سود خور کے مظالم سے کئی لوگوں کے گھر اجڑ گئے

07 نومبر 2017

میرے سامنے خون میں لت پت ایک لاش پڑی ہے جس کا وجود ریل کی پٹڑی پر اور سر تن سے جدا ہے یہ ایک واپڈا ملازم گلفام کا بے جان لاشہ ہے۔ جس نے کچھ سال قبل ایمرجنسی ضرورت کے تحت سود خوروں سے بطور قرض کچھ رقم حاصل کی۔ وہ رقم کا سود در سود تو ادا کرتا رہا۔ مگر اصل رقم کے حجم میں کمی نہ کرسکا۔ ایک وقت ایسا آیا کہ قسط ادانہ کرسکنے کی وجہ سے اصل رقم میں سود بھی شامل ہونا شروع ہوگیا۔ سود خورو ں نے رقم کے تقاضے اور بلیک میلنگ میں اضافہ کردیا۔ بطور ضمانت دئیے گئے دستخط شدہ بلینک چیک اور پرونوٹ سود خوروں کا بڑاہتھیار تھے۔ گلفام مجبور ضرور تھا۔ لیکن لوگوں کی تھوُ تھُو برداشت کرنے کا روادار نہ تھا۔ سود خوروں نے دھمکی دی کہ رقم واپسی یا جیل۔۔۔ ان کے علاوہ اور کوئی آپشن نہیں۔ اس نے تیسرا آپشن از خود منتخب کیا اور ریل کی پٹڑی پر گردن رکھ کر تن بدن کا روح سے رشتہ ختم کر بیٹھا یہ ایک واقعہ محض بیانیہ ہے۔ اس جیسے کئی واقعات ہمارے گردوپیش میںرونما ہوتے آرہے ہیں۔ مگر پولیس یا انتظامیہ کیا خادم اعلیٰ اور اعلیٰ عدلیہ سمیت کسی کو اسکا نوٹس لینے کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ضلع مظفر گڑھ کی چاروں تحصیلوں کوٹ ادو، مظفر گڑھ، علی پور اور جتوئی میں بااثر فیملیوں کی سینکڑوں سرکردہ شخصیات نے کھاد، سپرے اور نقد رقم پر سود کادھندہ شروع کررکھاہے۔ اس دھندے کی سرپرستی منتخب شخصیات ووٹ کے لالچ میں کرنے پر مجبور ہیں۔ سودخورمافیا نے ہر شہر اور بڑے قصبے میں باقاعدہ کارندے بھرتی کررکھے ہیں۔ جو سادہ لوح اشخاص کے علاوہ لگی بندھی آمدنی کے حامل طبقے سرکاری ملازمین کو کاروبار کے ذریعے آمدنی بڑھانے کا جھانسہ دیکر یا سبز باغ دکھا کر دام صیاد میں پھنساتے ہیں۔ سرکاری ملازمین کو پھنسانے کا بڑا فائدہ یہ ہے کہ یہ تنخواہ دار طبقہ ہے اور ہر ماہ آ ن لائن بنکنگ کے ذریعے بنک سے اپنی تنخواہ وصول کرتاہے سود خور کو ہر ماہ کی یکم تاریخ کو اس کی قسط مل جاتی ہے کیونکہ اس نے قرض حاصل کرنے والے سے نہ صرف مقررہ قسط کی رقم کے چیک وصول کررکھے ہوتے ہیں بلکہ کم از کم تین عدد دستخط شدہ بلینک چیک اور خالی پرونوٹ بھی بطور ضمانت ان کے پاس ہوتے ہیں۔ جونہی تنخواہ کھاتے داروں کے بنک اکاؤنٹ میں جمع ہوتی ہے۔ سب سے پہلے سود خور مافیا کی تحویل میں موجود چیک کیش ہوتے ہیں۔ ذرائع کے مطابق سود کا دھندہ کرنے والی شخصیات کے مبینہ طور پر بنک منیجرز اور کیشیئرز سے رابطے اور یارانے ہیں۔ ایک ایک سود خور کارندہ وقت سے پہلے بنک پہنچ کر درجنوں کی تعداد میں چیک متعلقہ بنکوں کے کیشئرز کے ہاتھوں میں تھما آتاہے۔ جنہیں بنک ٹائم ہوتے ہی پہلے کیش کرلیا جاتاہے۔ چیک ضمانت کے ذریعے سودی کاروبار کی ترویج فطری ہے کیونکہ بنک سے چیک ڈس آنر ہونے کی صورت میں تھانے میں ایف آئی آر کا اندراج دومنٹ کا کھیل ہے اور کوئی بھی سرکاری ملازم اپنے خلاف ایف آئی آر افورڈ نہیں کرسکتا۔ کیونکہ اس کا خمیازہ اسے ملازمت سے معطلی کی صورت میں بھگتنا پڑتاہے۔ سود خور مافیا متاثرہ ملازم کی اس کمزوری کا خوب فائدہ اٹھاتا ہے۔ جس کے تحت سود کا کاروبار کرنے والوں کے خلاف مقدمے کے اندراج کی کارروائی کی جاسکتی ہے لیکن قارئین حیران ہوں گے کہ ضلع مظفر گڑھ کے 21تھانے ہیں۔ پورے ضلع میں سود کا دھندہ بھی عروج پر ہے مگر کسی ایک تھانے میں بڑے سود خور کے خلاف ایک بھی ایف آئی آر درج نہیں ہوئی۔ الٹا مختلف تھانوں میں ڈیڑھ سو سے زائد متاثرین کے خلاف چیک ڈس آنر ہونے کی بناء پر 419-420ت پ کے تحت مقدمات درج کئے گئے اپنے خلاف سود خوروں کے ہتھکنڈوں، غنڈہ گردی اور کارروائیوں سے عاجز درجنوں افراد موت کو گلے لگا چکے۔ پولیس تمام صورتحال کا علم رکھنے کے باوجود آخر اتنی بے بس، عاجز اور بے حس کیوں ہے؟ذرائع کے مطابق خفیہ ایجنسیوں کی رپورٹ کے مطابق تحصیل جتوئی میں ایک سو سے زائد شخصیات سود کے کاروبار سے منسلک قرار دی گئی ہیں حقیقتاً سود خوروں کی تعداد اس سے کہیں زیادہ ہے۔ بہت سے لوگوں کی پردہ نشینی باقی رکھی گئی ہے۔ تحصیل جتوئی میں بااثر اور بڑی برادریوں پیسہ والی پارٹیوں نے سود خور رینٹ ورک پھیلا رکھا ہے جس میں گاہک پھانسنے اور سو فیصد ریکوری یقینی بنانے والے کارندے بھرتی کئے گئے ہیں۔ جو نامی گرامی غنڈے ہیں۔ گاہک پھانسنے والے مڈل مین دو طرفہ کمیشن پر کام کرتے ہیں۔ وہ متاثرین ( مقروض) اور قرض خواہ دونوں سے کمیشن وصول کرتے ہیں۔ سود خوروں کی اتنی بڑی لسٹ کے باوجود ایک بھی سود خور کے خلاف کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔ سود کے کاروبار کے خلاف قانون سازی نمائشی نہیں تو اسے اور کیا نام دیاجائے۔ قانون سازی کا اس وقت تک کوئی فائدہ نہیں جب تک قانون پر عملدرآمد پر سنجیدگی کا مظاہرہ نہ کیا جائے۔ جب کوئی متاثرہ شخص سود خور کے خلاف کارروائی کے لئے کسی تھانے کا رخ کرتا ہے تو اس سے پہلا تقاضا سود خور کے خلاف ثبوتوں کا ہوتاہے۔ وہ کون سا بیوقوف سود خور ہے جو مقروض کو تحریری طور پر لکھ کر دیدے کہ وہ اسے اتنی شرح سود پر اتنی مدت کے لئے رقم دے رہا ہے۔ جو سود در سود اس کے کھاتے میں اضافہ ہوتی رہے گی۔ دوسری بات یہ ہے کہ ضرورت مند تو ضرورت کے ہاتھوں مجبور ہوکر قرض کے لئے ہاتھ پھیلانے پر مجبور ہوتاہے۔ وہ اپنی شرائط پر تو قرض حاصل نہیں کرسکتا جس طرح دیگر مقدمات کی انکوائری ہوتی ہے اسی طرح 419-420 دفعات کے مقدمات کی انکوائری ہونی چاہئے۔ چیک ڈس آنر ہونے کی بناء پر جتنے بھی مقدمات درج کئے گئے ہیںانہیں بیک وقت خارج کردئیے جائیں۔ چیک ڈس آنر ہونے کی بناء پر عدالت کسی بھی شخص کے خلاف مقدمے کے اندراج کا حکم نہ دے۔ سود کے کاروبار کسی بھی شخص کے خلاف مقدمے کا اندراج کا حکم نہ دے۔ سود کے کاروبار سے منسلک شخصیات کے خلاف دستاویزی ثبوت نہ ممکن ہیں سود خوری کا کاروبار کرنے والے شخص کے خلاف تین اشخاص کی حلفاً گواہی پر اس کے خلاف مقدمہ درج کیاجائے۔ ڈی پی او ضلع مظفر گڑھ ، ڈپٹی کمشنر ضلع مظفر گڑھ سے استدعا ہے کہ گلفام خود کشی کیس کی غیر جانبدارانہ تفتیش کرکے ذمہ داروں کا تعین کرکے انہیں قرار واقعی سزادی جائے۔ لاہور کی سڑکوں پر بارش کا پانی کھڑا ہونے کا نوٹس لینے والے خادم اعلیٰ پنجاب اور عدلیہ کے معزز ترین ججز صاحبان سے استدعا ہے کہ سود خوروں کی دھمکیوں سے تنگ آکر خود کشیاں اور ان کے بڑھتے ہوئے رحجان کا از خود نوٹس لیں۔ مزید گھروں کو لٹنے سے بچانے کیلئے آہنی ہاتھوں سے نمٹنے کے اعلانات کا عملی ثبوت دیں۔ جنوبی پنجاب کے سینکڑوں خاندان اور ہزاروں لوگ آپ کو دعائیں دیں گے۔