تھانہ کلچر تبدیل کیا جائے

07 نومبر 2017

مکرمی! تقریباً ہفتہ بھر قبل محلہ کے ایک شخص نے ایک رکشہ لوڈر ڈرائیور غریب لڑکے کے خلاف تھانہ موسیٰ خیل میں فراڈ اور دھوکہ دہی کی درخواست دی۔ مقامی تھانہ والوں نے درخواست کے مطابق مطلوبہ لڑکے کو تھانہ بلوایا۔ تھانہ پیشی پر مذکور مطلوب لڑکا اپنے دفاع کیلئے پورا محلہ جمع کر کے لے گیا۔ کون سچا اور کون جھوٹا تھا۔ میرا اس سے کوئی مطلب نہیں لیکن دکھ اس بات پر ہے کہ فقط ایک شخص کی صفائی کیلئے پورا محلہ اکٹھا کرنے اور ایک ایک شخص کا بیان لیکر قیمتی وقت برباد کرنے کا مقصد کیا ہے۔ایسی ابتدائی تحقیقات کیلئے تجویز یہ ہے کہ پٹھانے خان جیسے افراد کی درخواست بمعہ شواہد ثبوت ایک کاپی کر کے مطلوب ملزم کو فراہم کر کے 3 تا 5 دن کے اندر اُس کا تحریری جواب بمعہ گواہی ثبوت طلب کیا جائے۔ تھانیدار صاحب شکوہ جواب شکوہ کا باریکی سے مطالعہ کرنے کے بعد دونوں افراد کو اکیلے بلانے اور اپنا فیصلہ سنا کر مجرم گناہ گار اور جھوٹے شخص کے خلاف بلاامتیاز کارروائی کرتے تو زیادہ بہتر ہوتا۔’فتح محمد موسیٰ خیل، ضلع میانوالی)