معروف سائنسدان ڈاکٹر نعیم الرحمن کی ایجاد کردہ د واامریکہ میں منفرد قراردی گئی

07 نومبر 2017

کراچی(غزالہ فصیح) معروف پاکستانی سائنسدان اور ماہر امراض جلد ڈاکٹر نعیم الدین کی ایجاد کردہ دواUSPTO امریکہ میں پیٹنٹ ‘ ایجاد کوNovel(منفرد) قراردے دیا گیا۔ پاکستان کے لئے اعزاز حاصل کرنا فخر کا باعث ہے۔ ڈاکٹر نعیم الدین کی نوائے وقت سے گفتگو۔ تفصیلات کے مطابق کراچی کے رہائشی ڈاکٹر نعیم الدین نے hyperhidrosis نامی بیماری جس کا ابھی تک کوئی علاج نہیں تھا۔ اس کی نامیاتی دوا تیار کرلی ہے جیسے امریکہ میں بھی پیٹنٹ(مستند) قرار دے دیا گیا۔ ہائپر ہائیڈروس نامی بیماری میں دنیا کی 3 فیصد آبادی میں پائی جاتی ہے۔ جلدی بیماری میں سر‘ چہرہ‘ بغل‘ پیٹ اور ٹانگوں سے بے انتہا پسینے کا اخراج ہوتا ہے۔ بیماری عام طور پر 2 سال کی عمر سے شروع ہوجاتی ہے اس عمر کے بچوں کو پڑھائی لکھائی میں مشکل درپیش ہوتی ہے جبکہ بے انتہا پسینے کے باعث مکینکل کام کرنے والوں اور خواتین کو گھریلو کام کاج میں دشواری ہوتی ہے۔ نیز جسم سے زیادہ پسینے کے بہنے سے نمکیات کا حد سے زیادہ اخراج ہوتا ہے جو صحت کے دیگر مسائل کا باعث بنتا ہے۔ ڈاکٹر نعیم الدین نے بتایا کہ دنیا کی مشہور جلد کی کتاب Rook text Book of Dermatology میں بھی اس بیماری کا کوئی مستند علاج موجود نہیں۔ ڈاکٹر نعیم نے یہ دوا سبزی سے بنائی ہے جو صرف جلد پر لگائی جاتی ہے اور کوئی سائیڈ ایفکٹ نہیں رکھتی۔ امریکہ میں اس دوا کو منفرد ایجاد قرار دیا گیا۔ ڈاکٹر نعیم نے بتایا انہوں نے 32 سال کی تحقیق کے بعددوا تیار کی۔ اس کا بنیادی جزو پارسلے سے حاصل کیا گیا۔ ایلوپیتھک دوائی کی تیاری کے لئے پاکستان میں وڈ ورڈز کو حقوق دے دیئے گئے ہیں۔
ڈاکٹرنعیم/ دوا