دھند اور اندھا دھند

07 نومبر 2017

ملک کے بیشتر اضلاع میں عموعی اور جنوبی پنجاب اور اپر پنجاب میں خصوصی طور پر آج کل دھند چھائی ہوئی ہے۔ ویسے تو جنوبی پنجاب کے اضلاع کے نصیب کی بارشیں تو ویسے بھی روٹھی رہتی ہیں یا پھر اپر پنجاب کی چھتوں پر جابرستی ہیں۔ آج کل تو ویسے بھی حکومتی آسمانوں پر بھی گہری دھند کے بادل چھائے دکھائی دیتے ہیں جبکہ بیچاری عوام تو ایک عرصے سے اپنی بھول بھلیوں اور گہری دھندوں کاشکار نظر آتی ہے۔ اس دھند کو سموگ کا نام بھی دیا جا رہا ہے اور اب یہ فوگ میں بھی تبدیل ہوتی جا رہی ہے تاہم یہ جو کچھ بھی ہے عامتہ الناس کے لئے خاصے مسائل کا باعث بنی ہوئی ہے۔ قوم توپہلے ہی انجانے راستوں کی مسافر ہے۔ جہاں منزلوں کے نشان پہلے ہی سے گم نظر آتے ہیں۔ مختلف شاہراہوں پر پھیلی دھند نے سفر کے راستے بھی گم کر رکھے ہیں۔ حد نگاہ تک پھیلی دھند کی وجہ سے ٹریفک کی روانی میں فرق آرہا ہے۔ پروازیں منسوخ ہو رہی ہیں اور آمدورفت کے ذرائع محدود اور مسدود ہو رہے ہیں۔ ٹریفک کے حادثات میں کئی قیمتی جانوں کا ضیائع بھی ہو رہا ہے۔ ایسے میں حکومتی مشینری بھی بے بس نظر آرہی ہے۔ مختلف شہروں میں بجلی کی ترسیل کے نظام میں خلل اور تعطل پیدا ہو رہا ہے اور روزمرہ زندگی میں لوگوں کو مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ابھی تو سردی کا باقاعدہ آغاز بھی نہیں ہوا اس کے ثمرات اور مضمرات کا آنا ابھی باقی ہے۔ جب گھروں میں گیس کی فراہمی بھی ممکن نہیں ہو گی اور صورتحال ’’بسمل کو بسمل اور بنا والی‘‘ درپیش ہو گی۔ 

ملتان سمیت بیشتر شہروں میں بجلی کا نظام درہم برہم ہو رہا ہے اور واپڈا حکام نے بند پلانٹ چلانے کی حکمت عملی پر عمل کرنا شروع کر دیا ہے۔ حیرت اور دلچسپی کی بات یہ ہے کہ ہمارے سارے ادارے کسی بھی آسمانی اور زمینی آفت اور اچانک درپیش آنے والی صورتحال سے نپٹنے کیلئے کوئی حکمت عملی وضع نہیں کرتے بلکہ جب سرپر آتی ہے تو پھر بھاگ دوڑ شروع کرتے ہیں اس وقت تک پانی سروں کے اوپر سے گزر چکا ہوتا ہے۔ اگرچہ آئے روز تعمیر و مرمت کے نام پر بجلی بند کی جاتی ہے لیکن صورتحال پھر بھی جوں کی توں ہے جو پاور سٹیشن بجلی کی پیداوار میں اضافہ کر سکتے ہیں وہ ایک عرصے سے ناقص حکمت عملی کی وجہ سے بند پڑے ہیں اور اب انہیں فعال کرنے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ ایک عرصے سے عوام پر بھاری بلوں کا بوجھ ڈال کر انہیں بلبلانے پر مجبور کر دیا گیا تھا۔ اب شاید واپڈا کو بھی عوام کی حالت زار پر رحم آیا ہے اور بلوں میں تصحیح کا سلسلہ سامنے آرہا ہے اور اہلکاروں کو صحیح اور درست بل بھجوانے کی ہدایات دی جا رہی ہیں۔خداکرے ملک میں کرپشن کے خلاف جہاد کی جولہر چلی ہے وہ بھی برقرار رہنے کی ضرورت ہے۔ اب تو بادشاہت کے نظام میں بھی کرپشن کی دیمک سرایت کرتی نظر آتی ہے اور سعودی عرب میں بھی آپریشن کلین اپ شروع کر دیا گیا ہے۔ کاش ہمارے ملکی خزانے کو بھی نقصان پہنچانے والوں کو کیفر کردار تک پہنچایا جائے اور ہمارے حکمران سیاستدان اور عوامی نمائندے ذاتی مفادات اور مصلحتوں کی بجائے قومی مفادات کو مدنظر رکھیں۔
اس دھند کے موسم میں ویسے بھی بہت سی چیزیں اوجھل ہیں۔ دھند چھٹے تو منظر واضح نظر آئیں ابھی تو بہت کچھ اندھا دھند چل رہا ہے کہ دھند میں بہت سی چیزیں خود بخود اندھا دھند ہونے لگتی ہیں جیسے کہ ٹریفک حادثات اور بعض اوقات حکمرانوں کے فیصلے ایک شخص کے دو نابینا بیٹوں نے اپنے باپ سے پولیس کے محکمے میں بھرتی کی خواہش کا اظہار اس لئے کیا کہ وہ اندھا دھند فائرنگ کے شوقین تھے۔ اسی طرح ہمارے ہاں زندگی کے مختلف شعبوں میں کئی لوگ اپنے اندھا دھند شوق کی تکمیل کے خواہشمند ہیں چاہے ان کی اس خواہش کی تکمیل میں کسی کی جان جائے یا ملکی نظام کا بیڑا غرق ہو وہ اپنی اداؤں سے باز نہیں آتے بلکہ صورتحال کچھ اس طرح کی بن جاتی ہے کہ
تمہاری زلف میں پہنچی تو حسن کہلائی
وہ تیرگی جو میرے نامہ سیاہ میں ہے
کاش اب سب کے ساتھ مساویانہ سلوک ہو۔ احتساب بھی ایسا ہو کہ ہوتا نظر آئے اور ملکی موسم کی طرح حکومتی اور سیاسی موسم بھی کھلتا نظر آئے اور ہر طرف یاس اور ناامیدی کے چھائے ہوئے بادلوں سے چمکتا سورج اور دمکتا چاند دکھائی دے اور ملکی نظام زر اور جبر و استبداد سے جھلسائے ہوئے عوامی چہروں کی چمک دمک اور تازگی بھی نظر آئے تو شاید آنے والے دنوں میں ہم اس دھند اور اندھا دھند طرز عمل سے نجات پا سکیں اور من حیث القوم نیک نیتی کے ساتھ صراط مستقیم پر چلیں تو یقیناً منزل تک جا پہنچیں گے ورنہ تو اس سعی لاحاصل میں یہی صورتحال ہو گی کہ
زندگی ترے تعاقب میں ہم
اتنا چلتے ہیں کہ مر جاتے ہیں