فاٹا میں چلغوزے پر غنڈہ ٹیکس فوری ختم کیا جائے، عائشہ گلالئی

07 نومبر 2017

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) رکن قومی اسمبلی عائشہ گلالئی نے کہا ہے کہ فاٹا میں چلغوزے پر ٹیکس لیا جارہا ہے جو غنڈہ ٹیکس ہے اس کو فوری ختم کیا جائے۔ قومی اسمبلی میں نکتہ اعتراض پر اظہار خیال کرتے ہوئے رکن قومی اسمبلی نے کہا کہ فاٹا میں مردم شماری درست نہیں ہوئی، ڈیڑھ کروڑ آبادی کو 50 لاکھ ظاہر کیا گیا ہے ، جب تک فاٹا کے بارے میں فیصلہ نہیں ہوجاتا اسے این ایف سی کا حصہ دیا جائے۔ شیر اکبر خان نے کہا کہ بونیر میں ایک افغان مہاجر کیمپ قائم کیا گیا، اس کیمپ کی اراضی اس کے مالکان کو واپس کی جائے، کیمپ میں اب بہت کم مہاجرین ہیں، اب ان کو کسی دوسرے علاقہ میں منتقل کیا جائے یا ان کو افغانستان بھیجا جائے۔ انجینئر بابر خان کنڈی نے کہا کہ ڈیرہ اسماعیل میں ایک بچی کو برہنہ کرکے ایک کلو میٹر لے جایا گیا۔ سیاسی حلقہ بندیوں کے ایشو کی وجہ سے اس بچی کی آواز دب گئی ہے، اس بارے میں خواتین ممبران نے بھی توجہ نہیں دی۔ حکومت نے اپوزیشن کو ترقیاتی فنڈز سے محروم رکھا ، حکومت کے منظور نظر مولانا فضل الرحمان کو 3 ارب روپے کے فنڈز ملے ہیں وہ نہ جانے کہاں گئے۔