’’یوم مفکرِ پاکستان‘‘ اور ہم مُتفکرِین پاکستان

07 نومبر 2017
’’یوم مفکرِ پاکستان‘‘ اور ہم مُتفکرِین پاکستان

قارئین ہم میں سے کون نہیں جانتا کہ مبارک 9 نومبر۔ ایک تاریخ ساز تاریخ ہے اور یہ کہ یہ مملکتِ پاکستان کے مفکرِ اعظم، عظیم فلاسفر اور مُسلمانانِ عالم کے محبوب قومی شاعر علامہ اقبالؔ کا مبارک یوم پیدائش ہے۔ ملک بھر کے تعلیمی اداروں میں اس دن کی اہمیت کو اُجاگر کرنے اور غیر منقسم ہندوستان میں ہندوؤں کے جبر و استبداد کے پنجوں میں جکڑے ہوئے بے بس مسلمانوں کیلئے علیحدہ وطن حاصل کرنے کا غیر معمولی نظریہ دینے والے مفکر و مُدبر کو خراج عقیدت و تحسین پیش کرنے کیلئے اِس دن تقریری مقابلے ہونگے، سیمینارز اور جلسے منعقد ہوں گے بِلا شرکت غیرے اقبالؔ کے پاکستان کے مالک و مقتدر طبقے کی طرف سے بھی ثقہ قسم کے پُرانے بیانات نئے دستخطوں کے ساتھ جاری ہوں گے کہ الحمد للہ اُنہیں اقبال و قائد جیسے لیڈر عطا ہوئے جنہوں نے اُن کو اپنی مرضیاں، من مانیاں کرنے اور اَنت مچانے کیلئے ایک علیحدہ مُلک (دشمنوں کے ہاتھوں سے چھین کر) عطا کیا نتیجتاً اب وہ ہیں اور اقبالؔ کا الہامی کلام ہے جس کے معنی اور تشریح کے ساتھ وہ بحُسن و خُوبی نِپٹ رہے ہیں اور بزِعم خود مطمئن اور خوشی سے بے حال ہیں ان متفکرین نے آدھا ملک دشمن کو واپس کر دیا ہے۔ باقی کو خوشحال بنا کر خُوب سنبھال کر رکھا ہوا ہے۔ فرماتے ہیں عوامی راج ہے سارے اٹھارہ کروڑ عوام بھرے پیٹوں خوش باش ہیں سوائے اُن چند سو معمولی لوگوں کے جو ہر ماہ مارے مالی طمانیت کے اُکتا کر خودکشی کر لیتے ہیں۔ بہرحال آئیے قارئین لمحہ موجود میں علامہ کے اُن چند اشعار کے آئینے میں ہم اپنا عکس دیکھتے ہیں جو اُنہوں نے اِنتہائی دردِ دل کے ساتھ بلکہ سُرخ آنسوؤں کے ساتھ ہمارے لئے لکھے، ہمیں انگریزوں اور ہندوؤں کی دوہری غلامی سے نجات دِلانے کیلئے قائداعظم کے ساتھ مِل کر دن رات کام کیا، جلسے کئے، رَت جگے کاٹے، ہمیں دُنیا میں ایک باوقار اور باعزت قوم کے طور پر زندہ اور قائم رہنے کے گُر بتائے لیکن صد افسوس ہم نے اُن کے ہر الہامی فرمان کو حرزِ جان بنانے کے بجائے جس طرح سامانِ طاقِ نسیاں کر دیا وہ بطور مسلمان قوم کے، ہماری بدقسمتی کی ایسی انتہا ہے کہ بعد دُنیا میں احسان فراموشی کی کوئی دوسری اِنتہا موجود نہیں ہے۔ اُنہوں نے درس دیا:

کُند ہم جنس باہم جنس پرواز
کبوتر با کبوتر باز با باز
اور ہم، جن کی پُوری تاریخ بہادری، خودداری اور فتوحات کے کارناموں سے بھری پڑی ہے اور جن کے فاتحین ہمیشہ کفارِ عالم کی فوجوں پر باز کی طرح جھپٹتے رہے، کبوتروں کی طرح اُن کا شکار کرتے رہے لیکن ہم نے اپنی قوم کو اور اپنے بچوں کو اقبالؔ کے تصورِ شاہین سے رُوشناس کرانے کے بجائے کبوتر صفت امریکہ اور دوسری کافر مغربی اقوام سے متاثر و مرعُوب بلکہ مغلوب و مفتوح ہونے کا درس دے دیا نتیجتاً تمام تر مادہ پرست اور اخلاق و کردار سے عاری اقوام محض اپنی سائنسی ترقی اور درندگی و دہشت گردی کی وجہ سے مسلمان ممالک پر چھا گئیں۔ اقبال لمحہ لمحہ ہمیں اپنے آباؤ اجداد کی تاریخ اور کارنامے یاد کراتے رہے جنہیں ہم بُھولتے رہے بلکہ بُھول چکے ہیں۔ فرمایا
تھے تو آبا ہی تمہارے وہ، مگر تم کیا ہو؟
ہاتھ پر ہاتھ دھرے مُنتظرِ فردا ہو
اب بعینہ یہی کچھ ہو رہا ہے تمام مسلمان ممالک عیش و عشرت میں ڈوب کر خوداری اور حمیت کا مفہوم بُھول کر خود اپنی نادر اور اعلیٰ اخلاقی و رُوحانی اِقدار سے مُتصادم ہو گئے ہیں جبکہ اقبالؔ کو مسلمانوں کی عظمتِ رفتہ کا مکمل اِدراک تھا تبھی فرمایا … ’’نگاہِ مردِ مومن سے بدل جاتی ہیں تقدیریں‘‘
لیکن ہم مسلمانوں نے اپنی تقدیر اقوام مغرب کی سائنسی تدابیر کے ہاتھ میں دے دی اور شانِ کریمی کے کرم سے مایوس ہو گئے اگر اُن کو مسلمانوں کی رُوحانی طاقتوں کا علم نہ ہوتا تو وہ یہ کیوں کہتے:
’’یزداں پہ کمند آور اے ہمتِ مردانہ‘‘
صد افسوس برصغیر کے مسلمان فوری بیداری کا ثبوت نہ دے سکے جس پر علامہ کو اللہ تعالیٰ سے بھی شکوہ کرنا پڑا ’’شکوہ‘‘ انکے دُکھی دل کی بہت دردناک صدا ہے بلکہ کبھی کبھی تو اُن کا معصوم شکوہ ربِ رحیم کے ساتھ باقاعدہ لاڈ کی صورت اختیار کر جاتا ہے۔ آخرکار اُنہوں نے شکوہ و شکایت کے جواب میں مُسلم اُمہ کو جوابِ شکوہ جیسی پُرشکوہ نظم عطا کی اور صاف صاف اللہ تعالیٰ کا جواب اُنہیں سُنوا دیا کہ
کی محمدؐ سے وفا تُو نے تو ہم تیرے ہیں
یہ جہاں چیز ہے کیا؟ لوح و قلم تیرے ہیں
بجائے اس کے کہ مسلمان رحمت العالمینؐ کے نقشِ پا پر آنکھیں رکھ دیتے۔ اُنہوں نے دُنیاداری اور آپس میں جھگڑوں تنازعوں کو اپنا شعار کر لیا اور کافر طاقتوں سے ہارتے گئے پھر یہ علامہ اقبالؔ ہی تھے جنہوں نے اُنہیں فلسفہِ خُودی کی عظمت سے رُوشناس کرایا مگر جِسے اُنہوں نے یکسر بُھلا دیا۔ فرمایا تھا:
زمین و آسمان و کُرسی و عرش
خُودی کی زد میں ہے ساری خُدائی
اور یہ خدا بندے سے خُود پوچھے بتا تیری رضا کیا ہے؟ ایسے عظیم اِلہامی اشعار کہہ کر اُنہوں نے مسلمانوں کو ناگفتہ بہ حالات و واقعات سے نبرد آزما ہونے کی نئی فکر عطا کی جوانوں کو شاہین کی مانند افلاک میں اپنا شکار خود ڈھونڈنے اور خود کسی کا شکار نہ بن جانے کا فلسفہ دے کر اُن کی روشن منزل کا تعین کر دیا۔
وہ فریب خوردہ شاہیں کہ پَلا ہو کرگسُوں میں
اُسے کیا خبر کہ کیا ہے رہ و رسمِ شاہبازی؟
ہم فکر مندوں نے اِنتہائی بے فکری سے شہبازی کی وہ رسم مِٹا دی جو اقبال کا خواب اور ہمارا طُرہ امتیاز تھی ہمارے مقدر کے فیصلے اب باہر سے درآمد کئے جاتے ہیں ہم نے علامہ اقبال کے تمام اقوال، تمام افکار، تمام فلسفے بُھلا دیئے ہیں۔ اُن کا صرف یہی کارنامہ نہ تھا کہ اُنہوں نے غلامی کی زنجیریں توڑنے کیلئے مُسلسل مسلمانوں کے جذبوں اور جذبات کو لمحہ بہ لمحہ مُتلاطم رکھا، اُنہیں اپنے علیحدہ وطن کی تحصیل کیلئے اپنی اِلہامی شاعری کے ذریعے انگیخت رکھا بلکہ یہ بھی ان کے کلام کا معجزہ ہے کہ اُن کو عملی طور پر زندگی کی راہ پر یکجا کر کے کھڑا کر دیا، غفلت کی نیند سے جگایا، اُبھارا اور اُن کی سوچ کو نئی سِمت عطا کر دی آپ کے فلسفہِ خودی سے بھرپُور آبرومندانہ زندگی گزارنے کے فلسفے نے صرف برصغیر کے مسلمانوں ہی کو نہیں بلکہ مسلمانانِ عالم کو بھی اپنی لپیٹ سمیٹ میں لے لیا۔ اُن کی پُرجوش شاعری مشعلِ راہ کی شکل اختیار کرتی گئی اور آخرکار ہندوستان کے بے بس اور نہتے مسلمانوں کی آزادی کا خواب دیکھنے والے اقبال کی خواہش پُوری ہو گئی۔ حضرت قائداعظم محمد علی جناح کی شبانہ روز محنت نے اُن کے خواب کو نہ صرف تعبیر دے دی بلکہ تعمیر بھی عطا کر دی جسیے آج ہم پاکستان کہتے ہیں اور جس کی خاک ہم مُتفکرین پاکستان کی بے بصارت آنکھوں کا سُرمہ ہونیچاہیے مگر آج کے حکمرانوں کی اَنا پرستی، خُودغرضی اور ہوسِ اقتدار اور ہوسِ مال و دولت نے اُس کا بقیہ آدھا وجود بھی خطرے میں ڈال دیا ہے۔ آپس کے جھگڑے، تنازعے، فرقہ بندیاں، الزامات تراشی، سیاست مداریاں اور کرسیوں کی چھینا جھپٹی نے پاکستان کو نیم جان کر دیا ہے۔ بخدا آج قائد و اقبال موجود ہوتے تو اپنے نظریات پر نظرِثانی فرماتے خاص طور پر علامہ اقبالؔ یہ ضرور سوچتے کہ مسلمانوں نے پاکستان کی صورت میں اُنکے خواب کی تعبیر تو ضرور کر دی ہے مگر جس طرح کی تعبیر دی ہے ایسی دردناک تعبیر کا تو اُنہوں نے کبھی خواب نہ دیکھا تھا دُعا ہے کہ رب العزت حکمرانوں کو ہوش اور عقل و شعور عطا کرے تاکہ وہ بچے کُھچے پاکستان کو بچا سکیں …