حکمران مسلم لیگ تجزیاتی میزان میں

07 نومبر 2017

وزیراعظم عباسی لندن گئے تو نجی طور پر اور وہ بھی رخصت لیکر جبکہ اُنہوں نے عام مسافروں ہی کی طرح سفر کیا تھا یوں اُنہوں نے اپنے فقیر انہ عمل سے ثابت کیا کہ وہ فضول خرچ نہیں اور نہ ہی اُنہیں پروٹوکول کے کر وفر کا شوق فضول ہے۔ دوسری طرف وزیر خارجہ خواجہ آصف ریاض گئے مگر خصوصی طیارے پر اُنکے لیے تو کچھ رعایت پیدا ہو سکتی ہے کہ وہ اکیلے نہیں بلکہ وزارت خارجہ ماہرین کے وفد ساتھ گئے لہٰذا خصوصی طیارے کا استعمال بنتا ہے۔ ریا ض میں ان کی جو تصویر ویسٹ کوٹ اور شلوار قمیض کے ساتھ شائع ہوئی۔ اس میں ماشاء اللہ وہ نہایت مسرور دکھائی دیتے ہیں۔ وزیر خزانہ اسحاق ڈار سینٹرل ایشیاء کے ایک ملک میں گئے مگر خصوصی طیارے پر اور وہاں سے لندن جہاں وہ اس اجلاس میں شریک ہوئے جس میں وزیراعظم عباسی اور وزیر اعلٰی پنجاب شہباز شریف بطور خاص شرکت کرنے گئے تھے۔ لندن میں ہی وزیرخزانہ بیمار ہو کر علاج میں مصروف ہو گئے ہیں۔ وہ اخلاقی اور سیاسی طور پر اس وقت حکمران مسلم لیگ کی نام نہاد اقدار سیاست کے چہرے پر بہت بڑا تھپڑ ہیں۔ نہ وہ استعفٰی دیتے ہیں اور نہ وہ عدالت میں آتے ہیں اخلاقی اور سیاسی اقدار کی سیاست میا ں نواز شریف کو اقتدار سے محروم ہو کر ہی یاد آئی ہے کچھ عرصے سے وہ ماشاء اللہ کافی نظریاتی بھی ہو گئے ہے مگر اقتدار سے محروم ہو کر انہیں بہت زیادہ پارٹی ورکراور عوام کی بھی یاد آتی ہے مگر جب وہ جدہ کے سرور پیلس میں تھے اور ذوالفقار کھوسہ اور جاوید ہاشمی کے ساتھ معاشی طور پر کمزو ر جن مسلم لیگی کارکنوں نے مار کھائی کارو باری اور سماجی تباہی دیکھی تھی اقتدار میں آنے کے بعد میاں نواز شریف نے انہیں منہ لگانے کی بجائے یعنی انعام دینے کی بجائے آمر صدر مشرف اور مسلم لیگ (ق) کے وزیروں اور ارکان اسمبلیوں کو کندھوں پر بٹھا لیا۔ آج بتائیں کے زاہد حامد کون ہے؟ امیر مقام کون ہے؟ صابر شاہ رل گئے اور تباہ ہو گئے چند ایک دولت مند اور ٹھیکے دار ہیں۔ ماروی میمن باقاعدہ آئی ایس پی آر میں بیٹھتی تھی۔ مگرکس طرح وہ مسلم لیگ (ن) کی ایم این اے بنی اور بینظیر پروگرام لے اُڑی؟ دانیال عزیز مشرف کے زمانے میں کیا تھے اور آج کیا ہیں؟ طلال چوہدری پرویز الٰہی کے ساتھ کس طرح محبت کہانی عام پیش کر تے تھے اور آج کیا ہیں؟ برادر عرفان صدیقی ایک اچھے شاعر‘ ڈرامہ نگار اور اُردو کے اُستاد رہے ہیں۔ ان کے ریڈٖیو ڈرامے اور کچھ شاعری بھی ان کی یاد ماضی ہیں ان کی تلخ سیاسی حقائق کی بجائے ڈرامہ منظر نامے اور شاعرانہ تخلیات پر لکھی گئی سیاسی تقریروں سے ماشاء اللہ نواز شریف نظریاتی بھی ہیں اور سیاسی و اخلاقی اقدار کے بہت بڑے اچانک ترجمان و محافظ بھی؟ لندن میں ایک بیورو کریٹ فواد حسن فواد بھی جا کر نواز شریف سے ملے۔ عملََا فواد حسن فواد نامی 21 گریڈ کے بیورو کریٹ کا لندن بے تکلفی سے جا کر نوازشریف سے ’’ملنا‘‘ ثابت کرتا ہے کہ نوازشریف کے ہاں وزیراعظم عباسی اور وزیر اعلٰی پنجاب شہباز شریف سے فواد حسن فواد کہیں زیادہ مفید‘ کارآمد اور بااعتماد ہے۔ ایسی صورت میں کہاں باقی رہ گئی پارلیمانی پارٹی ومسلم لیگی قائدین کی حیثیت و اہمیت؟ اب کچھ معاملات مسلم لیگی حوالے سے بھی کہ لندن میں اگر یہ طے ہوا تھا کہ پالیسی بیان نواز شریف دیں گے یا شہباز شر یف حمزہ اور مریم اب خاموش رہیں گے مگر مریم نے ایک نجی ٹی وی کو فورََا انٹرویو دیکر اس لندن فیصلے کو نیست ونابود کردیا ہے اور اصرار کرتی ہے کہ انہیں اپنی رائے دینے کا استحقاق حاصل ہے وہ ہنگامی طور پر سیاسی بیداری مہم شروع کرنے والی ہے۔ جب کہ نواز شریف واپس آکر پنجاب ہائوس میں جو پارٹی اجلاس منعقد کرتے ہیںاس میں دو ٹوک فیصلہ سناتے ہیں جس کو ان سے اختلاف ہے وہ پارٹی چھوڑکر جاسکتا ہے۔ یعنی چودھری نثار شہباز شریف شاہد خاقان عباسی اور ان کے دیگر صلح جو مؤقف کے حامی ہیں اگر آئینی اداروں سے کشمکش و تصادم سیاست میں نوازشریف کے ہمنوا نہیں تو وہ پارٹی چھوڑ جائیں۔ ایک طرف اپنا استحقاق ثابت کرنے کے لیے مریم نواز کہتی ہے کہ مسلم لیگ جمہوری پارٹی ہے اور انہیں اپنی رائے دینے کا استحقاق بھی حاصل ہے۔ اگر یہ استحقاق مریم نواز اور ان کے شوہر کو اسمبلی میں تقریر کرنے کا حاصل ہے تو چودھری نثار اور شہباز شریف وزیراعظم عباسی اور پیرزادہ کو کیوں حاصل نہیں؟ مریم نواز جمہوری بن کر استحقاق استعمال کریں اور نوازشریف اپنے جابرانہ فیصلے سنائیں؟ اپنے سیاسی اور پارٹی کے مستقبل کے حوالے سے وہ آزادانہ طور پر اپنی رائے بھی نہیں دے سکتے۔ مریم کو جو استحقاق حاصل ہے وہی عام مسلم لیگی سنیٹر اور ایم این اے کو کیوں حاصل نہیں؟ اب کچھ وجدان کی بات: 7 تاریخ کو شاید نوازشریف خاندان کو وہ آسودگی میسر نہ ہوجو تین نومبر کی پیشی پر تھی۔ مریم کی تصادم والی روش سے حکمران مسلم لیگ شاید ٹوٹ چکی ہے۔ مریم نے شہباز شریف‘ عباسی‘ چوہدری نثار کی سیاسی حثییت کو نیست و نابود کرنے پر خود کو آمادہ جارحیت کر لیا ہے۔یوں مسلم لیگ (ن) کی تقسیم ہو رہی ہے اور مسلم لیگ (مریم) کی تخلیق ہورہی ہے۔ کچھ عرصہ نوازشریف اور مریم جار حانہ رویہ اپنائیں گے شہباز شریف اور شاہد عباسی منقار زیر پر ہو نگے ۔عملََا نوازشریف عباسی اور شہباز حکومت کا خاتمہ‘ مارشل لاء کا نفاذ یا غیر آئینی بندوبست چاہتے ہیں۔