کرپشن کیس: شرجیل میمن نے گرفتاری احتساب عدالت میں چیلنج کردی

07 نومبر 2017

کراچی( وقائع نگار ) پاکستان پیپلز پارٹی کے رہنما اور سابق وزیر اطلاعات سندھ شرجیل انعام میمن نے اپنی گرفتاری کو احتساب عدالت میں چیلنج کردیا، میری گرفتاری کو غیر قانونی اور حبس بے جا قرار دیا جائے ، 23 اکتوبر کو میری گرفتاری کے لیے کوئی وارنٹ جاری نہیں ہوا تھا۔ پیر کو سابق صوبائی وزیر شرجیل میمن اور دیگر ملزمان کو محکمہ اطلاعات سندھ میں پونے 6 ارب روپے کی کرپشن کے کیس کی سماعت کے لیے کراچی کی احتساب عدالت میں پیش کیا گیا۔ شرجیل میمن نے احتساب عدالت میں گرفتاری چیلنج کرتے ہوئیعدالت سے استدعا کی کہ اس کی گرفتاری کو غیر قانونی اور حبس بے جا قرار دیا جائے ۔ملزم کے وکیل عامر رضا نقوی نے کہا کہ نیب نے شرجیل میمن و دیگر ملزمان کی گرفتاری ظاہر کرنے میں عدالت کو گمراہ کیا اور جھوٹ بولا گیا کہ ملزمان کو پاسپورٹ آفس سے گرفتار کیا گیا حالانکہ گرفتاریاں عدالتی حدود سے ہوئیں۔ شرجیل میمن کے وکیل نے کہا کہ نیب نے سندھ ہائی کورٹ کے حکم سے متعلق بھی غلط بیانی کی جس پر اس کے خلاف کارروائی ہونی چاہیئے اور نیب کے بیان کی رو سے دیگر ملزمان کی گرفتاری غیرقانونی ہے، جبکہ ملزمان کو جیل میں بی کلاس کی سہولت دی جائے۔دوسری جانب سے نیب پراسیکیوٹر نے کہا کہ کیس میں نا قابل ضمانت وارنٹ جاری ہوچکے تھے اور عبوری ضمانت ملنے پر وارنٹ عارضی طور پر معطل ہوا تھا جو ضمانت کی مدت ختم ہونے پر دوبارہ بحال ہوگیا۔
گرفتاری چیلنج