امریکی چرچ میں دہشت گردی

07 نومبر 2017

امریکی ریاست ٹیکساس میں اتوار کے روز ایک چرچ میں دہشت گردی کی سنگین واردات کی گئی جس میں ابتدائی اطلاعات کے مطابق چھبیس افراد جان سے ہاتھ دھو بیٹھے، خبروں میں بتایا گیا ہے کہ حملہ آور بھی مارا گیا۔
اس واردات کی جس قدر بھی مذمت کی جائے کم ہے، دہشت گردوں کا کوئی مذہب نہیں۔مگر بدقسمتی سے اسے ا سلام سے جوڑ دیا گیا ہے ا ور امریکہ میں تو اسلامو فوبیا کی ایک زہریلی لہر پھیلی ہوئی ہے۔
نائن الیون کے بعد امریکہ نے دہشت گردی کے خاتمے کے لئے افغانستان اور عراق کو نشانہ بنایا۔پندرہ برس گزر گئے، اس فتنے کو جڑ سے نہیں اکھاڑا جا سکا اور یہ کہیں نہ کہیں اپنی بھیانک شکل میں ظہور پذیر ہوتارہتا ہے۔یمن، صومالیہ، سوڈان، سعودی عرب، اسپین، برطانیہ ، بلجیم ، بھارت اور پاکستان اس کی شدید لپیٹ میں آئے۔اب شام عالمی طاقتوں کی دہشت گردی کا نشانہ بنا ہوا ہے اور طرفہ تماشہ یہ ہے کہ باقی ہر ملک میں امریکہ اور نیٹو کی داعش کے خلاف لڑائی چل رہی ہے مگر شام میں امریکی کانگرس کی باقاعدہ منظوری سے داعش کو ڈالرا ور اسلحہ دونوں چیزیں دی جا رہی ہیں۔ اب یہی داعش افغانستان اور پاکستان کی طرف رخ کر رہی ہے، کون جانے کہ اسے کس کی سرپرستی حاصل ہے۔
دہشت گردی اصل میں ایک ایسا فتنہ ہے جو ہشت پا ہے، اس کے کئی روپ اور کئی استعمال ہیں، اسے ہر کہیں کسی نہ کسی بڑی طاقت کی سرپرستی حاصل ہے۔ایک بدقسمتی یہ ہے کہ آزادی کی جنگوں کو بھی دہشت گردی کے زمرے میں شمار کیا جاتا ہے۔بر صغیر میں انگریز کے خلاف آزادی کی جنگ کو بھی بغاوت ہی کہا گیا، فلسطین میں یاسر عرفات کی تحریک آزادی پر بھی دہشت گردی کا لیبل لگایا گیا۔کشمیر میں ستر برس سے ا ٓزادی کی تحریک چل رہی ہے مگر اسے دہشت گردی قرار دے کر بھارتی افواج طاقت کے ذریعے کچلنے کی کوشش میں ہیں، نیلسن منڈیلا کو بھی ایک وقت تھا کہ دہشت گرد ہی کہا گیاا ور برسوں سلاخوں کے پیچھے پھینک دیا گیا۔ آئر لینڈ میں علیحدگی مانگنے والوں سے بھی دہشت گردوں کا سا سلوک کیا گیا۔ ابھی چند روز قبل اسپین کے علاقے کیٹے لونیا نے باقاعدہ پارلیمانی عمل کے ذریعے آزادی حاصل کی مگر اسے بغاوت پر محمول کیا گیا ہے۔ایک زمانہ تھا جب خود امریکہ نے جارج واشنگٹن کی لیڈر شپ میں برطانیہ سے ا ٓزادی کی جنگ لڑی ، اس امریکہ کو تو آزادی ا ور دہشت گردی کے فرق میں تمیز کرنی چاہئے۔
رہی عام دہشت گردی توا سے صرف مسلمانوں کے سر منڈھ دینا کوئی قرین انصاف نہیں، عالم اسلام خود دہشت گردی کا شکار ہے، ترکی میں بم دھماکے ہوتے رہے، سعودی عرب میں دھماکے ہوتے رہے ا ور ایک دھماکہ تو مسجد نبوی کے قریب کرنے کی کوشش کی گئی جسے سعودی سیکورٹی فورسز نے ناکام بنایا، پاکستان کی بات کیا کی جائے، اس ملک میں نائن الیون سے پہلے امن اورچین کا راج تھا مگر جب سے مشرف کے فیصلے پر دہشت گردی کے خلاف کمر کسی تو یہاں بھی دہشت گردی کا سونامی چل نکلا، پچھلے برسوں میں ساٹھ ہزار افراد شہید ہو چکے ، ان میں مسلح افواج کے چھ ہزار افسرا ور جوان بھی شامل ہیں، پاکستان کی معیشت کو کھربوں کا نقصان الگ اٹھانا پڑا مگر امریکہ اور ا سکے ہم نوا پاکستان کو طعنوں کا نشانہ بناتے ذرا نہیںجھجکتے اور ڈو مور کی رٹ لگائے چلے جا رہے ہیں۔پاکستان ہزار وضاحتیں کرتا ہے کہ اس نے لال مسجد سے شروع کر کے سوات، مالا کنڈ، فاٹا، بلوچستان ا ور کراچی تک دہشت گردوں کا پیچھا کیاا ور ان کی کمر توڑ دی ہے مگر ہماری بات پر کوئی اعتماد کرنے کو تیار ہی نہیں، یہ ہمارا نہیں، دنیا کا المیہ ہے کیونکہ بے جا شکوک و شبہات سے دہشت گردی کے خاتمے میں رکاوٹیں پیش آتی ہیں پاکستان کی فوجی امداد بند کر دی گئی ، وہ جنگی ہیلی کاپٹر واپس لے لئے گئے جو دہشت گردوں کے خلاف ا ٓپریشن میں استعمال کئے جاتے تھے مگر امریکہ کے پاس تو ایسے اسلحے کی کوئی کمی نہیں، پھر ا سکی سرزمین دہشت گردی کا نشانہ کیوں بنتی ہے، یہ امریکہ کے لئے لمحہ فکریہ ہے اور عالمی برادری کو بھی سوچنا چاہئے کہ دہشت گردی کے فتنے پر قابو پانے کے لئے اجتماعی طور پر کیا تدابیر اختیار کی جا سکتی ہیں۔ اس مقصد کے لئے ایک تو اقوام متحدہ کو دہشت گردی اور تحریک حریت میں نمایاں فرق ملحوظ رکھنے کے لئے واضح الفاظ میں ایک بیانیہ تیار کرنا چاہئے، دوسرے ساری دنیا کو متحد ہو کر انٹیلی جنس شیئرنگ کا مرکزی سنٹر تشکیل دینا چاہئے تاکہ ہر ملک ایسی اطلاعات پر اپنی جگہ چوکس ہو جائے ا ور جونہی کوئی دہشت گرد اس کی حدود میں داخل ہو تو کسی واردات سے قبل ہی اس کا سر اڑا دیا جائے۔
امریکہ ایک سپر پاور ہے، اس پر ذمے داری بھی بھاری عائد ہوتی ہے۔ وہ الزام بازی سے باز رہے اور ٹھوس معلومات کی بنیاد پر کسی ملک کو کاروائی کے لئے کہے نہ کہ اپنے ڈرون مارنے شروع کر دے۔ ڈرون بازی بھی رد عمل پیدا کرتی ہے اور دہشت گرد امریکہ سے تو نہیں لیکن بے گناہ لوگوں کو نشانے پر دھر لیتے ہیں۔ اس لئے بہتر ہو گا کہ متعلقہ ملک ہی اپنے ہاں کے دہشت گردوں کاقلع قمع کرے ، امریکہ کسی کے اقتداراعلیٰ کو روندنے کی کوشش نہ کرے جیسا کہ ا س نے ایبٹ آباد پر حملے کی صورت میں کیا تھا اور اسامہ کے خلاف خود ہی ایک پرا سرار سی کارروائی کر ڈالی جس کا کوئی سر تھا نہ پیر۔
آج دنیا گلوبل ویلج میں تبدیل ہو چکی ہے۔ا س لئے انسانیت کے دشمنوں سے نبٹنے کے لئے سب کو سر جوڑ کر بیٹھنا چاہئے ، اول تو اقوام متحدہ کا پلیٹ فارم میسر ہے جہاں تمام ممالک اتفاق رائے سے اینٹی ٹیرر پالیسی تشکیل دے سکتے ہیں۔اس پالیسی کا بنیادی نکتہ یہ ہونا چاہئے کہ دہشت گردی کا ناطہ اسلام سے نہ جوڑا جائے۔ یہ بلا وجہ امن پسند مسلمانوں کو بدنام کرنے کی کوشش ہے۔ اسلام تو امن و سلامتی کا مذہب ہے۔دوسرا نکتہ یہ تسلیم کیا جائے کہ پاکستان نے سب سے زیادہ دہشت گردی کو کچلنے کی کوشش کی ہے، اس لئے اسے نکو نہ بنایا جائے اور اس کی خدمات کاا عتراف کیا جائے۔ تیسرا نکتہ جو میں تجویز کروں گا ، اسے سنجیدگی سے لیا جائے۔ اب تک یہ ثابت ہو چکا ہے کہ امریکہ اور ا سکے اتحادی دہشت گردی کو ختم کرنے کے بجائے اس میں اضافہ کا باعث بنے ہیں اس لئے بہتر ہو گا اسلا می اتحاد فورس کی طرز پر ایک عالمی ا تحادی فورس تشکیل دی جائے اور دہشت گردی کے خلاف ہر آپریشن اسی کی کمان میں دیا جائے۔ اجتماعیت کی طرف یہ ایک بڑا قدم ہو گا۔
٭٭٭٭٭