صدی کا سب سے بڑا فریب

07 نومبر 2017

میاں نواز شریف کو وزارت عظمیٰ کے منصب عالی سے نااہلیت کی بنا پر الگ ہونا پڑا،ایسا منصب سیاست کے بڑے بڑے شہسواروں کے مقدر میں بھی نہیں ہوتا۔اس تک پہنچنے اور پہنچ کر برقرار رکھنے کے لئے رشتوں میں محبت اور الفت فریب میں بدل جاتا ہے،خون کے رشتے خون کے پیاسے ہوجاتے ہیں،آنکھوں کی مروت کور چشمی اور حیا بے دیدگی میں بدل جاتی ہے۔اس منصب کو برقرار رکھنے کی ہزار کوششیں لاحاصل ،خواہشیں رائیگاں جائیں اور۲۲ کروڑ رعایا پر حاکمیت کرنیوالے کو انہی ۲۲ کروڑ کے درمیان لاکھڑ کیا جائے تو اس پرجو گزرتی ہے اور اسکی جو کیفیت ہوسکتی ہے اس کا اندازہ ایسے روز مرہ کے واقعات سے لگایا جاسکتا ہے جن میں کونسلر جیسے منصب کی خاطر حریفوں ہی کیا حلیفوں کا بے دردی سے خون بہا دیا جاتا ہے۔میاں نواز شریف کو آج بڑے نازک حالات کا سامناہے۔ان کی پریشانی کا پاکستان کے سیاسی کلچر کے تناظر میں آسانی سے اندازہ کیا جاسکتا ہے جہاں سیاسی اختلافات دشمنی کے پرلے درجے تک چلے جاتے ہیں۔نااہلیت کے فیصلے کے بعدمیاں نواز شریف مکمل سرکاری پروٹوکول اور وزیراعظم و دیگر وزراء اور اعلیٰ ترین عہدیداروں کے جھرمٹ میں رہتے ہیں،حکومتی پالیسی ساز وہی ہیں مگر وزارت عظمیٰ سے محرومی دل پر گراں گزرتی ہے۔ سوال پر سوال کرتے ہیں اب گزشتہ روزاحتساب عدالت میں پیش ہوئے تو عدالت کے دروازے پر میڈیاسے گفتگو کرتے ہوئے کہا ایک بار پھر سوالوں کی بوچھاڑ کردی۔انہوں نے بارہ سوال تو عدلیہ سے کئے مگر اس کے بعد اور آجکل جو سوال کررہے ہیں اس کاکوئی مخاطب نہیں، یہ بڑ بڑانے کی کیفیت نظر آتی ہے۔انہوں نے کسی سوال اٹھائے اور کئی پہلے والے دہرائے اور کئی حوالوں سے دور کی کوڑی بھی لائے ہیں۔پوری دنیا کے میڈیا نمائندوں سے کہاکہ مجھے نہیں پتا کس لئے سزا بھگت رہے ہیں، کیا سی پیک کی سرمایہ کاری اور کراچی میں امن لانے کی سزا دی جا رہی ہے، ایسی عدلیہ نہیں چاہئے جو نظریہ ضرورت ایجاد کرے اور آمروں کو ہار پہنائے اگر ججوں اور جرنیلوں کا بھی احتساب ہو تو وہ کھلی عدالت میں ہو۔ جو ہمیں ٹکر مارتے ہیں، انہیں کوئی نہیں پوچھتا۔ دنیا کے کسی ملک میں ایسا نہیں ہوتا جو یہاں ہو رہا ہے۔ انہوں نے کہاکہ تمام جمہوری پارٹیوں کو ایک اصول پر اکٹھا ہونا چاہئے، کیا یہ کرپشن کیس ہے؟ کسی سے کِک بیکس وصول کیے یا ٹھیکے میں پیسے لئے۔ ان کا کہنا تھا کہ وکلا کنونشن میں پوچھے گئے بارہ سوالات کا جواب نہیں ملا۔ کسی کیس میں نہیں دیکھا کہ سپریم کورٹ کا جج کیس کی نگرانی کرے۔میاں نوازشریف نے اور بھی بہت سے سوال کئے۔ عدلیہ کی اپنی نااہلیت سے قبل تک تعریف کرتے تھے اب اسے نظریہ ضرورت والی عدلیہ قرار دے کر اس کی ضرورت کو لاحاصل کہہ رہے ہیں۔ ان کو جس طرح اقتدار کی بلندی سے ایک عدالتی فیصلے کے تحت بے اختیاری کی گہرائی میں گرایا گیا اس سے ان کی ہیجان خیز سمجھ میں آتی مگر اداروں کی اس طرح ایسے بڑے سیاستدان اوردانشور سے توقع عبث تھی۔ وہ ایک طرف اقتدار کو کانٹوں کی راہگزرقرار دیتے ہیں دوسری طرف ایک بار پھر اس مقام اولیٰ تک رسائی کیلئے دن کا آرام اور راتوں کی نیند حرام کئے ہوئے۔ اس کیلئے وہ تہیہ ٔ طوفاں کئے ہوئے اورکسی بھی حد تک جانے کو تیار ہیں۔ ان کے ارداوں میں اداروں پرچڑھائی کے امکانات واضح نہیں تو غیر مبہم بھی نہیں ہیں۔تاہم عدالت پر نوے کے دہائی جیسی لشکر کشی کا دور دور امکان نہیں ہے۔

میاں نوازشریف کے سوالات کا جواب جن لوگوں اور اداروں کے ذمے ہے ان کو ضرور دینا چاہئے تاہم بہت سے سوالوں کے جواب ان کے اندر موجود ہیں وہ اپنے دل سے پوچھیں۔ ایک آدھ سوال کا جواب بن پوچھے صدر پاکستان ممنون حسین نے بھی دیدیا ہے گزشتہ ماہ بنوں میں ایک سیمینار سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ 2013ء کے انتخابات کے بعد یعنی 4سال کے دوران14ہزار8سو ارب روپے قرض لیا گیا عوام کو یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ پوچھیں کہ ہسپتال ، ڈیم ، روزگار اور تعلیم کے نام پر لیا گیا قرضہ کہاں گیا؟ کیوں کہ نہ تو اب تک ملک میں ڈیم بنائے گئے ہیں نہ ہسپتال ، آخر پیسہ کہاں گیا؟ ملک کے حالات خراب سے خراب تر ہوتے گئے ، کرپشن نے ملک کا بیڑا غرق کردیا ہے، اس وقت ملک کا سب سے بڑا مسئلہ کرپشن ہے۔ جھوٹ، مکر ، فریب اور مداری کی سیاست نے ملک کو بہت زیادہ نقصان پہنچایا ،لیکن یاد رہے جس نے جتنا اس ملک کو لوٹا ہے، نقصان پہنچایا ہے ، اس کا بدلہ بھی اللہ اس سے لے گا۔ انہوں نے سیاست دانوں سے مخاطب ہو کر کہا کہ جھوٹ اور فریب کی سیاست بند کرو ، ایمانداری اور سچائی کے ساتھ سیاست کرو۔اس سے قبل پانامہ لیکس جن دنوں سامنے آئیں تو ممنوں حسین نے کہا تھا کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے۔ اب کرپٹ لوگوں کا احتساب ہوسکے گا کوئی سال میں جائے گا کوئی ڈیڑھ سال میں گرفت میں آئے گااورواقعی ڈیڑھ سال بعد جو گرفت میں آئے وہ سامنے ہیں۔
کچھ سوال میاں نوازشریف سے ان کے بہی خواہوں کی زبان پر بھی ہیں۔ اپنی نااہلیت کے فیصلے کے فوری بعد ایک مجلس عاملہ میں خود وزیراعلیٰ شہبازشریف کو وزیراعظم بنانے کا فیصلہ کیا مگر اس پر عمل کے دن آئے تواس فیصلے سے انحراف کر لیا۔ الیکشن کمیشن نے پارٹی صدر کے انتخاب کی یاددہانی کرائی تو پھر شہبازشریف کا نام فائنل کیا۔ سات ستمبر کو اجلاس بلانے کا اعلان کیا مگر یہ دن خاموشی سے گزار دیا۔ اس معاملے کو قصہ پارنیہ بنادیا تھا مگر چالاکی سے نااہل شخص کو پارٹی سربراہ بنانے کی ترمیم کردی گئی چونکہ اس ترمیم کے پیچھے نیک نیتی شامل تھی اس نئے حلف نامے میں ترمیم بھی کردی گئی جو ایک شرمندگی کے ساتھ واپس لے لی گئی ہے مگریہ رہتی دنیا تک ان کا پیچھا کرتی رہے گی۔
گزشتہ دنوں لندن میں اجلاس ہوا جس میں کہا گیا کہ اگر 2018ء میں انتخابات جیتے تو شہبازشریف وزیراعظم ہونگے اب جب آپ الیکشن جیتے ہوئے ہیں تو شہبازشریف کو وزیراعظم بنانے کا اعلان کرکے پسپائی اختیار کرلی جبکہ 2018کے الیکشن کے ساتھ اگر کا صیغہ لگا دیا ہے۔ یقینی حالات سے راہ فرار اور امکانات پر یقین ظاہر کرنے پر کون اعتبار کریگا۔اب جبکہ آپ شہباز شریف کو وزیراعظم بناے کی پوزیشن میں ہیں او ر انکار کررہے اگلے سال الیکشن جیتنے کی کیا گارنٹی ہے ؟ایسے بیانات کو فریب کاری سے کم ہی کیا کہا جا سکتا ہے میں تو اسے صدی کا سب سے بڑا جھوٹ سمجھتا ہوں۔ جہاں مجھے یہ اشعار برملا یاد آ گئے۔
یہ چاہتیں یہ پذیرائیاں بھی جْھوٹی ہیں
یہ عمر بھر کی شناسائیاں بھی جْھوٹی ہیں
یہ لفظ لفظ محبّت کی یورشیں بھی فریب
یہ زخم زخم مسیحائیاں بھی جْھوٹی ہیں
کْھلی جو آنکھ، تو دیکھا کہ شہرِ فْرقت میں
تِری مہک، تِری پرچھائیاں بھی جْھوٹی ہیں