آیت ’’اسوئہ حسنہ‘‘ کا شانِ نزول

07 نومبر 2017

’’تمہاری رہنمائی کے لیے اللہ کے رسو ل (کی زندگی )میں بہترین نمونہ ہے‘‘۔ (21/33) 

یہ آیت اپنے الفاظ کے اعتبار سے عام ہے۔ اسے زندگی کے کسی ایک شعبہ کے ساتھ وابستہ نہیں کیا جاسکتا۔لیکن جس موقع پر اس کا نزول ہوا،اس نے اس کی اہمیت کو چار چاند لگادیے ہیں۔یہ آیت غزوئہ خندق کے ایاّم میں نازل ہوئی جب کہ دعوت حق پیش کرنے والوں کے راستہ میں پیش آنے والی ساری مشکلات اور آلام ومصائب پوری شدّت سے رونماہوگئے۔دشمن سارے عرب کو ساتھ لے کر آدھ مکاہے۔ یہ حملہ اتنا اچانک ہے کہ اس کو پسپا کرنے کے لیے جس تیاری کی ضرورت ہے۔ا س کے لیے خاطر خواہ وقت نہیں،تعداد کم ہے ،سامانِ رسد کی اتنی قلت ہے کہ کئی وقت خاتمہ کرنا پڑتا ہے۔مدینہ کے یہودیوں نے سنگین وقت پر دوستی کا معاہدہ توڑدیا ہے۔ ان کی غداری کے باعث حالات مزید پیچیدہ ہوگئے ہیں۔دشمن سیلاب کی طرح بڑھا چلاآتا ہے۔اس کے پہنچنے سے قبل مدینہ طیبہ کی مغربی سمت کو خندق کھود کر محفوظ بنادینا ازحد ضروری ہے۔
ان حالات میں حضور سرور عالم صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٰ وسلم اپنے صحابہ کے دوش بدوش موجود ہیں۔خندق کھودنے کا موقع ااتا ہے تو ایک عام سپاہی کی طرح خندق کھودنے لگتے ہیں۔مٹی اٹھا اٹھا کر باہر پھینک رہے ہیں۔دوسرے مجاہدین کی طرح فاقہ کشی کی تکلیف بھی برداشت فرماتے ہیں۔
اگرصحابہ نے پیٹ پر ایک پتھر باندھ رکھا ہے تو شکمِ رسالت پر دو پتھر بندھے دکھائی دیتے ہیں۔ مہینہ بھر شدید سردی میں میدانِ جنگ میں صحابہ کے ساتھ دن رات قیام فرما ہیں۔دشمن کے لشکر جرار کو دیکھ کر بھی پریشان نہیں ہوتے ۔بنوقریظہ (ایک یہودی قبیلہ )کی عہد شکنی کا علم ہوتا ہے ،تب بھی پریشانی نہیں ہوتی۔ان تمام ناگفتہ حالات میں عزم واستقامت کا پہاڑ بنے کھڑے ہیں قدم قدم پر صحابہ کی دلجوئی فرماتے ہیں ، منافقین سے صرفِ نظر کرتے ہیں۔دشمن کو مرغوب کرنے کے لیے کوئی دقیقہ فروگذاشت نہیں کیا جاتا۔
پھر جنگی اور سیاسی خطوط پر ایسی تدبیر یں کی جاتی ہیں کہ دشمن آپس میں ٹکرا جاتا ہے اور حملہ آور خود بخود محاصرہ اٹھا کر ایک دوسرے پر گالیوں کی بوچھاڑ کرتے ہوئے ،ایک دوسرے پرغداری اور عہد شکنی کے الزامات لگاتے ہوئے بھاگ جاتا ہے۔ غرض یہ کہ ایک ماہ کا عرصہ ایسا ہے کہ محبوب رب العالمین صلی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہٰ وسلم کی سیرت طیبہ کے سارے پہلو اپنی پوری دلفریبوں کے ساتھ اجاگر ہوجاتے ہیں۔اس وقت یہ آیت نازل فرمائی گئی کہ ان مہیب خطرات میں تم نے میرے پیارے رسول کا طریقہ کار دیکھ لیا۔یہ کتنا، راست باز انہ سچا اور اخلاص وللّہیت کے رنگ میں رنگا ہوا ہے۔یہی تمہاری زندگی کے ہر موڑ پر تمہارے لیے ایک خوبصورت نمونہ ہے اس کے نقشِ قدم کو خضر راہ بنالو۔اس کے دامن شفقت کو مضبوطی سے تھام لو یقینا منزل تک پہنچ جائو گے۔(ضیا ء القرآن)