’’خودی نہ بیچ‘‘

07 نومبر 2017

عالمی شہرت یافتہ ایٹمی سائنسدان اور محسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا ہے کہ نوجوانوں نے ملک کی باگ ڈور سنبھالنی ہے اور وہی پاکستان کا مستقبل ہیں اور انہیں ملک میں جہاں بھی کوئی برائی نظر آئے تو اس کا قلع قمع کر دیں اور پاکستان کو ایک صاف، شفاف اور اسلامی اقدار سے ہم آہنگ ریاست بنا دیں وہ اگلے روز نوجوانوں کی علمی اور سماجی تنظیم ’’پازیٹو پاکستان‘‘ کے زیر اہتمام انسٹیوٹ آف لینگوئج آرٹ اینڈ کلچر میں ’’خودی نہ بیچ‘‘ کہ موضوع پر منعقدہ ایک پروقار تقریب میںمہمان خصوصی کے طور پر خطاب کررہے تھے۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے کہا کہ نوجوانوں کو چاہیے کہ وہ تلاوت قرآن کریم کو اپنے روز مرہ کے معمولات کا حصہ بنا لیں اور اس کو سمجھ کر اس کی تعلیمات پر عمل کریں جس سے ایک پاکیزہ معاشرہ تشکیل پذیر ہوگا جو ملک و قوم کے لئے بہتر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ ایٹم بم میں نے بنایا اور اس سلسلے میں ذوالفقار علی بھٹو کو تجویز پیش کی جو انہوںنے قبول کر لی اور اس طرح ہم نے ملک کو ایٹمی قوت بناکر اپنے ازلی دشمن بھارت کی گیڈر بھبھکیوں کا منہ توڑ جواب دیا انہوں نے کہا کہ اٹیم بم کی تیاری میں ذوالفقارعلی بھٹو اور ضیا الحق نے میری بڑی مدد کی۔ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ کرپشن اور جھوٹ ہمارے معاشرے، سیاستدانوں اور حکمرانوں میں سرائیت کر گیا ہے نوجوانوں کو آگے بڑھ کر اسے ختم کرنا ہوگا۔ ڈاکٹر عبدالقدیر خان جو اپنے نام سے موسوم ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال ٹرسٹ لاہور کے چیئر مین بھی ہیں نے کہا کہ ملک میں صحت سے متعلق طبی سہولیات کا فقدان ہے اور خصوصاً غریب اور پسماندہ طبقہ اس حوالے سے بری طرح متاثر ہورہا ہے ۔ اس کے پیش نظر ہم نے نادار اور مستحق مریضوں کے لئے 2015 میں ہسپتال کی بنیاد رکھی جس کے تحت اب تک لاکھوں مریضوں کا مفت علاج کیا جا چکا ہے اور ہنوز یہ سلسلہ جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہم علاج کے ساتھ ساتھ ادویات بھی مفت فراہم کرتے ہیں اس طرح اب تک دو لاکھ سے زیادہ مریضوں کا مفت علاج کر چکے ہیں علاوہ ازیں ہمارے ہسپتال میں پاکستان کا سب سے بہترین ڈائیلسز سنٹر بھی قائم ہے جہاں ہم مفت ادویات کے ساتھ ساتھ غریب طبقے کے لوگوں کا علاج بھی مفت کرتے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مریضوں کی بڑھتی ہوئی تعداد کے پیش نظر ہم نے پہلے سے موجود ہسپتال کی عمارت کے ساتھ ایک نو منزلہ اور 300 بستروں پر مشتمل نئی عمارت بھی تعمیر کررہے ہیں جس پر تیزی سے کام ہو رہا ہے جو تقریباً ڈیڑھ دو سالوں میں پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گی جہاں ہر مرض کے ماہر ڈاکٹرز غریب مریضوں کو مفت علاج کی سہولیات فراہم کریں گے ۔ انہوں نے حاضرین اور مخیر حضرات سے اپیل کی کہ وہ اس سلسلے میں تعاون کریں اور نقد عطیات کے علاوہ میٹریل کی صورت میں بھی مدد کریں اور اپنے پیاروں کے نام پر کمرے اور وارڈ تعمیر کرائیں۔

تقریب سے معروف صحافی مجیب الرحمن شامی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ آج پاکستان جس مقام پر ہے وہ کسی اور مسلم ملک کوحاصل نہیں اور یہ سب ڈاکٹر عبدالقدیر خان کی وجہ سے ہے۔ جنہوںنے اپنا سب کچھ پاکستان پر نچھاور کردیا اور ایٹم بم بنا کر ملک کو ناقابل تسخیر بنا دیا اور اب پاکستان کا کوئی بھی دشمن اس کو میلی آنکھ سے دیکھنے کی جرأت نہیں کر سکتا انہوں نے کہا کہ نوجوان آگے بڑھیں محنت اور ہمت سے کام لے کر ملک و قوم کو مستحکم اور خوشحال بنانے میں کوئی دقیقہ فرو گراشت نہ کریں انہوں نے کہا کہ قائد اعظم محمد علی جناح اورشاعر مشرق علامہ اقبال اپنے اخراجات کی ایک ایک پائی کا حساب رکھتے تھے اوردیانت داری کا قابل مثال اور قابل تقلید نمونہ تھے ۔ ممتاز صحافی ارشاد احمد عارف نے کہا کہ نوجوان صرف اور صرف پاکستان کا سوچیں جو انکے مستقبل کا امین ہے انہوں نے کہا کہ لاہور کبھی کتاب اور اہل کتاب کی محفلوں کا شہر تھا اور اب ایسا نہیں ہے نوجوانوں کو مطالعے کی بھی عادت ڈالنی چاہیے ڈاکٹر حسین پراچہ نے کہا نوجوان یہ فیصلہ کر چکے ہیں کہ پاکستان کو ایک پازٹیو ریاست بنائیں گے جس کے لئے آج کا نوجوان متحرک ہے اور اس کی پہلی ترجیح پاکستان اور نظریہ پاکستان ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو خراج تحسین پیش کرتے ہوئے کہا کہ یہ ڈاکٹر صاحب ہی تھے جن کی بدولت ہم نے بھارتی ایٹمی دھماکے کا جواب بھی بھرپور انداز میں ایٹمی دھماکے سے دیا۔ تنظیم پازٹیو پاکستان کے صدر عابد اقبال کھاری نے کہا کہ یہود اور ہنود ہمیشہ پاکستان، اسلام اور عالم اسلام کے ساتھ سازشوں میں مصروف رہتے ہیں پاکستان اسلام کے نام پر وجود میں آیا تھا اور قائداعظم محمد علی جناح کی سربراہی میں قیام پاکستان کی جدوجہد کے وقت جو عوامی جذبات پائے جاتے تھے ہم ان جذبات کا احیاء کریں گے اور پاکستان کے لئے کسی قسم کی قربانی دینے سے دریغ نہیں کریں گے اور آج کے نوجوان کو اقبال کے فلسفہ خودی کی عملی تصویر بنائیں گے معروف ٹی وی اینکر پرسن اقرار الحسن نے حاضرین سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہم ملک کے ایک کونے سے دوسرے کونے تک باعزت، باوقار اور مستحکم پاکستان بنائیں گے۔ جس کے پاسپورٹ کو ہم بڑے فخر کے ساتھ غیر ملکیوں کو دکھا سکیں گے انہوںنے نوجوانوں کو تلقین کی کہ وہ دیانتداری سے اپنے فرائض انجام دیں اور نتیجہ رب العزت پر چھوڑ دیں۔ انہوں نے اس پر مسرت کا اظہار کیا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان صاحب جیسی عالمی شہرت کی حامل شخصیت میرے پروگرام کو دلچسپی سے دیکھتی ہے جو میرے لئے اعزاز ہے۔ اقرار الحسن نے راقم الحروف سے پروگرام کے دوران الگ سے ایک ملاقات کرکے اس امر کی یقین دہانی کرائی کہ وہ ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال کے لئے پورے خلوص اور جوش و جذبہ کے ساتھ کام کریں گے۔ پنجاب انسٹیٹوٹ آف لینگوئج آرٹ اینڈ کلچر کی ڈائریکٹر جنرل صغریٰ صدف نے کہا کہ علامہ اقبال کا فلسفہ خودی نوجوانوں کے لئے مشعل راہ ہے تقریب سے ڈاکٹر صباحت رفیق نے بھی خطاب کیا تقریب کے دوران حاضرین گاہے بگاہے فلک شگاف نعرے لگا کرمحسن پاکستان ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو زبردست خراج تحسین پیش کرتے رہے پروگرام کی ابتدا میں گلوکار استاد غلام حسین لالی نے کلام اقبال پیش کرکے محفل کوخوب گرمایا۔ تقریب کے اختتام پر ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے پازیٹو پاکستان کی طرف سے مختلف شخصیات کو شیلڈز بھی دیں۔تقریب میں ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال ٹرسٹ کی ڈائریکٹر عائشہ نذیر بھی موجود تھیں۔
اس پروگرام کے بعد ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے ممتاز ماہر قانون اور سابق وزیر قانون ایس ایم ظفر کی قیام گاہ پر جا کر ان کی عیادت کی اور ان کی جلد صحت یابی کیلئے دعا کی اور پھولوں کا گلدستہ پیش کیا۔ اس موقع پر ممتازقانون دان اور ایس ایم ظفر کے صاحبزادے اور سپریم کورٹ کے سینئر ایڈووکیٹ علی ظفر بھی موجود تھے۔ بعد ازاں ڈاکٹر صاحب نے راقم الحروف کی طرف سے ایک بڑے مقامی ہوٹل میں ڈاکٹر اے کیو خان ہسپتال کو عطیات دینے والی شخصیات کے اعزاز میں دئیے گے عشائیے میں بھی شرکت کی جس میں دوسروں کے علاوہ جنرل (ر) زاہد علی اکبر خان،جنرل (ر) خالد لطیف مغل، حسین احمد شیرازی، ڈائریکٹر پروٹو کول کرنل فاروق عمر، ٹرسٹ کے جی ایم محمد فاروق بلوچ، ممتاز گلوکار عدیل برکی، معروف تاجر عرفان کے علاوہ اعلیٰ سول اور فوجی حکام نے شرکت کی اور ڈاکٹرعبدالقدیر خان کو ہسپتال کی تعمیر کے سلسلے میں اپنی بھرپور تعاون کا یقین دلایا۔

خودی کی خلوتوں

خودی کی خلوتوں میں گم رہا میںخدا کے سامنے گویا نہ تھا میںنہ دیکھا آنکھ اٹھا ...