ٹیکساس میں بھیانک دہشت گردی

07 نومبر 2017
ٹیکساس میں بھیانک دہشت گردی

امریکی ریاست ٹیکساس کے ایک چرچ میں فائرنگ 27 افراد ہلاک 30 زخمی ہو گئے۔ حملہ آور فائرنگ کے تبادلے میں مارا گیا۔
عمومی روایت رہی ہے کہ ایسے حملوں کے فوری بعد داعش یا اس جیسی دیگر دہشت گرد تنظیمیں حملے کی ذمہ داری قبول کر کے اپنی طاقت کا اظہار کرتی ہیں مگر اس حملے میں کسی طرف سے ذمہ داری قبول نہیں کی گئی۔ دہشت گرد صرف دہشت گرد ہوتا ہے اس کا کسی مذہب سے تعلق نہیں ہو سکتا۔ ٹیکساس میں حملہ کرنیوالا دہشت گرد مسیحی گھرانے میں پیدا ہوا۔ اسکی دہشت گردی کو مسیحیت سے نہیں جوڑا جا سکتا۔ اسی طرح جو لوگ مسلم گھرانوں میں پیدا ہوئے اور دہشت گردی کی راہ پر چل پڑے‘ ان کا بھی دین اسلام سے تعلق نہیں ہو سکتا۔ یہ بات مغرب کے سمجھنے کی ہے جو اسلام کو دہشت گردی کا مذہب قرار دینے سے بھی گریز نہیں کرتے جس سے بین المذاہب ہم آہنگی بری طرح متاثر ہوتی ہے۔ مسلمانوں کو مجموعی طور پر دہشت گرد قرار دینا قرین انصاف ہے نہ اس کا کوئی جواز ہے۔ جب دہشتگردی کا ارتکاب غیر مسلم کرتے ہیں تو حملہ آور کو ذہنی مریض قرار دے دیا جاتا ہے۔ امریکہ میں دہشت گردی کے پے در پے واقعات ہو رہے ہیں جن میں غیر مسلم ملوث ہیں۔ اگر کوئی دہشت گردی کا مرتکب ہو کر خود کو کسی بھی مذہب سے جوڑتا ہے یا اسکے سرپرست انسانیت کے قتل کی ذمہ داری قبول کرتے ہیں تو وہ قابل مذمت اور قابل گرفت ہے۔ دنیا میں مسلم ممالک کی تعداد 60 کے لگ بھگ ہے‘ کیا کسی ایک ملک میں بھی ایسے لوگ اقتدار میں ہیں جو دہشت گردی کے حامی ہوں؟ بلاامتیاز مذہب و مسلک کسی بھی ملک میں دہشتگردی کیلئے سرکاری سطح پر جائے پناہ نہیں ہے۔ دہشتگردوں کا خاتمہ اولین ترجیح ہونا چاہئے۔ یہ دہشت گرد ذہنی مریض ہو یا خود کو داعش سمیت کسی بھی گروپ سے منسلک ظاہر کرتا ہو‘ ان کیخلاف آج عالمی اتحاد کی کسی بھی دور سے زیادہ ضرورت ہے۔