پانامہ لیکس کے بعد اب پیراڈائز لیکس!!

07 نومبر 2017

پانامہ لیکس کی طرح دنیا بھر کے پونے چار سو صحافیوں کی تحقیقاتی ٹیم نے طویل کھوج کے بعد گزشتہ روز پیراڈائز لیکس کے عنوان سے جو نئی اور طویل فہرست جاری کی ہے اس میں ملکہ برطانیہ الزبتھ ثانی اور امریکی وزیر خارجہ ٹلرسن سمیت پاکستان کے ایک سابق وزیراعظم شوکت عزیز اور ایک انشورنس کمپنی کے سابق سربراہ ایاز نیازی بھی شامل ہیں۔ ان کے علاوہ سینکڑوں بڑے بڑے نام آئے ہیں۔ آف شور کمپنیاں دولت چھپانے اور ٹیکس بچانے کیلئے بنائی جاتی ہیں۔
اس سے پہلے اسی تحقیقاتی ٹیم نے پانامہ لیکس کے نام سے سینکڑوں آف شور کمپنیوں کے مالکان کو بے نقاب کیا تھا۔ جس نے دنیا بھر میں ہلچل مچا دی تھی۔ بعض ملکوں میں نامزد افراد، تحقیقات سے بچنے کیلئے عہدوں سے مستعفی ہو گئے اور کچھ نے دولت واپس لانے کی شرط پر گلو خلاصی کرا لی۔ اس فہرست میں پاکستان کے بھی کئی لوگوں کے نام تھے۔ لیکن سب سے پہلے وزیراعظم نواز شریف شکنجے میں آئے۔ انکے دو بیٹوں حسین اور حسن کی پانامہ میں آف شور کمپنیاں تھیں۔ تاہم میاں نواز شریف کو دبئی کا اقامہ رکھنے کی پاداش میں سیاست اور قومی اسمبلی کی رکنیت سے نا اہل قرار دیدیا گیا۔ جس پرانکی وزارت عظمیٰ بھی جاتی رہی۔ کوئی نہیں جانتا کہ مشرف دور کے وزیراعظم امریکی شہریت رکھنے والے شوکت عزیز جب امریکہ سے پاکستان آئے تھے تو انکے پاس کیا تھا‘ واپس گئے تھے تو کیا لے کر گئے‘ اس لئے کہ انہوں نے قومی اسمبلی کا انتخاب لڑتے ہوئے اثاثے ظاہر نہیں کئے تھے۔ اب یہ دیکھنا دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ تازہ فہرست کے حاملین کے ساتھ کہا سلوک ہوتا ہے۔ریاست نے اور خود اسلام نے جائز ذرائع سے پیسہ کمانے پر کوئی پابندی نہیں لگائی۔ البتہ ریاست نے عام آدمی کے حقوق کا خیال رکھنے پر بہت زور دیا ہے۔ عہد رسالتِ مآب میںبہت امیر صحابہؓ حضرت عثمانؓ اور حضرت عبدالرحمن عوفؓ بھی تھے۔ لیکن وہ نہ صرف پوری پوری زکوٰۃ ادا کرتے تھے بلکہ غریب اور نادار صحابہؓ کی امداد بھی کرتے تھے۔ جب کبھی اسلامی ریاست کے دفاع کی ضرورت پیدا ہوتی تو وہ گھر کا سارا اثاثہ تک رسالت مآب کی خدمت میں پیش کر دیتے تھے۔پاناما لیکس اور اب پیراڈائز لیکس کے مطالعے سے پتہ چلتا ہے کہ دولت کی ہوس نے کسی ایک ملک یا معاشرے کو نہیں پورے کرئہ ارض کو لپیٹ میں لے رکھا ہے۔ ایک طرف اتنی دولت ہے کہ چھپائے نہیں چھپتی، دوسری طرف بھوک ننگ کا عالم بھی دیدنی ہے۔ اسلام نے دولت کمانے کی نہیں‘ عدم مساوات کی مذمت کی ہے۔ کاش کہ ٹیکسوں سے بچنے کے پاپڑ بیلنے والے اپنی فاضل دولت کو غریبوں میں تقسیم کر کے نیک نامی کماتے اور پانامہ لیکس اور پیراڈائز لیکس کی رسوائی سے بچ جاتے۔