الیکشن کسی صورت ملتوی نہ ہونے دیں گے : نواز شریف

07 نومبر 2017

اسلام آباد (محمد نواز رضا۔ وقائع نگار خصوصی) باخبر ذرائع سے معلوم ہوا ہے مسلم لیگ (ن) کی قیادت نے نئی مردم شماری کے مطابق قومی اسمبلی کے حلقوں کی از سر نو حد بندی پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے سیاسی جماعتوں سے مذاکرات کرنے کے لئے سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق کی سربراہی میں 5 رکنی کمیٹی قائم کر دی ہے جو سیاسی جماعتوں سے رابطے کے بعد پارٹی قیادت کو اپنی رپورٹ پیش کرے گی کمیٹی وفاقی وزراء زاہد حامد ، خواجہ سعد رفیق ، لیفٹیننٹ جنرل (ر) عبد القادر بلوچ اور مشیر امیر مقام پر مشتمل ہو گی۔ سابق وزیراعظم محمد نواز شریف نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ عام انتخابات ملتوی کرنے کی کوئی کوشش کامیاب نہیں ہونے دی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ عام انتخابات کو التوا شکار نہیں ہونے دیا جائے گا سابق وفاقی وزیر داخلہ چوہدری نثار علی خان نے پارٹی کے سربراہ میاں نواز شریف کو آئینی ترمیم پر اتفاق رائے پیدا کرنے کے لئے مختلف تجاویز پیش کیں جن کو پارٹی قیادت نے سراہا پاکستان مسلم لیگ(ن) کی قیادت کا اہم اجلاس پیر کی شب پارٹی کے صدر میاں نوازشریف کی زیر صدارت پنجاب ہائوس میں منعقد ہوا جس میں راجہ محمد ظفر الحق ، چوہدری نثار علی خان ، احسن اقبال ، خواجہ سعد رفیق ، سردار مہتاب احمد خان پیر صابر ، اقبال ظفر جھگڑا امیر مقام سمیت 25چیدہ چیدہ مسلم لیگی رہنمائوں نے شرکت کی ایک گھنٹے سے زائد جاری رہنے والے اجلاس اہم قومی امور موجودہ سیاسی صورتحال اور نئی حلقہ بندیوں پر تبادلہ خیال کیا گیا ذرائع کے مطابق اجلاس میں میاں نواز شریف کی قیادت پر مکمل اعتماد کا اظہار کیا گیا اجلاس میں میاں نواز شریف نے دوٹوک الفاظ میں کہا ہے کہ وہ عدالتی جنگ لڑیں گے وہ ہر قسم کے نتائج بھگتنے کے لئے تیار ہیں اصولوں پر کوئی کمپرو مائز نہیں کروں گا ، اجلاس کے بعد وفاقی وزراء احسن اقبال زاہد حامد ،خواجہ سعد رفیق ، امیر مقام صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے نے کہا کہ5جون2018ء کو موجودہ حکومت کی آئینی مدت پوری ہو گی مسلم لیگ(ن) میان نواز شریف کی قیادت میں متحد ہے ٹیکنو کریٹ حکومت کی آئین میں کوئی گنجائش نہیں قبل از وقت انتخابات خارج از امکان ہیں 10 نومبر کو آئینی ترمیم منظور ہو گئی تو عام انتخابات مقررہ تاریخ پر نہیں ہوں گے مردم شماری کے مطابق الیکشن کرانا ضروری ہے دنیا پر یہ ثابت کرنے کا دوسرا موقع ہے کہ پاکستان مضبوط جمہوریت بن چکا ہے ، آئین کے تحت ہر دس سال بعد مردم شماری ہونی چاہیے ، فوج اور سول انتظامیہ نے مل کر مردم شماری کو یقینی بنایا ، مردم شماری کے مطابق آبادی کے تناسب سے پنجاب کی 9سیٹیں کم ہوئیں جبکہ بلوچستان میں تین اور اسلام آباد میں ایک سیٹ کا اضافہ ہورہا ہے، خیبر پختونخوا کی پانچ سیٹوں میں اضافہ ہورہا ہے، حلقہ بندیوں پر آئینی ترمیم کا مشورہ پارلیمانی رہنمائوں نے دیا۔ احسن اقبال نے کہا کہ حلقہ بندیوں سے متعلق ترمیم پر تمام جماعتوں نے اتفاق کیا تھا، نئی حلقہ بندیوں کے باعث قبل ازوقت انتخابات کا انعقاد ممکن نہیں ، انتخابات کے انعقاد میں رخنہ ڈالنے کو کوئی سیاسی جماعت برداشت نہیں کرسکتی، ہم نے امن وامان کا مسئلہ حل ہوتے ہی مردم شماری کرائی ، مردم شماری کے نتائج کے مطابق حلقہ بندیاں ہورہی ہیں ، منتخب جمہوری حکومت کا مدت پوری کرنا پاکستان کی تاریخ میں دوسرا سنہری موقع ہے ۔ وفاقی وزیر قانون زاہد حامد نے کہا کہ حلقہ بندیوں پر آئینی ترمیم کا مشورہ پارلیمانی رہنمائوں نے دیا ۔ انجینئر امیر مقام نے کہا کہ بروقت انتخابات کو یقینی بنایا جانا چاہیے ، عوام بروقت انتخابات چاہتے ہیں ، سیاستدان تعاون کریں ۔ خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ پاکستان مسلم لیگ (ن) نوازشریف کی قیادت میں متحد ہے اور ہمارے اندر کوئی دراڑ نہیں ہے ، جمہوری سیاسی کلچر میں اختلاف رائے ہوتا ہے ، یہی جمہوریت کا حسن ہے ، نوازشریف اور دیگر پاپولر قیادت کو سیاسی منظر نامے سے ہٹانے کی کوششیں پہلی بار نہیں ہیں جب سے یہ ملک بنا ہے، یہ کوششیں جاری ہیں مگر ان سازشوں کو ناکامی کا منہ دیکھنا پڑا ہے ، ایسی کوششیں مقبول سیاسی قیادت کو سیاست سے بے دخل نہیں کر سکیں۔
نواز شریف
اسلام آباد (خبرنگار+ ایجنسیاں+ نوائے وقت رپورٹ) اپوزیشن لیڈر سید خورشید شاہ نے کہا ہے کہ نوازشریف اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ ان کے خلاف کون سازش کر رہا ہے اب اگر نوازشریف کیسز کا سامنا کئے بغیر بھاگے تو ان کی سیاست مکمل طور پر تباہ ہو جائے گی۔ شاہد خاقان عباسی کا نااہل شخص کو وزیراعظم تسلیم کرنا مذاق ہے۔ ان خیالات کا اظہار خورشید شاہ نے پارلیمنٹ ہائوس میں صحافیوں سے غیررسمی گفتگو میں کیا۔ انہوں نے کہا کہ عام انتخابات 1998 کی پرانی مردم شماری پر کرانے میں کوئی حرج نہیں ہے لیکن عام انتخابات کو مقررہ وقت پر ہونا چاہئے کیونکہ پیپلزپارٹی قبل از وقت انتخابات کی حامی نہیں ہے۔ مسلم لیگ (ن) کو پرانی مردم شماری پر تحفظات نہیں ہونے چاہئیں کیونکہ وہ پرانی مردم شماری پر ہی 2013ء کا الیکشن جیتے۔ نوازشریف اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ ان کا دشمن کون ہے۔ ہم نے حلقہ بندیوں سے متعلق بل پر کوئی یوٹرن نہیں لیا حلقہ بندیوں پر ہمارے تحفظات تھے کیونکہ سندھ میں آبادی کو کم ظاہر کیا گیا ہے ۔ ہماری آبادی کے لحاظ سے 10 سے 12 نشستیں بڑھنی چاہئے تھیں۔ دوسری جانب وزیر داخلہ احسن اقبال نے خورشید شاہ کے مطالبے پر کہا ہے کہ نئی مردم شماری ہو چکی ہے۔ انہوں نے خورشید شاہ کی تجویز کو بچگانہ قرار دیا اور کہاکہ اگر پرانی مردم شماری پر 2018ء کے عام انتخابات ہوئے تو آئینی پیچیدگیاں پیدا ہوں گی۔ خیبرپی کے اور بلوچستان کی نشستیں بھی بڑھ چکی ہیں۔ آئندہ انتخابات نئی مردم شماری پر ہی کرانا ہوں گے۔ پرانی مردم شماری پر الیکشن سے سیاسی تنازعات سراٹھائیں گے، اس لئے سب جماعتوں کو چاہئے کہ مل کر بیٹھیں اور اتفاق رائے سے حلقہ بندیوں سے متعلق آئینی بل کو منظور کرائیں تاکہ 2018ء کے عام انتخابات مقررہ وقت پر ہوسکیں۔ جمہوری تسلسل کے لئے تمام سیاسی جماعتوں کو ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔ ادھر سپیکر قومی اسمبلی سردار ایاز صادق نے حلقہ بندیوں کی آئینی ترمیم پر حکومت اپوزیشن میں تعطل دور کرنے کے لئے آج (منگل کو) پارلیمانی لیڈرز کا اس معاملے پر تیسرا اجلاس طلب کر لیا۔ اپوزیشن نے قراردیا ہے کہ قومی اسمبلی میں ترمیم کے لئے مطلوبہ تعداد میں ارکان کو جمع کرنے میں حکومتی ناکامی حکومتی ممبران کا اپنی حکومت پر عدم اعتماد ہے۔ ایوان میں پیر کو حلقہ بندیوں کی آئینی ترمیم پر پارلیمانی رہنمائوں نے مخالفانہ آراء کا اظہار کیا۔ سردار ایاز صادق نے کہا کہ پہلے اتفاق رائے ہو گیا تھا۔ اب موقف میں تبدیلی پر حیرانی ہے ۔ اس کیلئے پھر مجھے میٹنگ بلانی پڑے گی مشترکہ مفادات کونسل کی بات کی جا رہی ہے اس بات پر آج پارلیمانی لیڈرز کے اجلاس میں فیصلہ کیا جائے گا کہ اس معاملہ کا فیصلہ مشترکہ مفادات کونسل یا پارلیمنٹ کہاں ہوگا۔ آئین میں ترمیم میں تاخیر پر الیکشن کمشن نے سپریم کورٹ سے رہنمائی کا فیصلہ کیا ہے۔ غلام آحمد بلور نے کہا کہ جب میٹنگ میں سارے معاملات طے ہوچکے تھے پھر اس بل کی مخالفت سمجھ سے بالاتر ہے ہم سجھتے تھے کہ پنجاب مخالفت نہیں کرے گا اور ہم نے ہمیشہ پنجاب کے خلاف شکوے کئے کہ پنجاب چھوٹے صوبوں کو حق نہیں دیتا مگر ان کی 9 سیٹیں کم ہوئی اور پھر بھی وہ اس بل کی حمایت کر رہے ہیں۔ ہم ان کو خراج تحسین پیش کرتے ہیں پنجاب کی جو جماعتیں اس بل کی مخالفت کر رہی ہیں وہ چھوٹے صوبوں کے خلاف سازش کررہی ہیں۔ اگر آپ نے وہاں بل کی حمایت کی اور آپ کی لیڈر شپ نہیں مان رہی تو آپ کو استعفیٰ دے دینا چاہئے۔ صاحبزادہ طارق اللہ نے کہا کہ حکومت کی ذمہ داری ہے کہ وہ آئینی ترمیم کیلئے 228ممبران پورے کرے اور اس کیلئے ایک بار پھر تمام جماعتوں کی میٹنگ بلائی جائے اور جن جماعتوں کے تحفظات ہیں ان کے تحفظات دور کئے جائیں ۔ ہم وقت پر الیکشن چاہتے ہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی سپریم کورٹ میں درخواست دائر کرے اور سپریم کورٹ الیکشن ملتوی کرانے کے احکامات جاری کرے ۔ ظفراللہ خان جمالی نے کہا کہ حکومت کو جلدی کی ضروری نہیں اگر حکومت آئین اور قانون کے مطابق چلے گی تو کوئی مسئلہ نہیں ہے سب کچھ درست ہوگا۔ سپیکر نے کہا کہ بل کے ایک ایک لفظ پر تمام جماعتیں متفق تھی۔ آفتاب احمد خان شیر پائونے کہا کہ ملک کے اندر مردم شماری ہوئی بہت ساری سیاسی جماعتوں کو تحفظات تھے اس کے باوجود بھی مردم شماری کے نتائج سامنے آئے ۔ مردم شماری کے بعد نئے حلقے بنے تھے۔ پی پی پی کے رہنما سید نوید قمر نے کہا کہ ہم نے ہمیشہ چھوٹے صوبوں کی بات کی ہے ہم نے بل کے حوالے سے میٹنگ میں بل کی حمایت کی تھی اس کی وجہ یہ تھی کہ ہم سمجھتے تھے کہ یہ مسئلہ سی سی آئی میں حل ہوچکا ہے اور وہاںزیر بحث بھی آچکا ہے مگر ایسا نہیں ہوا اگر ایسا ہو جاتا ہے تو ہم اس بل کی حمایت کریں گے ۔ ہم چاہتے ہیں جو کچھ ہو وہ آئین اور قانون کے مطابق ہو ہم بھی چاہتے ہیں کہ چھوٹے صوبوں کو مکمل اختیارات ملیں ۔ یہ تاثر نہ دیا جائے کہ ہم بالکل اس کی مخالفت کررہے ہیں ۔ شیریں مزاری نے کہا کہ ہماری جماعت نے پہلے بھی کہا تھا کہ اپوزیشن کے تحفظات دور کریں ہم اس بل کی پھر حمایت کریں گے۔
قومی اسمبلی