لوگ بدلے مگر سوچ بدلی نہیں

07 نومبر 2017

نواز شریف نے 5 جون 2013ء سے لے کر 28 جولائی 2017ء تک بطوروزیراعظم بہت سی ملکی اور غیر ملکی سازشوں کا مسلسل مقابلہ کیا۔اس دوران دو مرتبہ آرمی کمان تبدیل ہوئی‘ انٹیلی جنس اداروں کے سربراہان سے لے کر کور کمانڈرز تک بہت سی تبدیلیاں ہوئیں۔ سپریم کورٹ کے کئی چیف جسٹس تبدیل ہوئے‘ لیکن سب سے بھاری تبدیلی امریکی صدرکی تبدیلی ثابت ہوئی اوراوباما کے جاتے ہی چیزیں تیزی سے بگڑتی گئیں اوربالآخرڈونلڈ ٹرمپ کے آنے کے ٹھیک 6 ماہ بعد نوازشریف کو نا اہل قرار دے کرگھر بھیج دیا گیا۔ اس کے بعد نیب مقدمات کی شکل میںایک ایسی ہی نئی دوڑ شروع ہوگئی جو17 سال پہلے ہائی جیکنگ اورہیلی کاپٹرکیس کی شکل میںدنیا دیکھ چکی تھی اور وہاں سنائی گئی عمرقید اور دیگر سزائیںبھی بلبلے کی مانند ثابت ہوئی تھیں کیونکہ جھوٹ کے پائوں نہیں ہوتے۔

بہت سے لوگ یہ رائے رکھتے ہیں کہ1999ء میں نوازشریف کو ایٹمی دھماکے کرنے کی سزا دے کر نکالا گیا تھا اور 2017ء میں چین کے ساتھ مل کر سی پیک منصوبے پر کام کرنے کی سزا دی گئی ہے۔ دونوں مرتبہ نواز شریف کوسبق سکھانے والا کوئی اورنہیں صرف امریکہ ہے۔ امریکی تو نوازشریف کوپھانسی دینا چاہتے تھے صدام کی طرح مشرف بھی راضی تھا لیکن سعودی بادشاہ کی رحم دلی اوردوستی کام آگئی تھی۔ رحمت حسین جعفری سے زیادہ کون گواہی دے سکتا ہے کہ تب نوازشریف کوپھانسی کی سزا سنانے کیلئے کس قدردبائو ڈالاگیا تھا مگر وہ مرد کا بچہ ڈٹ گیا اورپھانسی کی سزا نہیں سنائی۔ پھر مشرف نے سندھ ہائی کورٹ میں عمر قید کو سزائے موت میںتبدیل کرانے کی کوشش کی۔ سرکاری وکیل راجہ قریشی نے ایڑی چوٹی کا زور لگایا لیکن مارنے والا سے بچانے والا بہت بڑا ہے۔ اللہ کی ذات نے نواز شریف کو ظالموں سے بچالیا اور اپنے گھر بلا لیا۔ نوازشریف کو ڈکٹیٹر نے جلا وطن کرکے سعودی عرب بھجوادیا‘سیاست پرپابندی لگادی اور خود مشرف نے فردِ واحد کی حکمرانی قائم کرتے ہوئے پاکستان کے کروڑوں عوام کوبندوق کے زور پر غلام بنا لیا۔ سپریم کورٹ نے آئین کی بالا دستی اورقانون کی حکمرانی کی بات کی تو چیف جسٹس سعید الزماں صدیقی سمیت اعلیٰ عدلیہ کے قانون پسند بہادر ججوں کوگھر بھیج دیاگیا اور پی سی او ججوں سے اپنی وفا داری کا حلف لے کرتین سال کا حق حکمرانی کا اعلان کرکے دنیا کی آنکھوں میں دھول جھونکی اورصدارتی ریفرنڈم میں بھی پوری قوم اوردنیا سے جھوٹ بولا۔ 2007ء میں بے نظیر بھٹو کو قتل کردیا گیا تو 2008ء کے الیکشن میں عوام نے مشرف کے خلاف فیصلہ دے کر کنگز پارٹی قاف لیگ کا دھڑن تختہ کردیا۔ 2008ء سے 2013ء تک پیپلز پارٹی نے حکومت کی اور 2013ء میں پھر نوازشریف وزیراعظم بن گئے‘ تب بھی نوازشریف کی مخالف لابی نے راستہ روکنے کی کوشش کی تھی اور مشرف کو پاکستان لاکرالیکشن لڑانے کی کوشش بھی کی گئی تھی لیکن وہ سوچ ناکام ہوگئی تھی۔ اس سوچ نے نوازشریف کی جیت کو دل سے تسلیم نہیں کیا تھا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ الیکشن میں دھاندلی کا شوشہ چھوڑا گیا اورپھر عمران خان کو نواز شریف کے پیچھے لگا دیا گیا۔ یہی سوچ ڈاکٹر طاہرالقادری سے ا سلام آباد میں ایک دھرنا پی پی حکومت کے آخری دنوں میں کراچکی تھی لیکن طاہرالقادری اور عمران خان کو نواز شریف کے خلاف اسلام آباد پر چڑھائی کرنے کیلئے استعمال کیاگیا۔ یوں نواز شریف کی حکومت پہلے سال سے ہی سازشوں کی زد میں آچکی تھی۔ سانحہ آرمی پبلک اسکول (اے پی ایس)کی وجہ سے دھرناسازش ناکام ہوگئی توبعدمیں ایک موقع پر مشرف نے کہہ دیا کہ عمران خان گیند کو ڈی تک لے کرجاتے ہیں لیکن گول نہیں کرپاتے۔ دھرنے کے دوران نوازشریف مخالف لابی نے آصف زرداری اور الطاف حسین کو بھی نوازشریف کے خلاف احتجاج میں شامل کرانے کی کوشش کی تھی اوردبائو بھی ڈالا گیا تھا لیکن جمہوریت بچانے کے نام پر پیپلزپارٹی اور ایم کیو ایم نے مسلم لیگ (ن) کا ساتھ دیا تھا۔ اسفند یار ولی‘ محمود خان اچکزئی اورمولانا فضل الرحمن بھی نوازشریف کے ساتھ ڈٹ گئے تھے‘ نواز شریف کی مخالف لابی نے ان سب کوسبق سکھانے کافیصلہ کیا اوراس کے بعد ایم کیو ایم اور پیپلزپارٹی کے ساتھ جو کچھ ہوا وہ تاریخ کا حصہ بن چکاہے جبکہ اسفند یار‘ اچکزئی اورفضل الرحمن پر پی ٹی آئی کے جلسوں میں آج تک مسلسل غصہ اتارا جارہا ہے۔
تمام ترواقعات کے حوالے سے ایک دوسری رائے بھی ہے کہ نواز شریف کوسزا بھارت سے تعلقات کو نئی جہت دینے کی کوشش پر ملی ہے۔ 1999ء میں بھی نوازشریف بھارتی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کو بس ڈپلومیسی کے ذریعے لاہورلے آیا تھا اور2015ء میں بھی بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کولاہور لے آیا۔ بھارت کے ساتھ غیر معمولی تعلقات کوفروغ دینے کے اقدامات نوازشریف کو اقتدارسے محروم ہونے کاباعث بنے ہیں۔ امریکہ چاہتا ہے کہ بھارت کو خطے کا چوہدری بنائے وہ کہہ بھی چکا ہے کہ انڈیاکو ریجنل پاوربنائے گا جبکہ اسی ریجن سے چین اب ایک سپر پاوربننے جارہا ہے۔ 2025ء میں وہ خود کو سپر پاورڈیکلیئر کرنے پر کام کررہا ہے۔ پاکستان آرمی کشمیر پربھارت کے غاصبانہ قبضے اور بھارتی جنگی جنون کی وجہ سے اس کے عزائم پر گہری نظررکھے ہوئے ہے اور افغانستان کی سرزمین کو پاکستان کے خلاف ا ستعمال کرنے کی بھارتی سازشوں سے بھی آگاہ ہے اور چین اقوام متحدہ میں پاکستان کے خلاف بھارتی سازشوں کو ناکام بنانے میں پاکستان کابھرپور ساتھ دیتا آرہا ہے۔ سی پیک پر پاک چین تعاون سے ا مریکہ اور بھارت دونوںپریشان ہیں۔ نوازشریف خطے میں جنگ کے بادل ختم کرکے تجارت‘ امن اورترقی کے راستے پرچلنے اور ہم آہنگی پیدا کرنے کے راستے پر آگے بڑھنے کی کوشش کرتے رہے۔ واجپائی کو بلایا تو کارگل جنگ چھیڑ دی گئی۔ مودی کے ساتھ بات چیت کی توپٹھان کوٹ جیسے واقعات نے کشیدگی کوفروغ دیا‘ چین کے صدر کوبلایا تو اسلام آبادمیں دھرنے شروع ہوگئے۔ افغانستان میں امن کے لئے طالبان کومذاکرات پر بلایا تو ملا عمر کی موت کی خبر نے مذاکرات کو سبو تاژ کردیا۔ ایران کے صدر کوپاکستان بلایاگیا تو کلبھوشن یادیو کی گرفتاری سامنے آگئی۔ یوں پاکستان کی سول حکومت نے پاکستان کے چاروں پڑوسی ملکوں کے ساتھ جب جب حالات کوبہتر اور خوشگوار بنانے کے لئے امن بات چیت کاعمل آگے بڑھایا کسی نہ کسی واقعہ نے اسے سبو تاژ کردیا۔ اس سبو تاژ کے پیچھے کون سی سوچ اوراور لوگ کارفرما رہے اس کافیصلہ آنے والا وقت کردے گا۔
جو لوگ کہتے تھے کہ نواز شریف حکومت کو درپیش مسائل کی وجہ راحیل شریف ہیں اوران کی ریٹائرمنٹ پر کہا گیا کہ آندھی گزرگئی وہ لوگ آرمی کمان کی تبدیلی کے بعد حکومت کے حالات بہترہونے کی بجائے مزید خراب ہوتا دیکھ کرحیران رہ گئے۔ سپریم کورٹ نے جس پاناما کیس کوپہلے فضول قرار دیا پھر چیف جسٹس کی تبدیلی کے بعد اسے ہی پاکستان کاسب سے اہم ترین کیس قرار دے کر چلایا اورپھرڈان اور سسلین مافیا کے الفاظ استعمال کئے۔ اس نے لوگوں کے کان کھڑے کردئیے پھر جو کچھ جے آئی ٹی میں ہوا جسے خود نواز شریف واٹس اپ جے آئی ٹی کا نام دیتے ہیں اس کے تیور دیکھ کراندازہ لگالیا گیا تھا کہ نواز شریف کے دور حکومت میں بہت سے اہم لوگ ضرور بدل گئے ہیں لیکن نواز شریف کے خلاف پائی جانے والی سوچ نہیں بدلی۔