بلدیہ فیکٹری کو آگ لگانے میں 4 افسران بھی ملوث تھے ، سلمان مجاہد کا انکشاف

07 نومبر 2017

کراچی (کرائم رپورٹر) سانحہ بلدیہ ٹائون کے معاملے میں ایک اور ڈرامائی موڑ‘ دبئی میں حماد صدیقی کی گرفتاری کے بعد پارٹی ڈسپلن کی خلاف ورزی پر ایم کیو ایم پاکستان سے نکالے جانے والے رکن قومی اسمبلی سلمان مجاہد بلوچ نے تحقیقات میں تعاون کی پیشکش کر دی جبکہ اس پیشکش کے ساتھ ہی سلمان مجاہد بلوچ نے 4 سرکاری افسر ان پر بلدیہ ٹائون کی گارمنٹ فیکٹری میں آتشزنی کے واقعہ میں سہولت کاری کا الزام بھی عائد کیا ہے جس میں خواتین سمیت 260 افراد لقمہ اجل بن گئے تھے۔ رکن قومی اسمبلی سلمان مجاہد بلوچ جنہیں سینیٹ میں عدالت سے نااہل قرار پانے والے شخص کو پارٹی صدر بنانے کیلئے ترمیمی بل کے حق میں ووٹ دینے پر ایم کیو ایم پاکستان کی بنیادی رکنیت سے خارج کر دیا گیا تھا‘ نے ڈائریکٹر جنرل پاکستان رینجرز سندھ کو بھیجے گئے ایک خط میں الزام لگایا ہے کہ بلدیہ ٹائون فیکٹری کو آگ لگانے میں 4 سرکاری افسران نے سہولت کاری کی تھی جن میں اکمل صدیقی‘ مرزا آصف بیگ‘ امیر علی قادری اور شاہنواز بھٹی شامل ہیں۔ خط کے مطابق مذکورہ چاروں افسران بلدیہ ٹائون فیکٹری کو آگ لگانے والے ملزم رحمان بھولا سے رابطے میں تھے اور شاہنواز بھٹی نے ایم کیو ایم کے سیکٹر انچارج رحمان بھولا کی ہدایت پر فیکٹری کی مشینری بھی منتقل کی تھی۔ خط میں کہا گیا ہے کہ چاروں افسران سانحہ بلدیہ کی تحقیقات کے دوران فرار ہو گئے تھے اور اب دوبارہ بلدیہ زون میں واپس آ چکے ہیں اگر انہیں گرفتار کیا جائے تو اہم انکشافات ہوں گے۔ رکن قومی اسمبلی سلمان مجاہد بلوچ نے خط میں یہ پیشکش بھی کی کہ وہ سانحہ بلدیہ ٹائون سے متعلق تحقیقات میں تعاون پر تیار ہیں۔ واضح رہے کہ واقعہ میں تقریباً 260 افراد زندہ جلا دئیے گئے تھے۔
بلدیہ فیکٹری/ آگ