شاہ لطیف پر امن سرزمین سے دہشتگردوں کوامن کا پیغام دیناچاہتے ہیں : بلاول

07 نومبر 2017

کراچی( اسٹاف رپورٹر) چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ آج پوری دنیا دہشتگردی کی آگ میں جل رہی ہے اور مذہبی انتہاپسندی کی وجہ سے درگاہیں بھی محفوظ نہیں ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ صوفی ازم کا فلسفہ مقامی نہیں بلکہ عالمگیر حیثیت رکھتا ہے، شاہ لطیف کا پیغام امن دشمن عناصر کے لئے ہے جسے دنیا میں فروغ دینے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہر سال عقیدتمند اور زائرین حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی کی مزار پر حاضری دے کر انہیں خراج عقیدت پیش کرتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں انسانیت، مذہبی رواداری کو فروغ دینا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے میرے ملک کے عوام پر فخر ہے۔ شاہ بھٹائی نے اپنی شاعری میں نچلے طبقے کو محور بنایا ہے۔ انہیں بے حد خوشی ہے کہ آج وہ سب سے بڑے لطیف ایوارڈز سے شاعروں، دانشوروں اور شاہ لطیف کے پیغام کو دنیا میں فروغ کرنے والے فنکاروں کو نواز رہے ہیں۔ اس موقع پروزیر اعلی سندھ سید مراد علی شاہ نے کہا کہ مجھے خوشی ہے کہ میں نے اپنے پارٹی چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کے ہمراہ درگاہ حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائی پر حاضری دی اور چادر چڑہائی۔ انہوں نے کہا کہ سندھ دھرتی صوفیوں کی دھرتی ہے، یہ پیار محبت کی دھرتی ہے، یہاں چاروں طرف صوفیائ￿ کرام کی درگاہیں موجود ہیں، یہ ہمیشہ سے پیار محبت دینے والی دھرتی رہی ہے مگر مجھے افسوس ہے کہ شاید اس دھرتی کو بھی نظر لگ گئی ہے اور یہ نظر شہید ذوالفقار علی بھٹو کے بعد کے دور سے شروع ہوئی، جب صوفیوں کے پیغام سے نفرت کرنے والے لوگ حکومتوں پر قابض ہوگئے اور انہوں نے ہمارے صوفیوں کی جانب سے دیئے جانے والے درس کو بھلا دیا۔صوبائی وزیر ثقافت و سیاحت سید سردار علی شاہ نے کہا ہے کہ بھٹ شاہ وہ دھرتی ہے جہاں سے صدیوں پہلے ایک عظیم صوفی بزرگ کا امن و آشتی کا پیغام دنیا میں عام ہوا۔ انہوں نے کہا کہ حقیقی طور پر ہماری ثقافت ہی وہ ہتھیار ہیں جس سے معاشرے کے منفی رجحانات بالخصوص دہشتگردی اور انتہا پسندی کا خاتمہ کرسکتے ہیں۔ایوارڈ تقریب میں تائیوان سے آئی ہوئی ہارورڈ یونیورسٹی کی طالبہ اور شاہ عبداللطیف بھٹائی رح کے راگ پر تحقیق کرنے والی پی لنگ ہوانگ نے شاہ کا راگ پیش کیا۔اس موقع پر اختتامی تقریب میں چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی بلاول بھٹو زرداری نے وزیراعلی سندھ سید مراد علی شاہ کے ہمراہ شاہ کے راگی استاد رسول ڈنو ، فنکار الہڈنو جونیجو، خماچ پلیئر عبدالشکور منگنہار، سگھڑ محمد قاسم راہموں، محقق جامی چانڈیو، کمپیئر یاسر قاضی، ڈجیٹائیزر امر فیاض برڑو اور شبیر کنبھار جبکہ لطیف ایوارڈ کی اسپیشل کیٹیگری میں شاہ جو رسالو کے حافظ دو بہن بھائی راحت بڑدی اور انتخاب بڑدی، شاہ عبداللطیف بھٹائی کا شاہکار مجسمہ بنانے والے مجسمہ ساز پروفیسر نادر علی جمالی اور سندھ کے نامور مزاحیہ فنکار قادر بخش مٹھوکو لطیف ایوارڈز سے نوازا۔اس موقع پر پاکستان پیپلز پارٹی حیدرآباد ڈویزن کے صدر سید علی نواز شاہ رضوی، پاکستان پیپلز پارٹی سندھ کے انفارمیشن سیکریٹری سینیٹر عاجز دہامراہ، پی پی پی کلچرل ونگ سندھ کے صدر قاسم سراج سومرو اور چیئرمین ڈسٹرکٹ کاؤنسل مٹیاری مخدوم فخرالزمان ، پی پی پی ضلع مٹیاری کے صدر سید علی حسین شاہ جاموٹ ، پی پی پی مٹیاری کے رہنما سید محمد علی شاہ جاموٹ اور دیگر معززین، سرکاری افسران، ادیب، شاعر اور دانشور بھی موجود تھے۔
بلاو ل بھٹو