کرپشن کے خلاف عالمی کریک ڈائون

07 نومبر 2017
کرپشن کے خلاف عالمی کریک ڈائون

لبنان کے وزیراعظم سعد حریری نے سعودی عرب جا کر اپنے منصب سے استعفیٰ دے دیا۔ سعد حریری پاکستان میں وارید کمپنی کے مالک ہیں۔ ان کے پاکستان میں اور بھی بڑے مفادات ہیں ان میں سے سب سے بڑا ان کا انٹرسٹ آج میاں نوازشریف کی صورت میں دائو پر لگا ہوا ہے۔ آج تو میاں نوازشریف کا اپنا بہت کچھ دائو پر لگا ہے۔ وہ جس گرداب اور دلدل میں پھنس گئے اس سے نکلنا ناممکن تو ہے ان کو بچانے والے خود مشکلات کا شکار ہیں۔ ان کو خود آج ایسے سہاروں کی ضرورت ہے جس طرح کے سہارے میاں نوازشریف تلاش کر رہے ہیں۔ جس طرح ان بڑے لوگوں کے مفادات مشترکہ تھے آج ان کی کرپشن کی طرح مشکلات بھی مشترکہ ہیں۔ سعد حریری جان بچا کر سعودی عرب میں جا چھپے وہ میاں نوازشریف کی کوئی مدد نہیں کر سکتے۔ طیب اردگان کی طرح حریری سے بھی میاں نوازشریف کے خاندانی تعلقات تھا۔ اردگان کی بیٹی کی شادی میں میاں نوازشریف اپنی فیملی سمیت شامل ہوئے اور نکاح میں گواہ بھی تھے۔ حریری میاں نوازشریف کے محسنوں میں شامل ہیں۔ وہ میاں نوازشریف کو مشرف کے آہنی ہاتھوں سے نکلوا کر جدہ کے سروپیلس لے گئے تھے۔ ایک رپورٹ کے مطابق میاں نوازشریف کو خاندان سمیت سعودی عرب بھجوانے کا آئیڈیا شوکت عزیز کا تھا۔ بطور عالمی بینکار، ان کے عرب دنیا کے تمام امرائ، شاہی خاندانوں اور بزنس کمیونٹی سے قریبی تعلقات تھے، یہ جنرل مشرف کے وزیر خزانہ بن گئے تو عرب ممالک کے ساتھ پاکستان کی قربت کے لیے مشرف کو نوازشریف کی رہائی پر قائل کیا۔ شوکت عزیز کے لبنان کی الحریری فیملی کے ساتھ بہت اچھے تعلقات تھے اور سعدالحریری سعودی عرب کے ولی عہد پرنس عبداللہ کے بہت قریب تھے۔ شوکت عزیز نے سعدالحریری سے رابطہ کیا اور سعدالحریری نے پرنس عبداللہ سے بات کی۔ جنرل پرویزمشرف ستمبر 2000ء میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے لیے نیویارک گئے۔ پرنس عبداللہ بھی اس وقت نیویارک میں تھے۔ جنرل مشرف اور پرنس عبداللہ کی ملاقات ہوئی۔ سعد الحریری نے ترجمان کا فریضہ ادا کیا اور شریف فیملی کو جدہ بھجوانے کا فیصلہ ہوگیا۔ شجاعت عظیم سعدالحریری کے پائلٹ تھے، شوکت عزیز نے بعدازاں سعدالحریری کی سفارش پر شجاعت عظیم کے بڑے بھائی طارق عظیم کو اطلاعات کا وزیرمملکت بنایا جبکہ میاں نوازشریف وزیراعظم بنے تو شجاعت عظیم کو پی آئی اے کا سربراہ لگا دیا۔ میاں نوازشریف کو 10دسمبر2000ء کو خاندان سمیت سعودی عرب جلاوطن کر دیا گیا۔ اس ڈیل کے محرک شوکت عزیز اور ضامن سعدالحریری تھے۔

سعد الحریری نے ہر کڑے وقت میں میاں نوازشریف کا ساتھ دیا۔ وہ میاں صاحب کے بڑے سورس تھے جو اب نہیں رہے۔ سعودی شاہی خاندان میں میاں نوازشریف کی بڑی اپروچ تھی۔ شاہی خاندان کی اہم شخصیات کے علاوہ میاں نوازشریف کے کابینہ کے وزراء اور مشیروں کے ساتھ ذاتی تعلقات اور فیملی ٹرمز رہے ہیں۔ اپنی نااہلیت کے فیصلے کے بعد گزشتہ دنوں میاں نوازشریف عمرے پر گئے۔ انہوں نے اپنے دوستوں سے اثرورسوخ استعمال کرکے پاکستان کی سیاست میں اپنا سیاسی کردار بحال کرنے کے حوالے سے کردار ادا کرنے پر زور دیا مگر وہاں سے مایوس لوٹنا پڑا۔ ان کا جن پر تکیہ تھا‘ ان کو گزشتہ روز شہزادہ طلال بن ولید سمیت کرپشن کے الزامات میں گرفتار کر لیا گیا ہے۔ شہزاد طلال عموماً شاہی خاندان کے خلاف بیان بازی کرتے تھے جس کو بادشاہوں نے عموماً نظرانداز کیا مگر اب فرمانروا اور ولی عہد کے خلاف الزامات اور بیان بازی کو توہین کا جرم قرار دے کر اس کی دس سال تک قید کی سزا مقرر کر دی گئی ہے۔ گرفتار ہونے والے وزرائ، شہزادوں اور حکام کی تعداد38 ہے۔
نوازشریف کو چین کی طرف سے تعاون کی امید تھی مگر ان کے ہاں کرپشن ناقابل برداشت ہے‘ وہ اپنے کرپٹ وزراء کو پھانسیاں دے رہے ہیں۔ وہ کیسے ایسے شخص کی حمایت کر سکتے ہیں جس کی جائیداد اور اولاد ملک سے باہر ہے اور سب اربوں روپے کی کرپشن کے الزامات کی زد میں ہیں۔ سعودی عرب میں شاہ سلمان کے بادشاہ اور محمد بن سلمان کے ولی عہد بننے کے بعد میاں نوازشریف کے عرب ممالک اور مشرقِ وسطیٰ میں دوستوں کا خاتمہ ہو گیا ہے۔ اب کوئی بیرونی کمک ملنے کا چانس باقی نہیں رہ گیا۔ انہیں اپنے مقدمات کا خود سامنا کرنا ہے اور فیصلے انصاف اور میرٹ پر ہوتے نظر آتے ہیں جن میں بچنے کی کوئی گنجائش دکھائی نہیں دیتی۔ این آر او اور مفاہمت کی کوششوں پر عمران خان اپنے جارحانہ عزائم کے ذریعے مٹی ڈال رہے ہیں۔
سعودی حکمرانوں کے دل میں اگر پاکستان کے سابق وزیراعظم کے لیے کوئی نرم گوشہ تھا تو خود نوازشریف نے شاہ سلمان کو فون کرکے یمن کے خلاف جنگ میں فوج بھجوانے کی پیشکش کرنے کے بعد مولانا فضل الرحمن جیسے لوگوں کے ذریعے پارلیمنٹ میں فوج نہ بھجوانے کی قرارداد منظور کرکے ختم کر لیا۔ آخری دنوں میں جنرل راحیل شریف کو جس طرح رسوا کیا گیا‘ اس کی رنجشیں راحیل شریف کے دل میں موجود ہوں گی جو سعودی عرب کی سربراہی میں قائم 33 ممالک کی مشترکہ فوج کے کمانڈر ہیں۔ طیب اردگان خود اپنے ملک میں مشکلات کا شکار ہیں۔ وہ ناکام فوجی بغاوت کے بعد ڈیڑھ لاکھ افراد کو قید کرکے کیسے سکون کی نیند سوتے ہوں گے جن میں جج، فوج اور سول کے اعلیٰ افسر بھی شامل ہیں۔ طیب اردگان اور عبداللہ گل ایک دوسرے کے مقابل تو ہیں ہی، ادھر فتح اللہ گولن اردگان کے لیے مستقل خطرہ بنے ہوئے ہیں۔ بس ایک مودی میاں نوازشریف کی مدد کو جندل کے ساتھ آ سکتا ہے مگر ان کی کھل کر مدد میاں نوازشریف کی پاکستان میں سیاست کو برباد کرکے رکھ دے گی۔ اس لیے مودی سے میاں صاحب کھل کر مدد کی بات نہیں کر سکتے۔
کرپشن کا پودا پنپتے پنپتے اب تناور درخت بن گیا جس کی جڑیں ملکوں ملکوں پھیل چکی ہیں، اب اس کا گھیرا تنگ ہو رہا ہے اور سرِدست بچنے کا امکان نہیں۔ پاکستان میں مافیاکے خلاف زمین تنگ ہو رہی ہے۔ اگلی باری بلاشبہ پیپلزپارٹی کے لیڈروں کی ہے جن میں آصف زرداری پہلے نمبر پر ہوں گے۔ مجھے یقین کی حد تک امید ہے کہ پاکستان سے لوٹا گیا سرمایہ ملک واپس آئے گا جس میں دو سو ارب ڈالر دو بڑے مافیا لیڈروں کے ہیں۔ فی الوقت حکمران خاندان اب سمندر کی بے رحم موجوں اور تباہ کن طوفان کی لہروں کے رحم وکرم پر ہے۔