ننکانہ میں ساتھیوں پر پولیس تشدد کیخلاف لاہور ڈویژن کے وکلا کی ہڑتال، ہائیکورٹ بار کا اظہار لاتعلقی

07 نومبر 2017

لاہور، ننکانہ صاحب(وقائع نگار خصوصی+نامہ نگار)پنجاب بار کونسل کی اپیل پر ننکانہ صاحب میں وکلاءپر پولیس تشدد کے خلاف لاہور ڈویژن میں وکلاءکی مکمل ہڑتال اور عدالتوں کا بائیکاٹ، ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف فوری کارروائی کا مطالبہ۔ ننکانہ صاحب میں باباگورو نانک انٹرنیشنل یونیورسٹی کے سنگ بنیاد رکھنے تک ڈسٹرکٹ بار ننکانہ صاحب کے وکلاءنے چیئرمین متروکہ وقف املاک بورڈ صدیق الفاروق کی ننکانہ صاحب داخلہ پر پابندی لگا رکھی تھی گزشتہ روز سکھ مذہب کے بانی اور روحا نی پیشوا بابا گورو نانک کے 549ویں جنم دن کی تقریب کے دوران چیئرمین صدیق الفاروق درجنوں مسلح گارڈوں کے ہمراہ گورودوارہ جنم استھان ننکانہ صاحب پہنچے جس پر بابا گورو نانک انٹرنیشنل یونیورسٹی بچاﺅ تحریک کے کنوینئر محمد امین بھٹی، صدر ڈسٹرکٹ بار ننکانہ رائے محمد اکرم بھٹی، جنرل سیکرٹری رائے قاسم مشتاق کھرل کی قیادت میں درجنوں وکلاءنے ضلع کچہری سے احتجاجی ریلی نکالی اور چیئرمین صدیق الفاروق کے خلاف سخت نعرہ بازی کی اس موقع پر مقامی پولیس کی طرف سے وکلاءپر لاٹھی چارج کیا گیا جس کے نتیجہ میں متعدد وکلاءشدید زخمی ہوگئے پولیس گردی کے مذکورہ واقعہ کا نوٹس لیتے ہوئے پنجاب بار کونسل کی اپیل پر لاہور ڈویژن میں وکلاءنے مکمل ہڑتال کی اور عدالتوں کا بائیکاٹ کیا، کوئی بھی وکیل کسی بھی عدالت میں پیش نہ ہوا جس کے باعث دور دراز سے آنے والے سائلین کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا جبکہ عدالتوں میں کیسوں پر نئی تاریخیں ڈال دی گئی۔ لاہور ڈویژن میں ہڑتال کے اعلان سے لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن نے لاتعلقی ظاہر کر دی اور واضح کیا کہ سائلین کی مشکلات کی وجہ سے ہائیکورٹ میں وکلا مقدمات کی پیروی کے لیے پیش ہوں گے۔ لاہور ہائیکورٹ بار نے ہڑتال میں حصہ نہیں لیا اور وکلا ہائیکورٹ میں مقدمات کی پیروی کے لیے پیش ہوتے رہے۔ لاہور ہائیکورٹ بار ایسوسی ایشن کے عہدیداروں نے واضح کیا کہ وہ پولیس تشدد کی بھرپور مذمت کرتے ہیں لیکن سائلین کی مشکلات کے پیش نظر وکلا عدالتوں میں پیش ہوں گے۔
وکلا ہڑتال