مغربی جمہوریت کب تک ؟

07 نومبر 2017

قیا م پا کستان کیلئے تقریباً دس لا کھ مسلمانوں نے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا تھا۔ پا کستان کا مطلب کیا ’’ لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ ‘‘ یہ دل افروزوہ نعرہ اس وقت زد و عام کی زبان پر جا ری تھا۔ جہاں اللہ کی حاکمیت ہوگی ا ور اسکے رسول کے حکام کی پابندی ہو گی ۔ اس خواب کی تعبیر کیلئے دیگر مشاہرین کے علا وہ قائداعظم ؒ نے انتھک محنت کر کے ، یہ مملکت خداداد ، دلوائی ۔ مگر قائداعظم کی رحلت کے بعد ہما ری نا عاقبت اندیش قیا دت نے اس بے نظیر خطے پر اپنا تسلط جما لیا ۔ اور ایک ایسے نظام کو رائج کرنا بہتر سمجھا جو قیام پا کستان کی روح کے منا فی ہے ۔ آج جس صورتحال سے ہما ری مقدس زمین دو چار ہے ۔وہ شاید اسی کا شاخسانہ ہے جس کے نتیجے میں ہر دن ہر شعبہ میں ہم رو بہ زوال ہیں ۔ پا کستان میں ہم نے ہر ایک نظام کو اپنا کر دیکھ لیا ہے ۔کوئی بھی ہمارے لیے اکثیر ثابت نہیں ہوسکا ۔ عوامی طبقہ کے سوا ہر طبقہ ریا ست پر متقدر رہ چکا ہے۔ ان میں ہر قسم کے کا ری گر سیاست دان ، بیوروکریٹس ، جا گیردار اور سرکاری ملازمین نے بھی وقتاً فوقتاً اقتدار کے مزے لوٹے ہیں۔ وطن عزیز جس وعدے پر حاصل کیا تھا ۔ جب تک پو را نہیں کیا جا ئیگا ۔ ہم راندہ در گاہ ہی رہیں گے ۔ موجودہ حالات کے پیش نظر اللہ کی زمین پراللہ حاکمیت اور عوام کی شراکت ہی ہما ری ڈوبتی ہوئی نائو کو پا ر لگا سکتی ہے ۔ مگر مغر بی جمہو ریت کی موجو دگی میں ایسا ہونا مشکل تو ضرور ہے ۔ مگر ناممکن نہیں ؟ کیونکہ فی الواقعہ مو جودہ حکمرانوں کی بقاء اسی سے وابستہ ہے ۔ جس کی مثال مو جو دہ حکومت کے چار، ساڑھے چار سالہ دور حکومت ہے۔ ان کو ہر قسم کی سیاسی سپورٹ ، بھر پور تائید ہو نے کے باوجود بھی ، کراچی میں روزانہ قتل عام معمول بن کر رہ گیا ہے مگر حکومتی بیان کے علا وہ کوئی عمل درآمد ہو تا نظر نہیںآتا ۔ ایک دوسرے پر الزام دیکر یوں سرخرو ہوجا تے ہیں کہ قتل جیسا بڑا گناہ جیسے کوئی بات نہیں ، دراصل یہ جمہوری نظام کی سب سے بڑی خامی ہے۔ وہ اس لیے ، نہ قاتلوں کو سزا دینے کیلئے پا رلیمنٹ کی متفقہ رائے ہو ، پھر قانون بنے ، تب جا کر جرم کرنیوالوں کو سز ا ملے ،‘‘ ایسے حالات اور نظام حکومت میں اللہ سبحان تعالیٰ کی نصرت کہا ں پہنچ سکتی ہے۔ ارشاد ربانی ہے ۔ ترجمہ :’’ اور جب ارادہ کر تے ہیں کہ ہلاک کر دیں کسی بستی کو تو وہاں کے رئوسا و اشرافیہ کو فواحش پر ما مور کر دیتے ہیں وہ نا فرمانیاں کر تے پھرتے ہیں ۔ اس (بستی ) میں پس واجب ہو جا تاہے ان پر عذاب کا حکم پھر ہم اس بستی کوجڑ سے اکھاڑ کر رکھ دیتے ہیں ۔ ‘‘ سورئہ بنی اسرائیل ۔ شاید ایسا ہی وقت ہما رے بد اعما لیوں کے باعث آپہنچا ۔ہما رے سیاسی شعبدہ باز آج تک ہمیںیقین دہانی کرواتے چلے آئے ہیں کہ مغربی جمہوریت میں ہی ہما ری بقاہے ۔ ستر سالوں سے جا ری ساری اور مسلط شدہ مو جو دہ نظام نہ تو ہمیں کچھ تحفظ دے سکا اور نہ ہی اسکے بل بوتے پر ہم پا کستان کو فلا حی ریاست بنا سکے ۔ ہا ںکچھ پیش رفت ہوئی ہے تو ، اشرافیہ کی ہوئی ہے۔ جنہوں نے ہر طرح کی کرپشن سے تجوریا ں بھرنے کے بعد ، سرکا ری گاڑیاں ، شوفر الائونسز ، عملہ ، خدمت گار ، خانسامے ، غیر ملکوںمیں علا ج ،کسٹم فری گاڑیاں ان کیلئے ہمہ وقت پیش خدمت ہیں۔ اب ارض پا کستان سے اور کچھ کیا وصول کرنا باقی رہ گیا ہے۔ ڈوبتی ہوئی معیشت سے مزید کیا نچوڑا جا سکتا ہے ۔ اسکے بدل میں عوام کی تڑپتی لاشیں ، اغواء برائے تاوان ، بم بلا سٹ، زنا بالجبر ، آبروزی ، قہر کی زد میں روتے چلا تے عوا م وقت کے حاکم کو پکار رہے ہیں۔ مگر انکی پکا ر سننے والا کوئی نہیں ۔ یہ ساری اذیتیں کسی اسلامی نظام میں وقوع پذیر ہوئیں تو خدا گواہ ہے یا اسلام مٹ جا تا یا پھر ان مجرموںکا کڑا احتساب ہو تا جن کے دامن معصوم لو گوں کے خون سے تر ہیں ۔ مو جو دہ جمہوری نظام کسی طر ح بھی اسلا م کا نعم البد ل نہیں ۔ ہمیں سچ سے کام لیتے ہوئے ، پو را پورا اسلامی نظام لانا ہو گا ۔ سیاسی اکا برین جس مار شل لاء سے عوام کو ڈراتے ہیں۔ اس کا آئندہ لگنا مشکل ہے ۔ کیونکہ امریکہ اور دیگر اسکے اتحادی پہلے اپنے مفاد کیلئے جس مارشل لا ء کی حما یت کر تے تھے ، مگر آج وہ کام جمہوریت کی چھتری تلے پنپ رہاہے۔ رات دن جمہوریت کے گیتوں سے اب عوام بھی اتنی سحر زدہ ہے کہ اس کیخلا ف بات کرنا ، مشکل دیکھائی دیتاہے۔ جمہوریت کے پیروکاروں نے جمہو ریت کے گرد ایک ایسا حصار بنا رکھا ہے کہ اسکے دوام کیلئے ہمہ وقت کو ششیں جا ری ساری ہیں ۔ کبھی کبھی ایسی جمہوریت بھی اچانک آن ٹپکتی ہے ۔ جو ایک آدھ شریعت بل کو ہی پو را پورا اسلام نفاذ کرنے کے مترادف سمجھتی ہے حالانکہ شریعت بل کی بجائے اسلامی بل کو نا فذ ہو نا چاہیے ۔ اگر ایسا نہیں تو پھر یا پھر پورے مسلمان ہو تے ہیں یا پھر مسلمان نہیں ہوتے ۔
مگر تب ہی ممکن ہے جہا ںاکثریت کی بنیاد پر فیصلہ کرنے کی بجائے اہلیت کو مقدم سمجھا جائے ۔ سیاسی اکا برین آج تک یہی سبق دہرائے جا رہے ہیں کہ بد ترین جمہوریت بھی ما رشل لا ء سے کہیں بہتر ہے اور جمہو ریت بہترین انتقام ہے ۔ دیکھا جائے تو ایک حد تک سچ بھی ہے ۔ اس نظام حکومت نے تریسٹھ سال سے زائد مدت گزرنے کے باوجود بھی عوام اور ملک کو کس قدر سبوتاز کیا کہ عام آدمی تو دووقت کی روٹی کیلئے اور رات بسر کر نے کیلئے سائبان کو تر س رہا ہے ۔واقعتا عوام سے بہترین انتقام ہے ۔اسکے برعکس اشرافیہ جو کسی وقت راندہ در گاہ تھیں ہر طر ح سے ما ل مال ، خوشحال ہو گئیں لہذا وہ ایسے نظام کو کیونکر لانے کیلئے غلطی کریں گی جس سے انکے اعمال کی بابت پو چھا جا سکتا ہے ۔ جب بھی کسی نے اسلامی نفاذ کے قیام کیلئے تھوڑی سی کو شش کی ،ہمارے حکمرانوں نے اسکے خلا ف ایسے ایسے فروعی مسئلو ں کو لا کھڑا کر دیا جس سے اسلام کے بارے میں ایسا تاثر ملے کہ فی زمانہ میں یہ تو قابل عمل نہیں ۔ گو عوام موجودہ جمہوری نظام کو بہ امر مجبوری قبول کیے ہوئے ہیں ۔ مگر دل سے وہ ایک اسے نظام کیلئے ضرور متلا شی ہیں جن میں قانون کا اطلا ق سب پر لا گو ہو۔ اور وسائل پر بحیثیت کا ر کر دگی ان کا حصہ ہو ۔ اس بات پر ہمیں یقین کر لینا چاہیے کہ اس غیر منصفانہ نظام کو بدلنے میں ہی ہما ری بقاء ہے ۔ ناسور کے اوپر مرہم لگا تے لگاتے اب اس کا زہر وطن کے ذرے ذرے میں سرایت کر گیا ہے۔ جب تک اس کو نشتر کے ذریعے صاف نہیں کیا جا تا ہما رہ زندہ رہنا محال دیکھا ئی دیتاہے ۔ یہ فرض چاہے مغربی جمہوریت ادا کرے یااسلامی نظام حکومت یہ فرض کسی نے تو بہر حال ادا کرنا ہی ہے ؟