درختوں کا قتل عام ؟ سپریم کورٹ کا نوٹس!

07 نومبر 2017

کیا سی ڈی اے کو ماحول تباہ کرنے کی تنخواہ دی جاتی ہے؟،یہ وہ تاریخی الفاظ ہیں جو سپریم کورٹ کے معزز جج صاحبان نے 2 نومبر کو سپریم کورٹ میں از خود نوٹس پر کاروائی کے دوران کہے،یقینا سپریم کورٹ کے الفاظ کو سنہری حروف سے لکھنا چاہئے۔حقیقی معنوں میں عوامی امنگوں کی ترجمانی کی ہے،عدالت عظمیٰ نے اسلام آباد مارگلہ ہلز نیشنل پارک ایریا میں غیر قانونی تعمیرات ،درختوں اور پتھروں کی غیر قانونی کٹائی اور پہاڑوں کی لیز کے حوالے سے کیس کی سماعت کے دوران CDA حکام کو 2016 سے لے کر آج تک اس علاقے میں ہونے والی قانون کی پامالیوں کے ذمہ داران کا تعین کرنے اور G-/6-4 ایمبیسی روڈ پر درختوں کی بے دریغ کٹائی سے متعلق رپورٹ پیش کرنے کی ہدایت کی ۔معزز جج صاحبان نے CDA حکام پر شدید برہمی کا اظہار کیا کہ عدالت عالیہ کے احکامات پر عمل در آمد کیوں نہیں ہوتا؟۔اس دوران تصویری رپورٹ بھیWWF نے پیش کی،جو کہ ماحولیاتی آلودگی کا سبب بننے کے حوالے سے تھی جس میں مارگلہ ہلز پر تعمیرات ،درختوں کی کٹائی ،سٹون کریشرز کے حوالے سے تھی۔اس دوران کہا گیا کہ CDA عوام اور اداروں کو گمراہ کرتا ہے،قانون پر عمل در آمد نہیں کرتا۔ماحول تباہ کرنے پر کن کن آفیسران کو جیل بھیجا جائے؟۔معزز عدالت نے دوران سماعت کہا کہ دنیا کے دار لحکو متوں میں ایسے خلاف قانون نہیں ہو تا جیسے اسلام آباد میں ہوتا ہے۔WWF رپورٹ میں جگہ جگہ نشاندہی کی گئی کہ کہاں کہاں عدالت کے حکم پر عمل نہیں کیا گیا۔G-6 ایجنسی روڈ پر درختوں کی کٹائی پر کہا گیا کہ سینکڑوں سال پرانے درخت صرف سڑک بنانے کے لئے کاٹے گئے۔CDA حکام کو عوام کے ٹیکسوں سے تنخواہ ادا ہوتی ہے اور اسی عوام کے لئے ماحول زہر آلود کرتے ہیں۔2016 ؁ء سے آج تک CDA کے جو آفیسران عدالت کے احکامات کی خلاف ورزی میں ملوث ہوئے جیل جائیں گے۔اسی دوران عدالت کو بتایا گیا کہ مارگلہ ہلز پارک سے منسلک بفر زون کے گائوں ،سندیالہ،شاہدرہ ،سیناری،رتہ ہوتراورچونترہ وغیرہ میں ہوٹل ،موٹل ،فلیٹ،پلازے بنائے گئے،جس کے لئے پتھروں کو نکالا گیا،درختوں کو کاٹا گیا،اہلیان اسلام آباد خوش قسمت ہیں کہ جو بات ان کے نمائندوں کو کرنی چاہئے یا اداروں کو کرنی چاہئے،آج سپریم کورٹ آف پاکستان کر رہا ہے۔جس پر جتنا خراج تحسین پیش کیا جائے کم ہے۔CDA 1960 ؁ء کے آرڈینینس کے مطابق چلایا جاتا ہے،پھر 1992 ؁ء میں زوننگ ریکولیشن کا قانون آیا جس کے مطابق اسلام آباد کے علاقے کو 5 زونوں میں تقسیم کیا گیا جس میں ہر زون کا ایریا لکھا گیا اور اپنے اپنے زون کے اس زون کے تقاضوں کے مطابق قوانین بنائے گئے۔زونI- صرف سیکٹریل ایریا پر مشتمل ہے جہاں صرف CDA کے سیکٹر اور پبلک بلڈنگ،کمرشل ایریا،صرف CDA Develop کرے گا۔مگر اسی زون I میں کابینہ اور وزیر اعظم کی منظوری سے G-13 اور G-14 کے علاوہ F-14 اور F-15 ہائوسنگ فائونڈیشن کو نہ صرف سیکٹر بنانے،زمین اکوائر کرنا ،پانی ،بجلی کے علاوہ تمام تعمیرات کا NOC دے دیا۔جس پر اہلیان علاقہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں گئے اور ہائوسنگ فائونڈیشن کو زمین اکوائر کرنے سے روک دیا۔اس کے عمل کے خلاف قانون قراردیا،1960 ؁ء کے آرڈینینس کے مطابق صرف CDA زمین اکوائر کر سکتا ہے۔زون II ہائوسنگ سوسائٹی کے لئے زون III نیشنل پارک ایریا رکھاگیا۔زون IV تعلیمی درسگاہوں کے لئے مختص ہے اور زون V بھی ہائوسنگ سوسائٹیوں کے لئے ہے۔نیشنل پارک ایریا مارگلہ ٹیکسلا کے دامن سے قائد اعظم یونیورسٹی ،بہارہ کہوG-3 کے ایریا،شاہدرہ،پیر سوہاوہ،شاہ اللہ دتہ ،جوڑی راجگاں کے علاقوں پر مشتمل ہے،جہاں انوائرمنٹ ایکٹ کا اطلاق بھی ہے۔پہاڑ سے پتھر توڑنا،تعمیرات،درخت کاٹنا منع اور جرم ہے۔زوننگ ریگولیشن میں صرف نیشنل پارک ایریا ہے مگر ہزاروں کی تعداد میں کریشرز نے ماحول کو آلودہ کر دیا ہے،سارے تاریخی پہاڑ تباہ کر دیے ہیں،پہاڑ کاٹ کر تعمیرات کر دی ہیں۔درختوں کو ختم کر دیا ،نیشنل پارک ایریا کی قانونی حیثیت ختم کر دی گئی،شہر اسلام آباد کے باسیوں نے اسلا م آباد میں اگرکچھ پایا تو ایک خوشگوار آلودگی سے پاک ماحول تھا،جرائم نہ ہونے کے برابر تھے ،ایک باقاعدہ ماسٹر پلان پر شہر کی تعمیر تھی مگر CDA کے نا اہل مافیا کی وجہ سے اس شہر کے باسیوں کو جو سب بڑا ’’تحفہ ‘‘ ملاوہ ’’پولن الرجی‘‘ کا تھا۔پورے پاکستان میں اسلام آباد واحد شہر ہے جہاں موسم بہار میں ’’پولن‘‘ کا تناسب بہت ہائی ہوتا ہے۔اگر سپریم کورٹ اس پر تحقیقات کرائے تو CDA کی کرپشن ،بد عنوانی اور نااہلی کار فرما ہو گی۔جنگلی شہتوت کے خود رو پودے جو کہ اسلام آباد کو سر سبز کرنے کے لئے 50 سال قبل لگائے گئے ،آج ان کو ختم کرنا ایک عذاب ہے اور خاص طور پر پولن کا تناسب ان ہی علاقوں میں سب سے زیادہ ہے،جہاں جنگلی شہتوت کی بہتات ہے۔آج سے 30 سال قبل پولن کا تصور بھی نہ تھا،گندے نالوں میں بھی پانی اتنا صاف شفاف تھا کہ مچھلی پیدا ہوتی تھی اور لڑکے نہاتے تھے۔آج لاہور کی 

طرح اسلام آباد ،سموگ اور دھند کاشکار ہیں،اسلام آباد میں قوانین صرف عام اور غریب لوگوں کیلئے ہیں۔اسلام آباد کی پچاس سالہ تاریخ میں اگر بائی لاز پر عمل درآمد ہواتو صرف عدالت عظمیٰ نے کرایا۔I-11 کی کچی آبادی حقیقی معنوں میں سیکورٹی رسک تھا۔کراچی کی طرز پر رسواء زمانہ ’’سراب کوٹھ‘‘ بن گیا تھا جس کو صرف اسلام آباد ہائی کورٹ کے حکم پر ختم کیا گیا۔اسلام آباد کی کچی آبادیوں کو شہر سے نکال کر متبادل جگہ پر آباد کیا جائے۔اس طرح سپریم کورٹ نے Non-Confirming پر رہائشی گھروں سے کمرشل استعمال ختم کرایا ۔ماحولیات کے حوالے سے مارگلہ ہلز سے ہزاروں کریشرز جن کی وجہ سے پہاڑوں کو تباہ کر دیا اور ختم کرایا۔سینکڑوں لوگوں کے روزگار کے لئے ہزاروں انسانوں کی زند گی سے نہیں کھیلا جا سکتا ،آج سپریم کورٹ نے ایک بار پھر از خود نوٹس پر CDA حکام کی سر زیش کی۔وائلڈ لائف آرڈینینس 1973 ؁ء اور پاکستان فارسٹ ایکٹ1927 ؁ء بھی اسلام آباد کے پہاڑوں کی کھدائی اور درختوں کی کٹائی کی ممانعت کرتا ہے۔ماحول کو تحفظ فراہم کرتے اور موسم کی بہتری اور اعتدال کے لئے ماحولیاتی آلودگی کو کنٹرول کرنے کی بات کرتا ہے۔اسلام آباد کے شہریوں کو ماحول کو اچھا رکھنے،پہاڑوںکے تحفظ،درختوں کی حفاظت اور شجر کاری کے لئے اپنا کردار ادا کرنا ہو گا،سپریم کورٹ کے احکامات پر حمایت کرنا ہو گی۔
’’Safe Islamabad‘‘
’’Safe Environment‘‘