’’خودداری کی ماَچس‘‘

07 نومبر 2017

یرے لیے وہ بڑا صاحبِ قدرومنزلت ہے،اُس سے میراا کثر سامنا ہوتا ہے۔اور اُسے دیکھنے کے بعد میرے ذہن میں وہ بیتا ہوا واقعہ پھر سے تروتازہ ہوجاتاہے۔اور اُسے دوبارہ دیکھنے سے جہاں مجھے اپنی کچھ خفّت یاد آتی ہے وہیں شاید دل کے کسی ایک کونے میں اُس کی عزّت میں بھی مزید اضافہ ہو تاجاتا ہے ۔شاید وہ مجھے نہ ہی جانتا ہے اورنہ ہی پہچانتا ہے۔یہ لوگ ایسے ہی ہوتے ہیں۔بھیڑ بھاڑ میں گمنام سے مگر بہت مضبوط اور حوصلہ مند۔

یہ واقعہ چند ماہ قبل کا ہے میں اپنے شہر کے ایک گنجان سے بازار سے گزر رہاتھا۔اتنے میں وہ قابلِ احترام شخص دونوں پاؤں سے معذور اپنی ایک اکلوتی ریڑھی میں جو اُس کی آمد ورفت کا ذریعہ تھا ماچس کی چند ڈبّیاں لیے بیٹھا بازار کی نکڑ پر موجود تھا۔۔میرے دل میں غلط فہمی پیدا ہوئی جو بعد میں شرمندگی کا باعث بنی۔ عام آدمی کی طرح میرے دل میںبھی اُس کے لیے احساسِ ہمدردی پیدا ہوا اور میں اُس کے قریب سے گزرتے وقت جھکا اور اپنی جیب میں سے دس روپے کا نوٹ نکال کر اُس کی جانب بڑھا دیا۔اُس نے نہایت غصے سے میری طرف دیکھا او مجھے یوں لگا جیسے وہ اپنی قہر آلود نظروں سے مجھے قتل کردے گا۔میں حیران اور ساکت وجامد کھڑا ابھی اُس کی اس حرکت کو سمجھنے کی کوشش کر ہی رہا تھا کہ اتنے میں اُس کی آواز نے میرے سکوت کو توڑا اور وہ مجھ سے پنجابی میں بولنے لگا’’میں منگدا نہیں،اے رکھ اپنے کول ۔۔ماچس لینی اے تے لَے لَے‘ ‘ (میں مانگنے والا نہیں ،اپنے پیسے اپنے پاس رکھو اور یہ ماچس خرید لو اگر خریدنی ہے تو۔۔)۔
قارئین آپ نے سنا تو ہوگا کہ جھٹکا لگنا ،،مگر اُس دن حقیقت میں میں نے وہ جھٹکا محسوس کیا ۔اور اُس شخص نے مجھے اندر تک سے ہلا کے رکھ دیا۔میںاس حالت میں نہیں تھا کہ اُسے کچھ کہتا ۔میں اپنا سا منہ لیے اپنے راستے پر چل پڑا۔۔۔مگر گنگ ہو کر ۔۔سارا راستہ میں اُسی کو سوچتا رہا۔اُس شخص کی عظمت تھی کہ اُس نے اپنی بے بسی ،لاچاری ،معذوری کو اپنی کمزوری نہیں بنایا بلکہ اُس ریڑھی کو اپنا روزگار بنایا۔
رات اپنے بستر پر لیٹے لیٹے میں پھر اُسی واقعے میں کھوگیااور اُس کی آواز میرے کانوں میں پھر سے گونجنے لگی۔میں اسی بے چینی میں کروٹیں بدلتا رہا۔
پھر میرا ذہن اچانک سے اپنے گھر اور اُس کے باسیوںکے معاملات کی جانب متوجّہ ہوا۔ ایک غریب آدمی کی طرح جب سے میرا گھر بنا میںنے قرض لے لے کراُس کی دیواریں پکی کیں ۔اپنی چھوٹی چھوٹی ضروریات کابہانہ بنایا اور سود سمیت قرض اٹھایا۔جسے ادا نہ کرنے کی پریشانی میں آج میں ہلکان ہواجارہا ہوں۔اور آج یہ سوچنے پر مجبور بھی ہو گیا ہوں کہ کیا میں واقعی اس قدر غریب تھا یا صرف اُس غربت کو ایک آڑ بنایا تھا۔جیسے عموما ًہم میں سے اکثر لوگ کرتے ہیںکسی ایسے کام کو جو ہماری عزتِ نفس کے خلاف ہو انجام دینے کے لیے کوئی نہ کوئی پتلی گلی ڈھونڈتے ہیں جو بعد میں شاید بند گلی میں بدل جاتی ہے۔اور میں بھی شاید قرض کی پتلی گلی سے فائدہ اٹھاتے اُٹھاتے اپنی خودداری کا سودا کرتا چلا گیا۔اور اب پریشانی اور پشیمانی کی بند گلی میں قید ہو کر رہ گیا ہوں۔قدرت نے شاید مجھے اتنا غریب تو پیدا نہیں کیا تھا جتنا میں نے اپنے آپ کو سمجھ لیا۔اور قرض کی دلدل میں دھنستا ہی چلا گیا۔اب میں سہارا ڈھونڈ رہا ہوں جو اُس قرض کے بوجھ سے میری گردن چھڑادے۔قرض کا بوجھ بڑا ظالم بوجھ ہوتا ہے صاحب!! !
آپ لوگ سوچ رہے ہوں گے کہ میں اپنے نجی معاملات اور پریشانیوں کی پٹاری آپ کے سامنے کیوں کھول کر بیٹھ گیا ہوں۔تو قارئین اُس کی ایک بڑی وجہ ہے اور وہ وجہ یہ ہے کہ میرے قرض کے بوجھ میں آپ کی گردن بھی جکڑی ہوئی ہے۔آخر کو آپ سب کے سب میرے گھر کے باسی ہیں۔ اور آپ شاید بھول بھی رہے ہوں کہ یہ گھر میرے اکیلے کا نہیں ہم سب کا ہے اور ہم نے اپنے گھر کا پیارا سا نام بھی رکھاہوا ہے۔۔۔جی ہاں۔۔’’پاکستان‘‘ !!!
مگر میں بڑا فکرمند ہوں اور میری تشویش دن بدن بڑھ بھی رہی ہے کہ ہمارا یہ بوجھ جو پہلے سے ہی اتنا زیادہ ہے اُس میں مزید اضافہ ہو رہا ہے اور میرے ناتواں کندھوں میں اتنی سکت نہیں کہ یہ بوجھ برداشت کر سکوں۔اب یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بوجھ کے ساتھ اُ س ماچس بیچنے والے کا کیا تعلّق ہے ۔تو احباب بہت گہرا تعلّق ہے۔ایسا ہی تعلّق جو مرض اور دوا کا ہوتا ہے۔ میری نظر میں وہ علم و دانش والا ہے، وہ ایک چلتا پھرتا روحانی طبیب اور ایک مکتب ہے جو اصل میں ماچس نہیں بلکہ ماچس کی چھوٹی سی ڈبیا میں لپیٹ کر تعلیم دے رہا ہے، ایک عالمگیر سبق پڑھا رہا ہے۔ایک دوا دے رہا ہے بگڑے ہوئے معاشرتی روگ سے نجات کی جس نے ہمیںقرض کے بوجھ کی شکل میں جکڑا ہوا ہے۔اور اُس ماچس کی ڈبیا میں بند دوا کا نام ’’خودداری‘‘ ہے جو نام’’ ترقّی‘‘ نام کے سفر میںہم کہیں دور بھول آئیں ہیں۔
آپ سب حیران ہوں گے کہ میں جب بھی اُس ’’خوددار‘‘ شخص کے سامنے جاتا ہوں تو میرے ارد گرد پشیمانی رقص کرنے لگتی ہے ،اور میں شرمندہ سا ہو جاتا ہوں ۔میرا سر شرم سے جھک سا جاتا ہے اور مجھے یوں محسوس ہوتا ہے گویا وہ تو نام کا معذور ہے ہم تو کردار اور شخصی طور پر معذور ہو چکے ہیں جنھوں نے اپنی خودداری ہی بیچ ڈالی۔میں خاموشی سے اُس کو سلام کر کے کبھی ایک کبھی دو ماچس کی ڈبیاں خرید لاتا ہوں اور انہیں سنبھال کے رکھ لیتا ہوں۔ دوا سمجھ کے۔ایک نصیحت سمجھ کے۔اﷲ ہمیں خودداری عطا فرمائے اورہمارے کندھوں پر پڑے بوجھ کو دور فرمائے۔
٭٭٭٭٭٭