یمن کی ناکہ بندی‘ ایران نے میزائل حملہ کرایا : سعودی اتحاد : جنگی جرائم میں ملوث کولیشن کا الزام مسترد کرتے ہیں : تہران

07 نومبر 2017

ریاض(اے پی پی+ اے ایف پی) سعودی عرب کی قیادت میں یمن میں آئینی حکومت کی بحالی کے لیے قائم عرب فوجی اتحاد نے عارضی طور پر یمن کی بری، بحری اور فضائی حدود بند کر دیں۔ فیصلہ ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب باغیوں نے دو روز قبل سعودی عرب پرایک میزائل سے حملہ کیا تھا مگر مزید حملوں سے بچنے کے لیے سرحد سیل کر دی ہے۔ بیان میں حوثیوں کے سعودی عرب پر بیلسٹک میزائل حملے کو ایران کی طرف سے مملکت پر براہ راست حملہ اور جنگ قرار دیا اور کہا ایران نے حملہ کر دیا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ سعودی عرب کو اپنے دفاع کا بھرپور حق حاصل ہے۔کسی ملک کو سعودی عرب کی سرزمین اور قوم کو میلی آنکھ سے دیکھنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ عرب اتحاد نے سلامتی کونسل پر زور دیا ہے کہ وہ یمن سے متعلق قرارداد 2216 پر عمل درآمد کرتے ہوئے حوثی باغیوں کے خلاف فوری کارروائی کرے۔ دوسری طرف سعودی عرب نے حوثی باغیوں اور مسلح ایرانی ملیشیاو¿ں سے وابستہ 40 افراد کی فہرست جاری کردی ۔سعودی اخبار کے مطابق مطلوب افراد کی گرفتاری میں مدد کرنے والوں کو 5 ملین ڈالر سے 30 ملین ڈالر تک انعام کا اعلان کیا گیا ہے۔ جاری فہرست میں مطلوب افراد کی تصاویر اور نام کے علاوہ ان کی گرفتاری میں مدد دینے والوں کے لئے انعامی رقم درج ہے۔ بڑی رقم 30 ملین ڈالر حوثی باغیوں کے سربراہ عبدالمالک حوثی پر رکھی گئی ہے۔ 10مطلوب افراد کی گرفتاری پر 20 ملین ڈالر،ایک مطلوب پر15ملین ڈالر، 11مطلوب افراد پر10ملین ڈالر جبکہ فہرست کے باقی مطلوب عناصر پر5 ملین ڈالر انعام رکھا گیا ہے۔سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیر نے کہا قومی سلامتی کی خلاف ورزی برداشت نہیں کریں گے۔ ایرانی مداخلت سے خطے میں ہمسایہ ممالک کی سلامتی کو خطرات اور اس کے عالمی امن و سکیورٹی پر بھی اثرات ہوتے ہیں۔ ترجمان نے کہا حوثی باغیوں کے لئے ایران سے آنے والے اسلحہ کی سپلائی روکنے کے اقدامات کئے۔ ٹرمپ نے بھی ایران پر حملے کا الزام لگایا۔ امدادی کارکنان کو یمن تک رسائی ہو گی۔ ادھر ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے الزامات کو مسترد کر دیا۔ بہرام نے کہا الزامات اشتعال انگیز اور غیر منصفانہ ہیں۔ سعودی اتحاد جنگی جرائم میں ملوث ہے۔ اس لئے ردعمل میں باغیوں نے میزائل ریاض ائرپورٹ پر داغا تھا۔
سعودی/اتحاد