مذہبی معاملات پر رائے زنی نہ کریں

07 نومبر 2017
مذہبی معاملات پر رائے زنی نہ کریں

مکرمی! پی پی کے ایک رہنما جو بدقسمتی سے سینٹ پر بھی براجمان ہیں اور خود کو عقلِ کْل سمجھتے ہیں، نے ‘‘ارشاد فرمایا’’ہے کہ عرب کلچر پاکستان میں متعارف نہیں کروا سکتے کیونکہ ‘‘وہ اسلامی نہیں ہے’’ اور ساتھ ہی بھگت سنگھ کی حمائت بھی ‘‘فرمائی’’ ہے۔ کیا ان سے پوچھا جا سکتا ہے کہ ‘‘حضور’’ا گر عرب کلچر اسلامی نہیں تو کیا آپ کے آباؤ اجداد کا اور بھگت سنگھ کا کلچر اسلامی ہے؟ پی پی تو سیکولر ہی نہیں یہ لا دینوں کا ٹولہ ہے جن کے بڑے بڑوں کو قرآن مجید کی چھوٹی سی سورتہ ‘‘سورتہ اخلاص’’ تک نہیں آتی، کبھی نماز کے قریب گئے ہوں تو تب ناں کیو نکہ نماز قرآن کے بغیر کیسے ہو سکتی ہے؟ انکو اسلام اور اسلامی تہذیب و کلچر کا کیا علم اور پھر یہ درفنطنیاں چھوڑنے کا اختیار کس نے دیدیا ؟ ہم بت پرستی سے تائب ہونے کے باوجود اس سے جان نہیں چھڑوا سکے۔ کسی نہ کسی انداز میں عمل، کردار اور زبان سے کر جاتے ہیں۔ لہٰذا ان صاحبان سے گزارش ہے کہ مذہبی معاملات میں ٹانگ اڑانے سے باز رہیں۔ ہمیں معلوم ہے ان کی، انکی خودساختہ جمہوریت اور انکے ضمیر کی اوقات جو ایک ‘‘سیٹ’’ کی قیمت سے زیادہ نہیں مگر کروڑوں بلکہ اربوں اہلِ اسلام کا دل دْکھانے سے باز رہیں۔ میاں محمد رمضان ( ایل ایل بی، ڈی ٹی ایل) قائد اعظم ٹاؤن، لاہور)