ملتان کے بے تاج بادشاہ پیرطریقت مولانا حامد علی خان کے سالانہ عرس کی تقریبات جاری ہیں

07 نومبر 2017

برصغیر پاک و ہند میں دین اسلام کے فروغ کے لئے کوئی پیغمبر یا نبی نہیں آئے ۔ اس خطے میں تبلیغ اسلام کا جتنا کام ہوا وہ اولیائے کرام نے سرانجام دیا۔حضرت خواجہ نظام الدین اولیائؒ‘ پیر خواجہ معین الدین چشتیؒ اجمیر شریف والے‘ خواجہ بختیار الدین کاکیؒ‘ حضرت داتا گنج بخش ہجویریؒ‘ بابا فرید الدین گنج شکرؒ‘ حضرت مجدد الف ثانیؒ‘ حضرت شاہ عبداللطیف بھٹائیؒ‘ حضرت غوث بہاؤ الدین زکریا ملتانیؒ‘ حضرت شاہ رکن عالم نوری حضوریؒ ۔ ویسے تو اللہ تعالیٰ کے ان خاص بندوں کی فہرست بہت طویل ہے لیکن ملتان میں پیر طریقت‘ رہبر شریعت حضرت مولانا حامد علی خانؒ کی علمی و دینی خدمت کا اعتراف آج بھی کیا جاتا ہے۔ رامپور متحدہ ہندوستان میں آپ کی ولادت ہوئی اور مدرسہ اسلامیہ خیر المعاد رہتک متحدہ ہندوستان میں آپ نے جو فیض جاری کرنا شروع کیا وہ بعد میں مدرسہ اسلامیہ خیر المعاد پاکستان ملتان میں آپ کی رحلت تک جاری رہا۔ آپ نے تحریک قیام پاکستان میں رہتک میں حصہ بھی لیا اور پاکستان کے قیام کے بعد آپ اپنی رامپور واپس چلے گئے۔ قیام پاکستان کے کئی برسوں بعد میرے والد محترم الحاج مخدوم جمیل الدین حامدی آپ کو ملتان لے آئے۔ ہمارے خاندان کو یہ شرف حاصل ہے کہ ہمیں پیر طریقت حضرت مولانا حامد علی خانؒ کی قربت کا شرف حاصل رہا ہے۔ مجھے خود بھی یہ اعزاز حاصل ہے کہ ملتان کے اس بے تاج بادشاہ کے وصال تک میں ان کا سیکرٹری رہا۔ یوں تو پیر طریقت رہبر شریعت مولانا حامد علی خانؒ کے کارہائے نامہ بے شمار ہیں۔اسلام کی سربلندی کے لئے ان کا ڈٹ جانا اور کفر کا مردانہ وار مقابلہ کرنا جبکہ پیرانہ سالی بھی ہو ان کا وہ سنہری کردار ہے جس پر جتنا بھی فخر کیا جائے کم ہے۔ 1970ء کی دہائی میں جب سوشلزم کی یلغار ہو رہی تھی اور محمد عربیؐ کے نظام کے خلاف مذموم اور ناکام کوششیں ہو رہی تھیں۔ ایسے میں ملتان میں اس یلغار کو روکنے کے لئے دینی اور مذہبی قوتوں نے آپ سے قیادت کرنے کی التجا کی اور ساتھ یہ بھی کہا کہ اگر آپ نے یہ فریضہ سرانجام نہ دیا تو پھر روز محشر رب العالمین کے سامنے ہم یہ کہہ دیں گے کہ اے خداوند کریم تیرے دین کو بچانے کے لئے ہم نے مولانا حامد علی خانؒ سے کہا تھا لیکن وہ راضی نہ ہوئے تو اس میں ہمارا کیا قصور ہے تو پھر یہ ہستی مفکر اسلام مولانا حامد علی خانؒ تیار ہو گئے اور یہ سلسلہ بڑھتے بڑھتے تحریک نظام مصطفےؐ کی تحریک 1977ء تک جا پہنچا۔ راقم الحروف تو خود اس عظیم تحریک جو نظام مصطفےؐ کیلئے جاری تھی اپنے چھوٹے بھائی فخر الدین طاہر کے ساتھ پابند سلاسل تھا ۔یہ اعزاز بھی حاصل ہے کہ پاکستان میں تحریک نظام مصطفےؐ کے سلسلے میں گرفتاری دے کر گرفتار ہونیوالوں میں سرفہرست تھا۔ اس تحریک کے سلسلے میں ملتان کے اس بے تاج بادشاہ کی گرفتاری بھی تاریخ کا سنہری اور انمٹ واقعہ ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے پورے اندرون شہر میں کرفیو لگا کر رات کے آخری پہر میں لوگوں کے گھروں کو باہر سے بند کر کے ملتان کے اس بے تاج بادشاہ کی گرفتاری کا منصوبہ بنایا۔ فوج ٹینکوں کے ساتھ شہر میں داخل ہو گئی اور پورے شہر کا محاصرہ کر لیا لیکن پیر طریقتؒ کے دیوانے گھروں کے اوپر سے دیواریں پھلانگ کر اپنے گھروں کے دروازے توڑتے ہوئے اپنے محبوب قائد کی حفاظت کے لئے میدان میں آ گئے۔ فوج بار بار وارننگ دیتی کہ آگے مت بڑھنا لیکن ملتان کے اس بے تاج بادشاہ کے پروانے ٹینکوں اور فوج کو خاطر میں نہ لاتے اور سینے کھول کھول کر فوج کو دعوت دیتے کہ آؤ ہمارے سینے حاضر ہیں گولیاں چلاؤ لیکن ہم اپنے قائد کو گرفتار نہیں ہونے دیںگے۔ آخر کار پیر طریقتؒ اس تاریخی جلوس کی قیادت کرتے ہوئے اندرون شہر سے چوک گھنٹہ گھر تک آئے اور معتقدین کو حکم دیا کہ آپ میرے حکم سے پیچھے ہٹ جائیں اور مجھے اس ظالم و جابر حکومت کے خاتمے کے لئے گرفتاری دینے دیں۔ اس طرح آپ نے فوج کو گرفتاری دی۔ بھٹو حکومت نے جیل میں آپ کو مختلف طریقے سے اذیت دی۔ ادویات کی فراہمی اور خوراک پر پابندیاں لگائیں لیکن اس مرد مجاہد کے پایۂ استقامت میں لغزش نہ آئی۔ جیل سے رہائی کے بعد آپ کا تاریخی استقبال بھی نہ بھلایا جا سکے گا لیکن آپ نے اس موقع پر بھی غرور و تکبر سے اجتناب کیا۔ آپ کی قیادت میں اہل ملتان کسی بھی قسم کی لسانی‘ فرقہ وارانہ تعصبات کا شکار نہ ہوئے اور آپ کی ولولہ انگیز قیادت میں متحد و متفق رہے۔ کوئی لالچ آپکو نہ خرید سکا۔ آپ کے ہوتے ہوئے ملتان کے تمام روایتی سیاستدان جو قوم کا سودا کرتے تھے منظر سے غائب رہے۔ ملتان امن و آشتی کا گہوارہ رہا۔ ہمیں آج بھی پیر طریقتؒ کے نقش قدم پر چلنے کی ضرورت ہے۔