کیا ہم آزاد ہیں؟

07 نومبر 2017
کیا ہم آزاد ہیں؟

پاکستان کو آزاد ہوئے 7 دہائیاں بیت گئیں لیکن یہاں ایسا لائحہ عمل اختیار نہیں کیا گیا جیسا قائد کا نظریہ اور علامہ اقبالؒ کا خواب تھا۔ پاکستان کے حصول کےلئے لاکھوں لوگوں کی قربانیاں دی گئیں جو کہ آج ضائع ہوتی دکھائی دے رہی ہیں۔ اسلام کے نام پر حاصل ہونے والا یہ ملک آج اس دوراہے پر کھڑا ہے جہاں ملک کا نظام کرپٹ‘ بے ایمان اور بے حس لوگوں کے ہاتھوں میں تھمادیاگیا ہے جو اس ملک کا بہت برے طریقے سے استحصال کر رہے ہیں۔ ملک کی حکومت نام نہاد حکمرانوں کے ہاتھوں میں چلی گئی ہے جو غریب لوگوں کا حق اپنے بینکوں میں ذخیرہ کئے بیٹھے ہیں۔ افسوس تو اس بات کا ہے کہ شاعر مشرق علامہ اقبالؒ نے پاکستان کی ترقی کےلئے جو خواب دیکھا تھا وہ شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا۔ علامہ اقبالؒ نے ایک ایسے پاکستان کا تصور پیش کیا تھا جس میں مسلمانوں کو تحفظ فراہم کیا جا سکے اور اقلیتوں کو ان کا حق دیاجائے جہاں ہر کوئی اپنی مرضی سے اپنے مذہب کے مطابق زندگی گزار سکیں جو کہ آ ج کے سیاستدانوں کی باہمی چپقلش اور اختلافات کی وجہ سے ممکن نہیں ۔ آج ہمارا پیارا ملک پاکستان مختلف پارٹیوں کے ہاتھوں میں بٹ کر رہ گیا ہے جہاں ہر کوئی اس کی جڑیں کمزور کرنے پر لگا ہوا ہے۔آج حکمرانوں کے کھانے پینے کی اشیاء‘ بحری اور ہوائی سفر سے لےکر پوتے پوتیوں کے کپڑے تک حکومت کے خزانے سے لئے جاتے ہیں جبکہ قائداعظمؒ حکومتی خزانے کا ایک روپیہ بھی خود پر لگانا قابل اعتراض سمجھتے تھے۔ پاکستان قائداعظمؒ کی ان تھک محنتوں کے بعد معرض وجود میں آیا۔ انہوں نے اپنی صحت کا خیال نہ رکھتے ہوئے پاکستان کی ترقی کی جدوجہد میں بھرپور حصہ لیا۔ ایسے ہوتے ہیں حکمران جو واقعی قوم کی خدمت کرنا جانتے ہیں۔ آج کے حکمران دولت سمیٹنے کے خمار میں رہتے ہیں نہ ہی وہ اس خمار سے باہر آتے ہیں اور نہ ہی عوام کی خاطر خواہ خدمت کر سکتے ہیں۔ بحیثیت قوم ہم مستقل مزاج نہ ہونے کے باعث ستر سالوں میں بھی ترقی نہیں کر سکے جو کہ ایک افسوس کن مرحلہ ہے۔ ہمارا ملک ایک آزاد امیدوار کی حیثیت رکھتا ہے ہمیں اپنے ملک کو بیرونی طاقتوں کے اثرورسوخ سے آزاد کروا کے ملک کو جدید ٹیکنالوجی کی طرف لےکر جانا ہے ۔میں امید کرتی ہوں کہ ایک دن ہم علامہ اقبالؒ اور قائدؒ کا پاکستان دیکھ سکیں گے۔ انیلہ رباب