علامہ اقبال جذبہ آزادی کو بیدار کرنے والا

07 نومبر 2017

1908ء میں یورپ سے بیرسٹری کا امتحان پاس کرکے لاہور آکر وکالت شروع کردی اس طرح آپ کی عملی زندگی کا آغاز شروع ہوگیا وکالت کے ساتھ ساتھ علم و ادب کے فروغ کے لیے مسلمانوں کی آزادی کے لیے، سیاست میں مسلمانوں کے عقائد و نظریات کو اجاگر کرنے کے لیے کام کرتے رہے ۔1914ء میں فلسفہ خودی پیش کرکے اپنے آپ کو بر صغیر میں روشناس کرایا اور جب آپ نے مثنوی اسرار خودی اور رموز خودی لکھی توآپ کی شہرت کا چرچا ہندوستان سے نکل کر دنیا بھر میں پھیل گیا اس طرح آپ دنیا بھر میں شاعر مشرق کی حیثیت سے متعارف ہوئے۔ قائد اعظم محمد علی جناح نے ان کے بارے میں کہا’’ ڈاکٹر محمد اقبال اسلام کے قابل احترام فرزندوں میں سے ایک تھے وہ خدا شناس تھے ، درویش، فلسفی اورمفکر تھے۔ انہوں نے اسلام کی جو خدمات سر انجام دیں وہ قابل قدر ہیں ان کی وفات سے مسلمان ہند کو کس قدر نقصان پہنچا اس کی تلافی نا ممکن ہے‘‘آج ہم اس وطن عزیز میں آزادی سے خوش وخرم زندگی بسر کر رہے ہیں یہ صرف اور صرف علامہ اقبال کی ہی مرہون منت ہے انہوں نے مغربی نظریہ وطن کی1910ء میں نفی کی آپ نے علی گڑھ کالج کی تقریب میں مقالہ پڑھا تھا جس کا عنوانIslami is a social & Political Ideaاس میں آپ نے واضح کیا کہ :’’مسلمانوںاور دنیا کی دوسری قوم میں اصولی فرق ہے ہم لوگ اس برادری میں ہیں جو جناب حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے قائم فرمائی تھی‘‘پاکستان کے لیے1930ء کا سال بڑی اہمیت کا حامل ہے اسی سال آپ آل انڈیا مسلم لیگ کے صدر منتخب ہوئے آپ نے مسلم لیگ کے جلسے کی صدارت کی اور پہلی بار مسلمانوں کے لیے لفظ ’’قوم‘‘ استعمال کیا علیحدہ ریاست کا مطالبہ کیا ، تصور پاکستان پیش کیا، مسلمانوں میں جذبہ آزادی بیدار کیا، آپ نے21جون1937ء کو قائد اعظم کولکھا :’’اس وقت جو طوفان بڑھتا آرہا ہے اس بھنور سے اگر کوئی شخص مسلمانوں کی کشتی کو حفاظت سے نکال سکتاہے تو وہ آپ کی ذات ہے‘‘آپ نے مسلمانوں میں اسلام سے محبت اور وطن کی آزادی کا جذبہ اپنی نظموں کے ذریعے ابھاراآپ نے اپنا مسلمان ہونے کا صاف صاف اپنی وصیت میں تحریر کردیا’’میں عملی اعتبار سے حضرت امام ابو حنیفہ کامقلدہوں‘‘آزادی کا اظہار آپ نے الٰہ آباد کے خطبہ میں واضح طو رپر کیا آپ نے تجویز کیا کہ ہندوستان کے اندر مسلمانوں کی ایک آزاد حکومت ہونی چاہئے جس کے ما تحت مسلم اکثریت کے علاقے آزادانہ زندگی بسر کرسکیں ‘‘ اس طرح یہ تجویز پاکستان کے قیام کا پہلا مطالبہ ثابت ہوئی ۔آپ انجمن حمایت الاسلام لاہو ر کے سیکریٹری بنے بعد میں آپ اسی انجمن کے صدر مقرر ہوگئے آپ موتمر عالمی اسلامی کے نائب صدر بھی بنے آپ نے مسلمانوں کی آزادی کے لیے بھوپال میں منعقدہ مسلم رہنماؤں کی کانفرنس، موتمر عالم اسلامی کے اجلاس ،آل انڈیا مسلم کانفرنس ، دوسری تیسری گول میز کانفرنس میں شرکت کی۔آپ کی مسلمانوں کے لیے ان ہی کاوشوں کااعتراف قائد اعظم نے ان الفاظ سے کیا’’ وہ میرے ایک دوست ، رہنما، فلسفی تھے او ران تاریک لمحات میں بھی جن میں مسلم لیگ کو گذرنا پڑا وہ ایک چٹان کی مانند کی ڈٹے رہے اور ایک لمحے کے لیے بھی اس موقف سے نہیں ہٹے۔‘‘علامہ اقبال حقوق و آزادی کا اظہار منعقدہ صوبائی مسلم کانفرنس دہلی میں اس طرح کرتے ہیں’’ نہ میرے ساتھ سیاسی لٹریچر کا پلندہ ہے جس میں اپنی بحثوں کی اساس قائم کروں گا بلکہ میرے ساتھ حق و صداقت کی ایک جامع کتاب(قرآن مجید) ہے جس کی روشنی میں مسلمان ہند کے حقوق کی ترجمانی کروں گا۔‘‘اور اسی جذبہ اور اظہار کو آپ نے اپنے کلام سے قوم میں خودداری کی ترغیب تعلیم دے کر واضح کیا اس بات کو ہم نظریہ خودی سے بخوبی سمجھ سکتے ہیں مسلمان مکمل انسان ہے اور اسلام کے لیے زیادہ سے زیادہ کام کرے ۔قوم اس بات کو اچھی طرح سمجھتی تھی کہ ہندوستان کے آزاد ہونے کے بعد مسلمان ہندو کے غلام ہوجائیں گے ۔اور قوم کو اس بات کی شدت سے اس بات کی ضرورت تھی کہ ان کو کوئی ایسا رہبر ملے جو ان کے آزادی کے جذبات کو بیان کرے اور علامہ اقبال نے مسلمانوں کے حقوق کی ترجمانی کرکے دکھائی۔ اسی لیے قائداعظم نے فرمایا:’’ میرے پاس کوئی سلطنت ہوتی اور مجھ سے کہا جاتا کہ اقبال اور سلطنت میں کسی ایک کو چن لو تو میں اقبال کو چنتا ۔ ‘‘آخر کار اقبال کی دی ہوئی تعلیم سے مسلمان آزادی سے سرشار ہوئے غلامی زنجیریں ٹوٹ گئیں پاکستان وجودمیں آگیا ۔ آپ کی خدمات کے اعتراف کے طور پر مسلمانوں نے آپ کو مختلف خطابوں سے نوازاآل انڈیا محمڈن ایجوکیشنل کانفرنس میں1911ء میں آپ کو ترجمان حقیقت کے خطاب سے نوازا گیا۔ مولانا عبد الماجد دریا آبادی نے آپ کو امام العصر کے نام سے یادکیا۔ خان بہادر اور شمس العلماء کے خطاب آپ نے قبول کئے ۔جنوری 1920ء میں سر کا خطاب حاصل کیا۔پاکستان کے محکمہ ڈاک نے آپ کی 20ویں برسی کے موقع پر پہلی مرتبہ یادگاری ٹکٹ جاری کئے ۔1977ء کا سال خاص طور پر سرکاری سطح پر علامہ اقبال سے منسوب ہوا جو کہ ان کی صد سالہ تقریبات کا سال کہلایا۔جب آپ اپنی زندگی سے مایوس ہوگئے تو آپ نے کہا :’’ میرے دن پورے ہوچکے ہیں میری صحت کی دعا بے سود ہے اب آپ محمد علی جناح اور کمال اتا ترک کی زندگیوں کی دعا کیجئے‘‘ علامہ نے نظریہ اضافیت کا مطلب بتایا’’دنیا ازلی و ابدی نہیں بلکہ یہ پیدا ہوئی ہے اور اسے فنا ہونا ہے ۔‘‘ اس نظریہ کو ہر کوئی تسلیم کرتا ہے سب اس دنیا میں آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں آپ بھی اس دنیا سے پانچ سال کی علالت کے بعد 21اپریل1938ء کو اپنے مالک حقیقی کے پاس چلے گئے ۔