پارلیمانی کمیٹی برائے نیب قانون کا اجلاس، اختلاف برقرار

07 نومبر 2017

اسلام آباد (وقائع نگار خصوصی) پارلیمانی کمیٹی برائے احتساب قانون کے اجلاس میں عوامی عہدیداروں کا تاحال تعین نہیں کیا جا سکا۔ سیاسی جماعتوں میں پبلک آفس ہولڈر کی تعریف پر اختلاف رائے پایا جاتا ہے ۔ پارلیمانی کمیٹی کے آئندہ اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف اور دیگر جماعتوں کے اعتراضات کا جائزہ لیا جائے گا اس بات کا فیصلہ پارلیمانی کمیٹی برائے احتساب قانون کے اجلاس میں کیا گیا جو پیر کو کمیٹی کے چیئرمین زاہد حامد کی زیر صدارت منعقد ہوا پارلیمانی کمیٹی کے اجلاس میں پاکستان تحریک انصاف کی شیریں مزاری نے کہا ہے کہ نئے قانون کے ذریعے کرپٹ مافیا کو تحفظ دینے کی کوشش کی گئی تو دھرنا ہو گا جبکہ پاکستان پیپلزپارٹی اداروں کے درمیان ماحول بہتر رکھنے کے لئے ججوں اور جرنیلوں کے لئے ایک قانون کے تحت احتساب کی تجویز سے دستبردار ہوگئی ہے۔ اجلاس کے بعد وفاقی وزیر قانون و انصاف چیئرمین کمیٹی زاہد حامد کہا ہے کہ نئے قانون کے بارے میں جماعت اسلامی پاکستان کی تجاویز سے آگاہ کر دیا گیا ہے۔ جماعت اسلامی نے تحریری طور پر نئے قانون میں نقائص کی نشاندہی کی ہے۔ پاکستان تحریک انصاف کے اعتراضات سے بھی کمیٹی کو باضابطہ طور پر آگاہ کر دیا گیا ہے ۔ متذکرہ دونوں اپوزیشن جماعتوں نے نیب آرڈیننس 1999ء کو برقرار رکھتے ہوئے ترامیم کے ذریعے اس میں اصلاح احوال کیلئے ردوبدل کی تجاویز دی ہیں۔
پارلیمانی کمیٹی