جاپان کا شمالی کوریا کے 35 اداروں شخصیات کے اثاثے منجمد کرنے کا اعلان‘ پیانگ یانگ کے حوالے سے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا : ٹرمپ

07 نومبر 2017

ٹوکیو (اے این این‘ اے ایف پی) جاپان نے شمالی کوریا کے 35 اداروں اور شخصیات کے اثاثے منجمد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ادھر جنوبی کوریا نے بھی شمالی کوریا کے18شہریوں پر تجارتی پابندیاں لگا دیں۔ یہ اعلان جاپان کے وزیراعظم شنزو ایبے نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ہمراہ پریس کانفرنس میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ شمالی کوریا کو جوہری اور میزائل پروگرام پر پیشرفت سے روکنے کیلئے کیا گیا ہے۔ ادھر جنوبی کوریا نے بھی شمالی کوریا کے خلاف نئی پابندیاں عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔ یہ اعلان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے سیﺅل پہنچنے سے ایک دن قبل کیا گیا ہے۔ جنوبی کوریا کی نئی پابندیوں کے تحت چین‘ روس اور لیبیا میں مقیم 18 ایسے بینکرز کو بلیک لسٹ کردیا گیا ہے جن کے شمالی کوریا کے جوہری اور میزائل پرواگرام سے منسلک ہونے کا شبہ ہے۔ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ شمالی کوریا کے حوالے سے امریکہ کے صدر کا پیمانہ لبریز ہوچکا ہے۔ جاپانی دارالحکومت ٹوکیو میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ شمالی کوریا کا جوہری پروگرام مہذب دنیا اور بین الاقوامی امن و استحکام کیلئے خطرہ بن چکا ہے اور اس حوالے سے امریکہ کے سٹریٹجک صبر کا دور ختم ہوچکا ہے۔ اس موقع پر جاپان کے وزیراعظم شنزو ایبے نے شمالی کوریا کے بارے میں امریکی صدر کے خیالات کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ اشتعال انگیز اقدامات پر شمالی کوریا کو لگام دینے کیلئے فوجی کارروائی سمیت تمام آپشن کھلے رکھنے کی امریکی پالیسی درست ہے۔ انہوں نے کہا کہ جاپان کی طرف سے نئی پابندیوں کا مقصد شمالی کوریا کو جوہری اور میزائل پروگرام جاری رکھنے پر سزا دینا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ شمالی کوریا کی سکیورٹی فورسز نے متعدد جاپانی شہریوں کو اس غرض سے اغواءکررکھا ہے کہ وہ اس کے جاسوسوں کو جاپانی زبان سکھا سکیں۔ دریں اثناءاس موقع پر امریکی ذرائع ابلاغ کی طرف سے جاری رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ امریکی صدر شمالی کوریا کے جوہری پروگرام کا تنازع حل کرنے کیلئے بات چیت پر بھی تیار ہیں۔
پابندیاں