اسموگ : لوڈشیڈنگ 18 گھنٹے تک جاپہنچی ، حادثات سے مزید 18 جاں بحق

07 نومبر 2017

لاہور/خیر پور/کشمور(نوائے وقت رپورٹ/نامہ نگاران) لاہور سمیت پنجاب کے مختلف شہروں میں شدید دھند اور اسموگ کا راج گزشتہ روز بھی برقرار رہا جس سے معمولات زندگی شدید متاثر ہو رہے ہیں ، حد نگاہ کم ہوجانے کی وجہ سے مختلف ٹریفک حادثات میں7افراد جاں بحق جبکہ طالبات سمیت 72سے زائد افراد زخمی ہوگئے۔موٹر وے کے مختلف سیکشن بند کر دیئے گئے۔ائیرپورٹس پر فلائٹ آپریشن بھی شدید متاثر ہو رہا ہے ،متعدد پروازیں منسوخ ہونے کے ساتھ تاخیر کا بھی شکار ہوئیں، محکمہ تحفظ ماحول پنجاب کی جانب سے آلودگی کے باعث بننے والے مزید 60کارخانوں کے خلاف ایف آئی آر درج کرا دی گئیں۔ تفصیلات کے مطابق پنجاب کے مختلف علاقوں میں صبح کے وقت شدید دھند اور ا سموگ نے لوگوں کی زندگی اجیرن کردی اور کام پر جانے میں شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ ماہرین کے مطابق چھوٹے بچے ، بوڑھے افراد ، دل کے مریض اور سانس کے مریض گھر کے اندر رہیں اور غیرضروری طور پر باہر نکلنے سے گریز کریں۔ماسک کا استعمال کریں، اگر کار میں ہیں تو شیشے چڑھا کر رکھیں۔ڈاکٹرز کا کہناہے کہ اسموگ سے متاثرہ افراد انفلوئنزہ کے حفاظتی ٹیکے ضرور لگوائیں۔ شہریوں کو مشورہ دیا ہے کہ سموگ کے دوران کھلی فضا میں ورزش یا جوگنگ سے بھی اجتناب کریں۔شاہ کوٹ میں سانگلہ روڈ پرگاڑی نے دھند کے باعث ایک شخص کوکچل دیا جبکہ چوک سرورشہید روڈ پرسناواں موڑکے قریب کار بس سے ٹکرا گئی جس کے نتیجے میں 4افراد زخمی ہوگئے۔پنڈی بھٹیاں میں چنیوٹ روڈ پرکارنالے میں گرگئی، حادثے میں ایک شخص جاں بحق جبکہ 3افراد زخمی ہوگئے۔لاہورروڈ پردھند کے باعث ٹریفک حادثے میں 7افراد زخمی ہوگئے جنہیں طبی امداد کے لیے ٹی ایچ کیو ہسپتال منتقل کردیا گیا ۔میانوالی میں اسکول وین اور مرغیوں سے بھرے ٹرک میں تصادم سے 10طالبات زخمی ہوگئیں۔ کندھ کوٹ میں انڈس ہائی وے پر ٹرالر نے رکشہ کو ٹکر مار دی جس کے نتیجے میں 12 طلبہ اور رکشہ ڈرائیورزخمی ہوگئے جن میں سے 8کی حالت نازک بتائی جاتی ہے۔ جنہیںکشمور سول اسپتال منتقل کرنے کے بعد رحیم یارخان پہنچادیاگیا جہاں چنگچی رکشہ ڈرائیور گل محمد لاشاری اور طالب علم شفیق عباسی دم توڑ گئے ۔ ادھر مانگھڑ پھاٹک کے مقام پر کراچی سے ڈیرہ غازی خا ن جانے والی مسافر کوچ اور ٹرالر میں شدید دھند کے باعث ٹکر ہوگئی جس کے نتیجے میںمسافر کوچ کے سوار20 افرادزخمی ہوگئے جنہیں سول اسپتال کشمور منتقل کردیاگیا۔ خیرپورمیں موٹرسائیکلوں او رٹرک کے تصادم میںچار خواتین دوبچوں سمیت 12 افرادزخمی ہوگئے۔ ظفروال کے علاقے میں نجی کالج کی وین الٹ گئی جس کے باعث 12 طالبات زخمی ہوگئیں۔سموگ کی وجہ سے جی ٹی روڑ 6والا پھاٹک کے قریب کار اور ٹرک کے تصادم میں 4افراد زخمی ہوئے جبکہ جھنگ روڈ پردومختلف ٹریفک حادثات میں 3افراد زخمی ہوئے۔ترجمان موٹروے پولیس کے مطابق لاہورشہراورگردنواح میں دھند کاراج رہا، لاہور میں حدنگاہ20سے30میٹررہ گئی ۔لاہور سے چیچہ وطنی تک حدنگاہ صرف30میٹررہ گئی ۔ترجمان موٹروے پولیس نے موٹروے بندکرنے سے متعلق بتایاکہ موٹروے ایم تھری پنڈی بھٹیاں سے فیصل آباد تک ٹریفک کیلئے بند کردی گئی ۔اس کے علاوہ موٹروے ایم فورفیصل آباد سے گوجرہ تک ٹریفک کیلئے بند کی گئی۔ترجمان کے مطابق موٹروے کوٹ مومن سے سیال موڑ تک حدنگاہ50سے60میٹررہ گئی ۔سیال موڑسے خانقاہ ڈوگراں تک حد نگاہ 70 سے 100 میٹررہی۔ترجمان موٹروے نے ہدایت کی ہے کہ شہری سموگ ودھند کے دوران غیرضروری سفر سے گریز کریں۔ موٹروے پولیس نے مسافروں کوگاڑیوں پرفوگ لائٹس استعمال کرنے کا مشورہ دیا ہے۔ لاہور ائیرپورٹ پر بھی دھند کے باعث 40پروازیں متاثر ہوئیں جن میں سے 12منسوخ اور 28تاخیرکا شکار رہیں ۔ دوسری جانب اسموگ کی موجودہ صورتحال سے نمٹنے کے لیے بہتر منصوبہ بندی کے تحت تمام متعلقہ اداروں کی مربوط منظم جدوجہد جاری ہے اور محکمہ تحفظ ماحول پنجاب کی جانب سے آلودگی کے باعث بننے والے 236صنعتی یونٹس سیل کیے جاچکے ہیں۔صوبائی وزیر تحفظ ماحول پنجاب بیگم زکیہ شاہنواز کے مطابق مزید 60کارخانوں کے خلاف کریک ڈائون کرتے ہوئے ایف آئی آر درج کرا دی گئی ہیں۔محکمہ تحفظ موحولیات پنجاب کی جانب سے کسانوں کو فصلوں کو آگ لگانے کی بجائے متبادل طریقہ کار کے استعمال کے بارے میں آگاہی دی گئی ہے جبکہ گردوغبار کے تدارک کے لیے لاہور ویسٹ مینجمنٹ کمپنی نے 17000کلومیٹر سڑکوں کو صاف بھی کیا۔دریں اثناء انچارج کنٹرول روم گڈو تھرمل اسٹیشن نے کہا ہے کہ ہائی ٹرانسمشن لائنوں پر مرمتی کام مکمل کر لیا گیا ہے۔ سندھ، پنجاب اور بلوچستان کے کئی گرڈ اسٹیشن کو بجلی کی فراہمی شروع کر دی گئی ہے۔ ہائی ٹرانسمشن لائن گزشتہ رات دھند کی وجہ سے ٹرپ ہوئی تھی۔
اسموگ / حادثات