منگل ‘ 17 ؍ صفرالمظفر 1439ھ‘7 ؍ نومبر2017ء

07 نومبر 2017

پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے سے حکومت نے ایک ماہ میں10ارب روپے کما لئے

یہ کوئی چھپا ہوا پلان تو تھا نہیں، سب کو معلوم ہے، عالمی عدالت میں آئی ڈی پیز کیس ہارنے کے بعد جو 20یا 22ارب روپے جرمانہ ادا کرنے کا حکم ملا ہے وہ تو کہیں نہ کہیں سے پورا کرنا ہی ہے۔ بس فرق یہ ہے کہ طوطے کی بلا بندر کے سر باندھ دی گئی ہے۔ کیس بجلی کا ہارے ، جرمانہ پٹرولیم مصنوعات استعمال کرنے والوں کی جیبوں سے نکالا جا رہا ہے۔ حکمرانوں کو یا ان لوگوں کو جنہوں نے آئی ڈی پیز کے ساتھ یہ نقصان دہ لغو قسم کے معاہدے کئے انہیں کوئی نہیں پوچھ رہا۔ ان کی جیبوں سے یہ جرمانے کی رقم کیوں نکالی نہیں جا رہی، حالانکہ وہ سب تگڑی آسامیاں ہیں ان کیلئے یہ جرمانہ ادا کرنا کوئی مشکل نہیں۔ ان معاہدوں کے عوض یہ فرشتے کافی کمیشن وصول کرچکے ہیں جو ظاہر ہے اربوں میں ہی ہے۔ یہ ہر بار حکمرانوں کی غلطیوں کی سزا عوام کو کیوں دی جائے،بجلی بل دیکھ لیں ، گیس بل دیکھ لیں، ایسے ایسے معلوم اور نامعلوم ٹیکس ان میں موجود ہوتے ہیں کہ ہمارے فرشتوں کو بھی اس کا علم نہیں ہو پاتا اور پھر آئے روز انکی قیمتوں میں اضافہ کا بم بھی عوام کے سر پر ہی پھٹتا ہے۔ عجب تماشا ہے ٹیکس اور بل عوام دیں، لوڈشیڈنگ بھی عوام ہی برداشت کریں، مزے ہماری اشرافیہ اور حکمران اٹھائیں۔ کمیشن بھی وہی کھائیں۔ نہ انکے گھر سے بجلی جائے نہ انہیں گیس کی قلت ستائے، نہ پٹرولیم کی قیمتوں میں اضافہ ان کی جان کھائے کیونکہ یہ سب کچھ ان کو فری کھاتے یعنی حکومتی کھاتے سے میسر ہے۔ انہوں نے کونسی ادائیگی اپنی جیب سے کرنا ہوتی ہے۔ ہاں البتہ ایک 1½ مرلہ کے گھر میں رہنے والے8نفری کنبے کے سربراہ کو اپنے20ہزار کی تنخواہ سے پانی، بجلی اور گیس کے تمام بل مکمل اور بروقت وصول کرنا حکومت اپنا فرض منصبی سمجھتی ہے۔
٭…٭…٭…٭
لگتا ہے آدم خوروں نے مردم شماری کی، دوبارہ ہونی چاہئے: فاروق ستار
لو یہ بھی کوئی کرنے کی بات ہے، آپ سب کی مرضی سے بلکہ فرمائش پر مردم شماری اور خانہ شماری فوج کی نگرانی میں ہوئی۔ گلی گلی، نگر نگر، فوجی اور سول حکام گھر گھر جا کر گھر والوں سے کوائف جمع کرتے رہے، اس وقت کسی کو ان آدم خوروں سے خوف کیوں نہیں آیا۔ کیا ان آدم خوروں نے ہر گھر سے دو یا چار آدمی ہڑپ لئے تھے کہ آبادی کم ہو گئی۔ مردم شماری و خانہ شماری فارم کے سب خانے گھر والوں کے سامنے پر ہوئے۔ انہوں نے چیک بھی خود کئے تاکہ کوئی سقم نہ رہ جائے، کیا اس وقت سب نے آنکھیں بند تھیں ۔ اب مردہ تن جماعتوں کو کچھ اور نہیں ملا تو مردم شماری کے پیچھے پڑ کراپنے تن مردہ میں جان ڈالنے کی کوشش کر رہی ہیں۔ خیبر پی کے اور بلوچستان میں غیر قانونی طور پر مقیم افغان مہاجروں کی شہریت کے حوالے سے اعتراضات اٹھ رہے ہیں انہیں بھی تو ان کی سرپرست سیاسی جماعتوں نے ہی شناختی کارڈ اور پاسپورٹ بنا کر دیئے تھے۔اس طرح کراچی میں بھی بھارت، بنگلہ دیش، برما کے بے شمار غیر قانونی تاراکین بھی آباد ہیں پھر بھی یہ کمی کا مسئلہ سمجھ سے بالاتر ہے۔ اب کراچی کسی ایک کمیونٹی کا شہر نہیں رہا۔ وہاں اردو کے علاوہ سندھی، پشتو، ہزارہ، بلوچی، مکرانی بولنے والوں کی بھی بڑی تعداد آباد ہے۔ شاید ان کی آبادی میں اضافہ سے ایم کیو ایم والوں کو اپنی نفری کم پڑتی محسوس ہو رہی ہے۔
اپنے ورثے سے پیار ہے، ریحام خان نے برقعہ شٹل کاک اوڑھ لیا
بخدا ریحام تو ویسے ہی جاذب نظر ہیں مگر اس شٹل کاک برقعہ میں تو ان کی زیبائش اور زیادہ نکھر گئی ہے۔ یوں لگتا ہے جیسے کوئی مغربی حسینہ برقعہ اوڑھے کھڑی ہیں ان کی تصاویر دیکھ کر حقیقت میں ؎
سوچیئے تو حسن قاتل کچھ نہیں
دیکھئے تو دیکھتے رہ جایئے
والی کیفیت طاری ہو جاتی ہے۔ شٹل کاک برقع کا فیشن اب ہمارے ہاں ہی نہیں ہندوستان میں بھی متروک ہو چکا ہے مگر ہمارے پہاڑی علاقوں میں آج بھی کہیں کہیں یہ زیر استعمال ہے۔ اس کی شکل و صورت میں تھوڑی بہت ڈیزائن میں تبدیلی تو آ چکی ہے مگر اصل شکل ہنوز اسی طرح ہے۔ افغانستان میں البتہ ابھی تک یہ اس روایتی شان وشوکت کے ساتھ موجود ہے۔ اس کی تراش خراش اور انداز میں نت نئے ڈیزائن کے ساتھ وہاں اسے جدید وقدیم ہی نہیں امارات کی علامت کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے جو جتنا نئے ڈیزائن کا برقعہ پہنے اسے اتنا ہی معزز سمجھا جاتا ہے۔ ویسے بھی افغانستان میں اسے روایتی نہیں عین اسلامی برقعہ کہتے ہیں۔ ہمارے ہاں بھی کبھی پردے والے (نقاب والے) نت نئے ڈیزائن کے برقعے عروج پر تھے ضیاء الحق کے دور کے بعد یہ بھی ختم ہو گئے اس دور میں عام طور پر گھر سے خواتین نقاب ڈالے نکلتی تھیں اس کا فیشن بھی کئی انداز بدل کر ختم ہو گیا۔ اب ریحام نے شٹل کاک جسے ہمارے ہاں ٹوپی والا برقعہ کہتے ہیں۔ پہن کر ہمارے ایک متروکہ ورثے کی یاد دلا دی ہے۔ بہرحال جو بھی ہو ریحام خان اسے پہن کر بہت جچ رہی ہیں۔ اب کہیں اگر ہمارے وڈے خان صاحب کو ان کی یہ ادا بھاگئی تو کیا ہوگا…
٭…٭…٭…٭
کھیلوں کی خراب کارکردگی ، وزیراعظم نے سپورٹس فیڈریشن کی رپورٹ طلب کر لی، پہلی سپورٹس یونیورسٹی بنانے کا فیصلہ
چلیں شکر ہے وزیراعظم کو دیگر مصروفیات کے باوجود کھیلوں کا بھی خیال آ گیا۔ ایک طرف ہمارے وہ کھلاڑی ہیں جو حکومتی سرپرستی نہ ہونے کے باوجود ریسلنگ، باکسنگ، ویٹ لفٹنگ میں نام کما رہے ہیں۔ یہ بچے اور بچیاں بنا کسی حکومتی مدد کے یا محکمہ کھیل کی نوازشات کے اپنے بل بوتے پر ملک کا نام بیرون ملک روشن کر رہے ہیں ان سب کے لبوں پر یہی شکوہ ہے کہ انہیں جیت کے بعد بھی کوئی وطن واپسی پر ویلکم کہنے نہیں آتا۔ دوسری طرف صرف کرکٹ کو ہی پاکستان کا واحد کھیل سمجھ لیا گیا جہاں چڑیا والے بابا سے لے کر سٹریچر یا ویل چیئر والے بابا کا بھی زور چل جاتا ہے اس کے بعد بھی اگر محکمہ کھیل والے کھیلوں کی زبوں حالی کا رونا روئیں تو لوگوں کو حق ہے کہ ان کی عقل کا ماتم کریں۔
جب تک تمام کھیلوں پر توجہ نہیں دی جاتی ان کو حکومتی سرپرستی نہیں ملتی۔ حکومت لاکھ سپورٹس یونیورسٹی بنائے یا سپورٹس کالجز کوئی فائدہ نہیں ہوگا ہمیں پہلے کی طرح دیہی سطح پر شہری سطح پر سکولوں اور کالجوں کی سطح پر ہر طرح کے کھیلوں میں حصہ لینے والے کھلاڑیوں کو تلاش کرنا ہوگا پھر اس ٹیلنٹ کو پالش کرکے ملکی سطح اور عالمی سطح کے مقابلوں میں لانا ہوگا۔