اسموگ یا عذاب

07 نومبر 2017

مکرمی! میرے پیارے وطن کے بہت سے علاقے اس وقت سموگ کی زد میں ہیں۔لوگوں کے لیے گھروں سے نکلنا مشکل ہورہا ہے ۔بیماریاں بڑھ رہی ہیں ۔یہ عذاب پہلی بار ہم پہ نہیں اترا ہے ۔بلکہ پچھلے سال بھی ہم ا ن دنوں ایسی ہی صورتحال سے دوچار تھے ۔جن دنوں دھویں کے سیاہ بادل ہمارے سروں پر سوار تھے ۔ہر کوئی چیخ رہا تھا ,پکار رہا تھا ۔درخت لگاو جنت میں گھر بناو کا نعرہ ہم نے بچپن میں بہت سنا تھا ۔آج ہمارے سامنے یورپی ممالک کی خوبصورتی کی مثالیں بھی موجو د ہیں ۔جو وہاں جاتے ہیں وہ برملا کہہ دیتے ہیں کہ وہاں رہنے والوں نے درختوں ,پھولوں اور پارکوں پہ خصوصی دھیان دے کر اپنے لیے اسی دنیا میں جنت کا سا سماں پیدا کیا ہوا ہے۔سموگ پہلی بار ہمارے سروں پہ سوار نہیں ہے ۔پچھلے سال بھی ہم اسے چاہتے نہ چاہتے برداشت کر چکے ہیں ۔ایسی بیماریوں کا فوری علاج ممکن ہی نہیں ہے ۔سموگ کا یہ جو عذاب ہم بھگت رہے ہیں ۔اس کے پیچھے بہت سی کوتاہیاں ہیں بھارت بھی اس میں برابر کا شریک ہے جہاں فصلوں کی باقیات جلا دی جاتی ہیں اور اس طرح وہ دھواں بھی ہمارے حصہ میں آجاتا ہے ۔ہماری حکومتیں اور عوام بھی اس جرم میں برابر کی شریک رہی ہیں ۔یہ سموگ کا عذاب چند دنوں بعد جیسے ہی رب کی رحمت بھری بارش ہوئی ختم ہو جائے گا ۔اور ہم پچھلے سال کی طرح سے پھر ایک بار نئے موسم کی گیت گانے لگیں گے ترقی وہی کرتے ہیں ۔اگر ہم نے آج سے تیس چالیس سال پہلے درخت لگائے ہوتے ہیں ۔سڑکوں کے کناروں پر,گھروں کے باہر,پارکوں میں ,ویران جگہوں پر,دریاوں کے کناروں پر,مارکیٹوں کی نکڑوں پر اور مسجدوں و سکولوں کے اندر ,تو شائد ہم پہ یہ عذاب مسلط نہ ہوتا ۔ہمیں یہ عہد کرنا ہے کہ ہم نے اپنے حصے کا کام کرنا ہے ۔ہم نے بہت سے نئے درخت لگانے ہیں ۔اپنے ملک کو بھی جنت سا بنانا ہے ۔

(ندیم اختر ندیم)