پی ٹی سی ایل پنشنرز کی پنشن کا معاملہ انسانی ہمدردی کی بنیاد پر حل کیا جائے ، قائمہ کمیٹی اطلاعاتی ٹیکنالوجی

07 نومبر 2017

اسلام آباد(نوائے وقت نیوز)سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی نے زیادہ تعداد میں موبائل سموں کی فروخت کا ٹارگٹ دینے پرشدید تشویش کا اظہار کیا ہے، چیئرمین کمیٹی شاہی سیدکا کہنا تھاہ کہ لوگوں کو زبردستی سمیں دی جاتی ہیں کہ انھیں بانٹیں، 2ہزار سمیں بانٹنے کا ٹارگٹ کوئی کیسے پورا کرےگا، وہ کب تک بیچے گا، اور کیسے بیچے گا، اس سے سموں کا غلط استعمال ہوگا، ملک حالت جنگ میں ہے، دھماکوں میں چوری کی گاڑیاں استعمال ہوتی ہیں، سمیں بھی بم ہیں ان پر دھماکہ ہوتا ہے، کسی کے نام کی سم حاصل کرنا بہت آسان ہے، ان پڑھ آدمی کو کوئی بھی2ہزارروپے دے کر سم لے سکتاہے، سمیں تصدیق کرکے بیچی جائیں، کمیٹی نے متعلقہ حکام کو پی ٹی سی ایل کے ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن میں اضافہ نہ ملنے کے مسئلے کو حل کرنے کی ہدایت کردی۔پیر کو سینٹ کی قائمہ کمیٹی برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی کا اجلاس سینیٹر شاہی سید کی صدارت میں ہوا، جس میں پی ٹی سی ایل کے ریٹائرڈ ملازمین کو پنشن میں اضافہ نہ ملنے کے معاملے کا جائزہ لیا گیا، چیئرمین کمیٹی شاہی سید نے پاکستان ٹیلی کمیونیکشن ایمپلائز ٹرسٹ کے حکام سے استفسار کیا، کہ آپ کا ادارہ بنا کس لیے ہے، پنشن کے لیے آپ خود کیا کررہے ہو، آپ کا ادارہ اس لیے بنا ہے کہ لوگوں کو سہولیات دے وکلا ، عدالت جاتے ہیں اور تاریخ پر تاریخ لیتے ہیں، آپ کا کام ہے کہ تاریخیں مختصر کریں، ہمارے پاس بزرگ لوگ آتے ہیں کہ ہماری پنشن کا کچھ کریں۔سینیٹر شبلی فراز نے کہا کہ جب سے پیدا ہوئے ہیں تب سے یہ مسئلہ چل رہا ہے،اتنی میٹنگز کی ہیں لیکن ہم حل کی طرف نہیں آئے، س کے بارے میں ہمیں اپنی پوزیشن بتائےں کہ کن وجوہات کی وجہ سے یہ ممکن نہیں، اس موقع پر پاکستان ٹیلی کمیونیکشن ایمپلائز ٹرسٹ کے حکام کی جانب سے بتایا گیا کہ ہمارا ٹرسٹ آذاد ہے بورڈ آف ٹرسٹیز کو حق دیا گیا ہے کہ وہ سالانہ اضافے کے بارے میں فیصلہ کریں گے۔ہم نے حکومت کی جانب سے کیے گئے اضافے کی 2010تک پیروی کی ہے، ہم پہلی تاریخ سے پہلے ہی پنشن دیتے ہیں۔حکام نے مزید بتایا کہٹیلی کام ڈپارٹمنٹ کے ملازمین کی پینشن کی ادائیگی کا انتظام کرنے کے لئے ، ایک ٹرسٹ ، پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن(Re-organization) ایکٹ مجریہ 1996 ءکے تحت قائم کیا گیا۔اس کے بورڈ میں 6 ٹرسٹیز ہیں، جن میں سے 3 کو وفاقی حکومت مقرر کرتی ہے اور بقیہ 3 کمپنی کی جانب سے 3 سالہ مدت کے لئے مقرر کئے جاتے ہیں۔پی ٹی سی ایل کا اس عمل میں اس حد تک حصہ ہے جتنا کہ غیر ادا شدہ پنشن کی نمائندگی کر نے والی ایکچوری نے اس کو مقرر کیا ہو۔پی ٹی سی ایل باقاعدگی سے اپنی ذمہ داریاں نبھا رہا ہے اور گزشتہ چند برسوں میں پی ٹی سی ایل نے ٹرسٹ کو 48 بلین روپے دیئے ہیں۔انہوں نے کہا کہ پنشن ٹرسٹ نہ صرف باقاعدگی سے پینشن کی ادائیگی کررہا ہے بلکہ 1996 ءکے ایکٹ کے ضابطوں کے مطابق اس میں سالانہ اضافہ بھی کرتا ہے۔ پی ٹی سی ایل اور پی ٹی ای ٹی (PTET) مکمل طور پر قانونی شرائط پوری کررہے ہیں اور سپریم کورٹ کے تمام احکامات پر اس کی اصل روح کے مطابق عمل کررہے ہیں۔چیئرمین کمیٹی شاہی سید نے کہا کہ 7ارب روپے سالانہ پنشن کی مد میں انھیںدیئے جاتے ہیں۔یہ باتیں غلط ہیں کہ پی ٹی سی ایل دیوالیہ ہوجائے گا،نہ پاکستان ٹیلی کمیونیکشن ایمپلائز ٹرسٹ نقصان میں چل رہا ہے نہ پی ٹی سی ایل،پی ٹی سی ایل کما بھی رہا ہے، پی ٹی سی ایل کی نجکاری نہیں کرنی چاہیے تھی، ہم چاہتے ہیں کہ پنشن کے مسئلے کو اضافی توجہ دے کر حل کیا جائے، چیئرمین کمیٹی نے متعلقہ حکام کو ہدایت کی اس مسئلے کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر حل کیا جائے۔اس موقع پر ایف بی آر کے حکام کی جانب سے کمیٹی کو بتایا گیا کہ تین موبائل کمپنیاں اپنا ڈیٹا ایف بی آر کو سوفٹ ویئر پر دے چکی ہیں ،جن میں یوفون، ٹیلی نار اور موبی لنک شامل ہے،جبکہ زونگ کا ڈیٹا بھی جلد مل جائے گا۔آنے والے دنوں میں پہلے ٹیلی نار کا ٹرانزیکشنل آڈٹ کریں گے پھر دوسری کمپنیوں کا آڈٹ کریں گے۔ آڈٹ میں یہ بھی دیکھا جائے گا کہ کمپنی نے صارفین کو کتنے کارڈز دیئے یہ بھی دیکھا جائے گا کہ کارڈ کتنے اپ لوڈ ہوئے ماہانہ ایک کمپنی سے ایک ارب روپے ود ہولڈنگ ٹیکس وصول ہوتا ہے، چیئرمین کمیٹی شاہی سید نے کہا کہ ایف بی آر کو سالانہ113 ارب موصول ہونا چاہیے،غریب آدمی سے ٹیکس نہیں کاٹنا چاہیے۔