل کر رہا ہے۔ بھارت نے متعدد خلاف ورزیاں کی ہیں بھارت پن بجلی کے جو منصوبے تیار کررہا ہے ان کے ڈیزائن معاہدہ کے طے کردہ ڈیزائن کے معیار کے مطابق نہیں۔