سر سید احمد خانؒ کے فکری ورثاء

07 نومبر 2017

اعلیٰ و معیاری تعلیم کی فراہمی ہر مذہب اور ریاست کی اولین ذمہ داریوں میں ترجیحی حیثیت کی حامل ہے اور معیار ی تعلیم کا حصول بھی ہر طالب علم کا بنیادی اور پیدائشی انسانی حق ہے اور مسلمان ہونے کے ناطے ہمارا دین بھی حصول علم کو تمام مسلمان مرد و زن پر فرض قرار دیتا ہے ۔ اسلا م کی پہلی وحی کے ذریعے پیغمبر آخرالزمان حضرت محمد ؐ پر ''اقرائ''کا نز ول کر کے واضع اعلان فرما دیا گیا کہ جاہل اور عالم برابر نہیں ہو سکتے علم ہی ایسا نورہے جو ہدایت اور نیکی کی جانب جانے کا سبب بنتا ہے اور علم تو جنت کے راستوں میں سب سے خوبصورت راستہ ہے اور یہ ایسا نور ہے جو ہدایت اور نیکی طرف لے جانے کا باعث ہے ، علم ہی ترقی کا پہلا زینہ اور انسانیت کی آخری معرا ج بھی ہے اس بات سے بھی انکا ر ممکن نہیں ہے کہ پڑھی لکھی قوم ہی ملکی ترقی او ر استحکام کی ضامن ہے ان خیالات کا اظہار سرسید ایجوکیشنل فائونڈیشن آف پاکستان کے دوسرے سالانہ بی ۔ او ۔ جی کے اجلا س سے فائونڈیشن کے سرپرست اعلٰی اور وطن عزیز کے نامور ماہر تعلیم پروفیسر ڈاکٹر سرفراز خان ڈائریکٹر ایریا سٹڈی سنٹر یونیورسٹی آ ف پشاور نے اپنے کلیدی خطاب میں کیا ۔ اس تقریب میں بورڈ کے دوسرے ممبران ، ڈاکٹر زاہد حسن چغتائی ، قاضی ظہور الحق، ڈاکٹر سید اسد علی ، پروفیسر ضیاء المصطفیٰ ترک، عطا ء الرحمان چوہدری، پروفیسر ڈاکٹر شفیع،آفریدی ، راجہ غیاث الدین بلبن، محترمہ نادیہ سعید ، محترمہ ڈاکٹر رفعت عزیز درانی اور محترمہ ڈاکٹر تحسین طاہر بھی شریک ہوئے فائونڈیشن کے بانی اور ممتاز ماہر تعلیم و دانشور اور سر سید کے وژن کے پر توطاہر محموددرانی نے اپنے خطبہ استقبالیہ میں مہمانان گرامی کو خوش آمدید کہتے ہوئے بتایا کہ 2015میں ملک بھر کے پسے ہوئے طبقے کے بچوں کو معیار ی تعلیم کی فراہمی کے لیے فائونڈیشن کی پہلی اینٹ رکھی گئی ہے اور گزشتہ دو سال کے اندر فائونڈیشن نے اپنے تعلیمی نیٹ ورک کو 12 درسگاہوں تک بڑھا لیا ہے اور انشاء اللہ 2018-19میں مزید 20کے لگ بھگ تعلیمی شاخیں راولپنڈی اور ہزارہ ڈویژن میں قائم کی جا رہی ہیں ۔ اس وقت فائونڈیشن کے قائم کردہ تعلیمی اداروں کے ذریعے 150سے زائد اساتذہ کرام کی زیرنگرانی کم وبیش 3000تین ہزار طلباء کو معیاری تعلیم نہایت ہی مناسب ٹیوشن فیس میں دی جا رہی ہے ۔فائونڈیشن کے قائم کردہ تعلیمی اداروں میں ہونہار طلباء کے لیے نہ صرف وظائف کا اجراء کیا گیا ہے بلکہ ان کو تمام تعلیمی سہولیات دی جا رہی ہیں جو مستقبل قریب میں نوجوان نسل کو عصری تقاضوں کے عین مطابق تیار کر کے ملک و ملت کے لیے مفید شہری اور کارآمد پاکستانی بنانے کے لیے ضروری ہیں۔سر سید فائونڈیشن آف پاکستان کے بورڈ آف گورنر زکے ممبران ڈاکٹر سید اسد علی ، قاضی ظہور الحق، پروفیسر ضیاء المصطفیٰ ترک، پروفیسرڈاکٹرشفیع آفریدی اور ممتاز ماہر اقبالیات ڈاکٹر زاہد حسن چغتائی نے فائونڈیشن کے ڈائریکٹر مارکیٹنگ کیپٹن (ر) عمر فاروق اور ڈائریکٹر اکیڈمک محترمہ نادیہ عزیز مغل ، ڈائریکٹر ٹریننگ مسز راحیلہ صبیح اور مسزآنسہ کی جانب سے پیش کر دہ جائزہ رپورٹس پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ تعلیمی اداروں کے معیار اور معاشرے کی ترقی کا دارومدار اساتذہ کے پیشہ ورانہ امور سے ہے جب ان کی اپنے مضامین پر گہری گرفت ہوگی اور وقت کے تقاضوں کو ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے نت نئی جہتوں سے آگاہی ہوگی تب ہی تعلیمی معیاربلند ہوسکے گا اسی معیار کو بلند اور نسل نوع کو بہتر آگاہی کے لیے سرسید فائونڈیشن آف پاکستان نے سال2016-17اب تک کم وبیش 32مختلف ٹیچرز ٹریننگ ورکشاپس کرواکر حقیقی معنوں میں فائونڈیشن کے تحت قائم کردہ درسگاہوں کے معصوم طلباء کی بہتر اور احسن راہنمائی کے لیے ایک مثبت ، قابل تقلید مثال قائم کی ہے ۔کیونکہ اساتذہ جب اپنی تعلیمی ، فنی او ر پیشہ وارانہ صلاحیتوں او ر مہارتوں سے کام لیں گے تو یقینا طلباء ذہانت و لیاقت کی دولت سے مالا مال ہو کر اپنی خوابیدہ صلاحیتوں کو بہتر طریق سے استعما ل کر کے علمی و عملی میدان میں اپنے ہم عصروں میں نمایاں کردار ادا کر سکیں گے ۔ ڈاکٹر زاہد حسن چغتائی نے فائونڈیشن کے بانی طاہر درانی اور ان کی جملہ ٹیم اور تعلیمی اداروں کے سربراہان کوبالخصوص ملک مدثر اقبال،پروفیسر اکرم خان اور سعید درانی کو مبارکباد دیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ ہفتہ سرسید احمد خان کی یا د میں 200دوسو سالہ تقریبات کے سلسلہ میں سر سید یونیورسٹی کراچی میں بحثیت مہمان مقرر شمولیت کا موقع ملا انہوں نے کہا کہ سرسید احمد خان ؒ نے اپنی علمی تحریک کے ذریعے ہندوستانی مسلمانوں کے لیے ایک نئی راہ کی تشکیل کے لیے پہلا دیپ1875میں علیگڑھ کے صحراء میں مدرسے کی بنیاد ڈال کر روشن کیا اور پھر 2جنوری 1877کو وائسرائے اور لارڈ لیٹن نے محمڈن اینگلو اورنٹیل کالج کا سنگ بنیاد رکھا اس پتھر پر 3 مرتبہ سرسید احمد خان ؒ نے ضرب لگا کر کہا ''میں سید احمد اعلان کرتا ہوںکہ پتھر درست اور موزوں طرح سے نصب ہو گیا ہے '' اس روز سرسید احمد خان نے فرما یا تھا یہ بیج جو ہم نے آج کاشت کیا ہے اس سے تناور درخت نکلے گا جس کی شاخیں بھی زمین میں جڑ پکڑ لیں گی اور اس سے نئے اور تناور درخت نکلیں گے ۔سرسید احمد خان کی 200سالگرہ کے موقع پرآج پاکستانی قوم کے لیے فکر کی بات یہ ہے کہ ان کا خواب کیا مکمل طور پر شرمندہ تعبیر ہو چکا ہے یا نہیں؟ کیا ہم انکے مقاصد کو حاصل کر چکے ہیں ؟ کیا ہم اس قوم کی امنگیں پوری کر چکے ہیں جس نے اس تحریک پہ لبیک کہا تھا ؟ یقینا ایسا نہیں ہے اس تحریک کو فروغ دینے کے لیے نہ صرف طاہر درانی اور ان کے رفقاء کی کاوشیں صد لائق تحسین ہیں بلکہ اس تحریک کو مزید زیادہ سے زیادہ فروغ دینے کی ضرورت ہے ۔مقصد کے حصول کے لیے ملک بھر میں سر سید سکو ل آف ایکسیلنس کا پلیٹ فارم ہر عام و خاص باشعوراور تعلیم یافتہ پاکستانی کے لیے حاضر ہے ۔ سرسید احمد خان کی طرح آج ہمیں پھر از سر نو کمر بستہ ہو کر اس تحریک کو تازگی بخشنی ہے جو تحریک علی گڑھ کی صورت میں جلوہ افروز ہوئی ۔ انہوں نے سر سید ایجوکشنل فائونڈیشن کی تعلیمی خدمات کو سراہاتے ہوئے کہا کہ آج دنیا میں مقابلہ کا دور دورہ ہے اور وہی شخص یا قوم اس میں کامیاب ہو کر زندہ رہ سکتی ہے اپنے مضبوط عز م کے ساتھ اپنے قوت بازوں پر بھروسہ کر کے بیداری دل ودماغ کے ساتھ فروغ تعلیم کے لیے کا م کرے گی۔ اس موقع پر مہمانان گرامی میں شیلڈزدینے کے علاوہ 6نئے تعلیمی اداروں کے قیام کی منظوری بھی دی گئی جو نئے تعلیمی سال سے اپنا کام شروع کریںگے ۔ قارئین کرام ! حدیث نبویؐ اور کلام الٰہی ہے کہ تعلیم یافتہ اور جاہل میں یہی فرق ہے جو ایک زندہ اور مردہ شخص میں ہوتا ہے ۔ مشہور چینی فلسفی کو ان لیچنگ نے کیاپیارا فلسفہ بیان کیا ہے کہ جب آ پ ایک مرتبہ بیج بوتے ہیں تو صرف ایک ہی فصل کاٹتے ہیں لیکن جب لو گوں کو علم کی تعلیم دیتے ہیں سیکڑوں فصلیں کاٹتے ہیں ۔اجلاس سے قاضی ظہور الحق ، ڈاکٹر سید اسد علی ، راجہ غیاـ ـث الدین بلبن،محترمہ ڈاکٹر تحسین طاہر نے بھی اپنی گفتگو میں فائونڈیشن کی کار گزاری پر اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پاکستان کے ہر ایک علم دوست شخصیت سے اپیل کی ہے کہ اگر آپ بھی چاہتے ہیں کہ اپنی زندگی کی بہترین سرمایہ کاری کریں تو طاہر درانی جیسے علم دوست حضرات کی دامے ، درمے ، سخنے قدمے تعاون و راہنمائی و مدد کرکے ایک خوشحال و مستحکم پاکستان اور سر سید احمد خان کے وژن کو فروغ دینے میں اپنے حصے کا دیا جلا سکتے ہیں اس دعا کے ساتھ کہ طاہر درانی کا لگایا ہوا یہ ننھا پوداوقت کے ساتھ ضرور بارآور ہوگااور قوم کو بہترین پھولو ں اور پھلوں سے نوازے گااور یقینا اس کاوش سے سر سید احمد خان کی روح مسرور و شاد ماں ہو رہی ہوگی۔