تضاد

07 نومبر 2017

سیاست اور سیاسی جماعت کا مقصد ہی اقتدار میں آنا ہوتا ہے ،اس سے ہٹ کر جو دعوئے کئے جائیں وہ دھوکے سے بڑھ کر کچھ اور نہیں ہوتے ہیں،اس لئے وہ سیاست دان اور سیاسی جماعتیں جو کھل کر اپنا پروگرام دیتی ہیں اور مختلف ایشوز پر ان کا اعلانیہ اور پس پردہ موقف ایک ہوتا وہی دراصل سیاست کرنے کی اہل ہوتی ہیں،یہی جماعتیں عوام کے دل میں گھر کرتی ہیں اوران کے راہنماء آنکھ کا تارا بن جاتے ہیں،اس کے برعکس اعلانیہ اور پردے کے پیچھے متضاد بات کرنے والے اپنی عزت کھو بیٹھتے ہیں،چند برس ہوئے ’’وکی لیکس‘‘ کے نام سے لاکھوں پیپرز منظر عام پر آئے،ان میں سے جو پاکستان سے متعلق تھے ان کا تو بہت ہی ہی کم حصہ عوام کے علم میں آیا ہے ،تاہم جو کچھ بھی معلوم ہو سکا اس سے بہت سو کے پول کھل گئے تھے، نائین الیون کے بعد مخالفا نہ جلوس نکالنے والے، تاریک کمروں میں کیسے اپنی وفاداری کا یقین دلایا کرتے تھے،یہ سیاست کی وہ کمزوری ہے جس نے بہت گل کھلائے ہیں،لمحوں کے فائدے کے لئے قوم کی نسلوں کا نقصان کرنے کی ریت ہی نے تو سیاست کو بے وقعت کر رکھا ہے،’’اندر کچھ اور باہر کچھ‘‘ کا نتیجہ ہے کہ آج بھی لاکھوں کے جلسے جلوس کرنے والے بھی ’’پل کی خبر نہیں‘‘ کے ڈر میں مبتلا رہتے ہیں،نہ اعتماد سے بات کرسکتے ہیں اور نہ اعتماد سے عمل کر پاتے ہیں،یہ کسی خاص سیاسی جماعت کا تذکرہ نہیں ہے بلکہ عمومی طور پر ہر طرف ایک جیسا سماں ہے،بہت سی دوسری وجوہات کے ساتھ یہ بھی ایک وجہ ہے جس کے باعث سیاست کو بدنام کرنا بہت آسان کام بنا دیا گیا ہے،پہلے حکومت پر اخلاقی گراوٹ کی دھول گرتی ہے ،عوامی بے چینی آتی ہے اور پھر اقتدار میں موجود لوگوں کو اپنے اپنے گھر کا راستہ دکھا دیا جاتا ہے ،اس کی بس اور بس ایک وجہ تضاد ہے،ساری بڑی جماعتوں کو دیکھ لیں، ان کی اپنی خارجہ امور کی ترجیحات کیا ہیں ؟،ان کی معاشی پالیسی کیا ہے؟خواتین ،نوجوانوں ،ثقافت کے بارے میں موقف کیا ہے؟نجکاری کو کس نظر سے دیکھتے ہیں؟صحت اورسماجی تحفظ کے بارے میں ان کی سوچ کیا ہے؟پانی کے ایشوز پر ان کا کیا کرنے کا ارادہ ہے؟تعلیم کیسی،کس ذبان اور کہاں دی جانا چاہئے اس بارے میں ان کے پلان کہاں ہیں؟یہ تو چند شعبے گنوائے گئے ہیں،ملک اور قومی ذندگی کا کینوس بہت بڑا ہے،سچ یہی ہے کہ کسی کی کوئی ورکنگ نہیں ہے،اپوزیشن میں ہیں تو حکومت کو متزلز ل کرنے والا موقف لینا ہے اور اگر اقتدار میں ہیں تو سفید کو کالا اور کالے کو سفید کہتے رہنا ہے ،ساری سیاست اسی کے گرد گھومتی ہے،اس لئے پائیداری نہیں آسکی،چند دن ہوئے عمران خان کا ایک بیان پڑھا کہ تحریک انصاف برسراقتدار آئے گی،بہت اچھی بات ہے کہ آپ اقتدار میں آجائیں،لیکن زرا اپنی پالیسیاں تو واضح کریں،خطے کے حوالے سے کیا چاہتے ہیں؟کیا آپ آذادانہ تجارت کے حامی ہیں؟نجکاری کے بارے میں کیا تصورات رکھتے ہیں؟صحت اور تعلیم کے بارے میں کیا کریں گے؟بے روز گاری کا کیا حل ہو گا؟سی پیک، یورپ،روس،چین ،بھارت، امریکہ کو کس نظرسے دیکھتے ہیں،ملک میں صرف 36فی صد آبادی کو پینے کا صاف پانی میسر ہے،اس کا کیا انتظام کریں گے،انرجی پالیسی کیا ہو گی؟ان موضوعات پر کوئی سنجیدہ اظہار خیال سماعت سے کبھی نہیں گزرا ہے، پینے کے صاف پانی سے یاد آیا کہ ان کے قریب ایک فرد موجود ہے جو اس صاف پانی کی فراہمی کے منصوبے کے سربراہ ہوا کرتے تھے، ان سے ناکامی کی وجہ پوچھ لیں تاکہ آئندہ آسانی رہے،ان نکات کو واضح کرنے کی ضرورت ہے، وقت آگیا ہے کہ اب پی ٹی آئی اس بارے میں پبلک میں موقف بیان کرنا شروع کرئے،ایک اور رخ بھی دیکھ لیں،جب حکومت میں ہوں تو کیا کررہے ہوتے ہیں،مسلم لیگ }ن 2016{ء میں 2018ء کا نہیں بلکہ 2023ء کا سوچ رہی تھی،مگر اصل میں کیا ہوا،پانامہ پیپرز نے ساکھ کو تباہ کر دیا،پیپرز کا سلسلہ نہ جانے کب رکے گا؟حقیقت میں جو کام کرنے کی ضرورت ہے وہ یہ ہے کہ شفاف قوانین کی تشکیل کی جائے،معیشت کی دستاویز بندی کے کا م کو مکمل کیا جائے،اب پیرا ڈایز پیپرز سامنے آ چکے ہیں،ملکی اور اس کے ساتھ ساتھ بین الااقوامی سطح پر کام ہو گا تو ہی ملک کے دولت کو باہر لے جانے کا سلسلہ تھمے گا،بلا شبہ مسلم لیگ [ن] بڑی جماعت ہے تاہم بعض چیزیں ایسی کی گئی ہیں جن کا مقصدمسلے کو جڑ سے ختم کرنا نہیں تھابلکہ محض عوام کی توجہ لینا تھا ،تعلیم ہی کو لے لیں،پنجاب کے سکولوں میں بنیادی انفراسٹکچر مکمل نہیں ہے،اساتذہ کی کمی بھی موجود ہے ،کیا یہ بہتر نہیں تھا کہ دانش سکولوں پر پیسے لگانے کی بجائے ہر سکول کو دانش سکول بنانے کی جانب پیشرفت کی جاتی،سستی راٹی کی بجائے آٹا سستا ہوتا ،ایشو یہی ہے کہ کاسمیٹکس اقدامات کی جانب ذیادہ زور صرف کیا جاتا ہے،پی پی پی کا حال بھی سن لیں،اس سے اندازہ ہو جائے گا کہ سیاسی جماعیتں ہوم ورک تو کرتی نہیں ہیں ان کا موقف ’’ڈے ٹوڈے‘‘ بنیاد پربنتاہے اور بدلتا ہے،اس سے ان کا اپنا نقصان ہوتا ہے،نجکاری کے معاملہ کو لے لیا،سٹیل ملز کی نجکاری 15 سال سے ایجنڈا پر موجود ہے،پی پی پی اپنے دور میں بھی اس بارے میں کام کرنے کی متمنی رہی مگر ہمت نہ کر سکی ،لیکن اب اس کی نجکاری کی سب سے بڑی مخالف بن چکی ہے ،ان دونوں باتوں میں سے ایک غلط ہے،اس ساری خود ستائی کا ایک ہی مقصد ہے کہ سیاسی جماعتوں کی توجہ اپنے ہوم وک کی جانب مبذال کرنا ہے،کسی ایشو پر بار بار غور کرلیاجائے ،عوام کی رائے اخذ کی جائے اور اس کے بعد جو موقف بن جائے اس پر قائم ضرور رہنا چاہیے،یہ تاثر نہیں ہونا چائیے کہ چند مفادات موقف پر حاوی ہو جاتے ہیں،یہ کمزوری ہی دراصل سیاسی نظام کی کمزوری کا باعث بنتی ہے،ہر دس سال کے بعد جو نظام میں جو کپکپاہٹ پیدا ہوتی ہے اس کے ذمہ دار بھی تو شکائتیں کرنے والے ہیں۔