مقبوضہ کشمیر : یوم شہدائے جموں عقیدت واحترام کیساتھ منایا گیا م بھارتی مظالم کیخلاف مظاہرے

07 نومبر 2017

سری نگر(کے پی آئی+آن لائن+اے پی پی)حریت کانفرنس ، جموں وکشمیر فریڈم پارٹی ، تحریک مزاحمت، سالویشن مومنٹ اور ماس مومنٹ نے 1947میںقیام پاکستان کے موقع پرجموں میں فرقہ پرستوں کے ہاتھوں شہیدکئے گئے افراد کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے مقبوضہ کشمیر میں یوم شہدائے جموں انتہائی عقیدت و احترام سے منایا۔ اس موقع پر حریت کانفرنس (ع) کے چیئرمین میر واعظ عمر فاروق نے شہداء کو خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہا ہے کہ تقسیم ہند اور قیام پاکستان کے موقع پر فرقہ پرست بلوائیوںاور جنونی قوتوں نے جموں کے لاکھوں نہتے اور معصوم مسلمانوں کو گاجر اور مولی کی طرح کاٹ کر بدترین قتل عام کا مظاہرہ کیا تھا۔ ان شہدا نے سرفروشی کی ایک منفرد تاریخ رقم کی ہے۔فریڈم پارٹی نے خراج عقیدت ادا کرتے ہوئے کہاتقسیم ہند کے موقع پر بھارتی قیادت نے ایک طرف ریاست پر طاقت اور بندوق کے بل پر قبضہ جمایا اور دوسری طرف جموں میں مسلم شناخت مٹانے کیلئے قتل و غارت گری کا بازار گرم کیا۔ ادھر کنٹرول لائن پر بھارتی فورسز کے ہاتھوں شہید ہونیوالے 2 نوجوانوں کی میتیں 24گھنٹے بعد بھی نہ اٹھائی جا سکیں۔بھارتی فورسز لاشیں تحویل میں لینے کے حوالے سے ابہام کا شکار، کارروائی کا الزام پاکستان پر ڈال دیا۔مقبوضہ کشمیر میں بھارت کے دفاعی ترجمان کرنل راجیش کالیاکی طرف سے جاری بیان میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ روز سرحدی ضلع بارہمولہ کے علاقے کمل کوٹ اوڑی سیکٹر کے علاقے دو لنجہ میں سرحد پار سے جنگجوؤں کے ایک گروپ نے دراندازی کی کوشش کی اور بھارتی فورسز سے کے تبادلہ میں دو نوجوان مارے گئے جن کی شناخت نہیں ہو سکی۔ بھارتی فورسز لاشوں کو تحویل میں لینے سے کنی کترا رہی ہے اسے ڈر ہے لاشوں کے قریب جانے سے پاکستان کی جانب سے اہلکاروں کو نشانہ بنایا جائے گا۔بھارتی حکام نے الزام لگایا ہے کہ دونوں شہید پاکستانی بیٹ ٹیم کا حصہ تھے۔ علاوہ ازیں اے پی پی کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں ضلع پلوامہ کے علاقے مونگہ ہامہ میں لوگوں نے بھارتی فوج کے آپریشن کے خلاف زبردست احتجاجی مظاہرے کئے۔ بھارتی فوجیوں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس سمیت طاقت کا وحشیانہ استعمال کیا۔ قبل ازیں فورسز نے علاقے کا محاصرہ کرلیا اور گھرگھر تلاشی کی کارروائی شروع کردی جس کے خلاف لوگ گھروں سے باہر نکل آئے اور احتجاجی مظاہرے شروع کئے۔ بھارتی اہلکاروں نے مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس اور پاوا شیل کے گولے داغے جس سے افرا تفری کا ماحول پیدا ہو گیا اور لوگ محفوظ مقامات کی طرف بھاگنے لگے۔ بھارتی فورسز نے مزید کمک طلب کرکے علاقے کا محاصرہ مزید سخت کردیا اور رات بھر آپریشن جاری رکھا۔ دریں اثناء کل جماعتی حریت کانفرنس نے کشمیر ی عوام کو سب سے زیادہ فوجی دباؤ کا شکار ہونیوالی انسانی آبادی قرار دیتے ہوئے افسوس ظاہر کیا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی جمہوریت کا دعویدار بھارت کشمیریوں کو فوجی طاقت کے بل پر اظہاررائے کی آزادی کے حق سے محروم رکھنے کی سامراجی پالیسی پر گامزن ہے۔ انہوںنے بھارت کے زیرِ تسلط گزشتہ ستر برس کے دوران نہتے کشمیریوں کی قربانیوں کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری حریت قیادت کسی بھی صورت قوم کو مایوس نہیں کرے گی۔ بھارت کی طرف سے محض وقت گزاری کیلئے مذاکرات کا شوشہ گھڑنے کی روائتی پالیسی کو یکسر مسترد کرتے ہیں۔ انہوںنے گزشتہ شب کسی سرکاری نمائندے کی طرف سے بھارتی مذاکرات کار کے ساتھ ملاقات کیلئے حریت چیئرمین سیدعلی گیلانی پر دباؤ بڑھائے جانے کا انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ اس طرح کی جبری مذاکرات کا کوئی اخلاقی یا سیاسی جواز نہیں۔ انہوںنے واضح کیاکہ حریت پسند رہنماؤں کو ظلم و جبر کے ساتھ اپنے موقف سے دستبردار نہیں کیا جاسکتا۔دوسری طرف مقبوضہ کشمیر ہائی کورٹ بار نے جموں وکشمیر لبریشن فرنٹ کے چیئرمین محمد یاسین ملک اور دیگر دو افراد کے خلاف سترہ سال پرانے کیس میں انفورسمنٹ ڈائریکٹوریٹ کے نوٹس کو غیر قانونی قراردیتے ہوئے کہا ہے کہ اس کا مقصد آزادی پسندکشمیری قیادت کی تضحیک اور تذلیل کرنا ہے۔
مقبوضہ کشمیر