EXACT اور عدالتی نظام انصاف! چیف جسٹس سے ایک سوال

07 جون 2015

امریکی جریدے کی ایگزیکٹ کے حوالے سے انکشافات پر گویا پورے پاکستان کے ایوانوں میں زلزلہ آ گیا۔ حکومتی اداروں سمیت قانون نافذ کرنے والے ادارے حرکت میںآ گئے۔ ایگزیکٹ کے دفتر کا گھیراؤ کرنے کے ساتھ ہی اس کا ریکارڈ سیز کر دیا گیا۔ اس کے چیف ایگزیکٹیو کو بھی پابند کر دیا گیا اور بالآخر اسے سلاخوں کے پیچھے جانا پڑا۔ ایگزیکٹ کے مقابلہ میں صرف دو کمروں پر مشتمل بے شمار امریکی یونیورسٹیاں آن لائن کے ذریعے سے اعلیٰ و ثانوی ڈگریاں دے رہی ہیں جس کے عوض تھرڈ ورلڈ کے ممالک کے شہریوں سے ملین نہیں بلینز ڈالر بٹورے جا رہے ہیں۔ اس کے عوض ان شہریوں کو امریکہ میں کام کرنے کا پرمٹ مل جاتا ہے۔ اس حوالے سے امریکی جریدے کے محقق کچھ لکھنے کے لئے تیار نہیں، ان کا نزلہ صرف ایگزیکٹ پر گرا۔
ملنے والی اطلاعات کے مطابق ایگزیکٹ کے شارپ چیف ایگزیکٹیو کے خلاف کئی کاروائیاں ہوتی رہیں، اداروں کی طرف سے ایگزیکٹ کے کئی معاملات میں ایگزیکٹ انتظامیہ سے سوال بھی پوچھے گئے۔ ہر کاروائی یا محض سوال پوچھنے پر بھی مدلل جواب دینے کے بجائے عدالتی چھتری کے ذریعے اپنا بچاؤ کرتے رہے۔ اس مقصد کے لئے بڑے بڑے وکلاء کو بھاری فیسز پر ہائر کرکے عدالتوں سے سٹے لیا جاتا تھا۔ عدالتیں بھی انصاف کے حصول کے لئے انھیں ریلیف دیتی رہیں جس کی وجہ سے اداروں کی ہر کارروائی کا راستہ روک دیا گیا۔ یہ الگ بات ہے کہ امریکی جریدے نے جو سوال اٹھائے تھے، انھیں ایک طرف رکھتے ہوئے ایگزیکٹ کی مشینری کے بارے میں سوالات اٹھائے جا رہے ہیں۔ یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے اگر اداروں کی کارروائی اور ایگزیکٹ کو نوٹس جاری کرتے ہوئے صرف جواب دہی کرنے کے سوال پر اعلیٰ عدالتیں ریلیف دیں اور محکمے یا ادارے اپنی کارروائی جاری نہ رکھ سکیں تو جرائم کی بیخ کنی کس طرح ہوگی؟ اسلام اور دو قومی نظریہ کی بنیاد پر بننے والے پاکستان کا سب سے بڑا المیہ رہا ہے کہ کرپٹ، خوشامدی اور اقتدار پرست حاوی ہوتے چلے گئے۔ اس طرح قومی وسائل پر ڈاکہ ڈالا گیا۔ چنانچہ مسائل حل ہونے کے بجائے گھمبیر ہوتے چلے گئے۔ انھی اقتدار پرستوں کی وجہ سے اقرباء پروری کو فروغ ملا۔ ملکی و قومی ترقی کے لئے بنائے گئے پی آئی اے، ریلوے، واپڈا، سوئی گیس اور کراچی پورٹ جیسے ادارے جو کبھی پاکستان کی ترقی کی پہچان سمجھے جاتے تھے۔ ان اداروں کی سربراہی کے لئے خوشامدی ٹولہ کو نوازا گیا۔ ان کی کرپشن پر آنکھیں بند رکھی گئیں اور اگر خوش قسمتی سے قانون نافذ کرنے والے کسی ادارہ نے کارروائی کی۔ اس کاروائی کو یا تو کسی مقتدر ہستی نے روک دیا اور کبھی عدالت نے ریلیف دیتے ہوئے اس ادارہ کی کاروائی کے آگے بند باندھ دیا۔ اگر جائزہ لیا جائے تو کرپٹ حکام اور افسران کی بڑی تعداد، ان کی کرپشن کی انکوائری مکمل ہونے کے باوجود صرف عدالتی سٹے کے ذریعے عمل درآمد کے لئے روک دی گئی اور اسی سٹے کے ذریعے یہ کرپٹ افسران برسوں سے چمک رکھنے والی سیٹوں پر براجمان ہیں۔ یہ کرپٹ افسران حکام بالا کے لئے دودھ دینے والی گائیں ہیں۔ یہ اتنے چہیتے ہیں کہ کبھی تو ڈیپوٹیشن پر کسی دوسرے محکمہ کے اعلیٰ عہدیدار بن جاتے ہیں اور کبھی انھیں ایک گریڈ اوپر کی پرکشش سیٹ پر تعیناتی کا حکم جاری کرتے ہوئے کرپشن کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے۔ محترم چیف جسٹس سے ایک مودبانہ سوال ہے کہ کیا ایک سٹے پر کسی کرپٹ افسر یا حاکم کو ہمیشہ کے لئے چھوٹ دی جا سکتی ہے؟ پی آئی اے، کراچی پورٹس اور دیگر اداروں میں نیب کی کارروائی کے دوران ان کی کرپشن کے بے شمار کیسز منظر عام پر آئے۔ اگر بروقت کارروائی کی جائے تو ان اداروں کے کرپٹ سربراہوں اور حکام کا احتساب ممکن ہے۔ ایسا صرف اعلیٰ عدالتوں کے تعاون سے ہی ممکن ہے۔ کیا اعلیٰ عدالتیں اس قومی فریضہ کو انجام دینے کے لئے تیار ہیں؟ SNGPL بھی ایک ایسا ہی ادارہ ہے جو پنجاب اور خیبر پی۔کے کو گیس سپلائی کا ذمہ دار ادارہ ہے۔ یہ ادارہ کبھی ترقی کا نشان سمجھا جاتا تھا لیکن جب سے عارف حمید اس ادارہ کے ایم ڈی مقرر ہوئے، پنجاب بھر کے گیس صارفین کی خوش قسمتی کو گرہن لگ گیا۔ گیس چوروں کی قسمت کھل گئی۔ مذکورہ ایم ڈی کے خلاف کاروائی کی گئی تو عدالت نے سٹے کے ذریعے ریلیف دیا اور اوگرا نے نوٹس جاری کئے تو کوئی پرواہ نہ کی گئی۔ کروڑوں روپے کی گیس چوری کرنے والوں کو انتہائی ریلیف دیتے ہوئے نوازا گیا۔ گھریلو صارفین جو طے شدہ اصولوں کے مطابق فسٹ پرائرٹی کے حامل ہیں اور جنھیں بلا تعطل گیس کی سپلائی جاری رکھنا مقصود تھی۔ گیس کی زبردست بندش کا شکار ہو گئے۔ غریب عوام کے چولہے ٹھنڈے ہو گئے۔ بھوک سے بلکتے بچوں کی آوازیں جب کانوں میں آتی تھیں تو پاکستان کے نظام انصاف پر لعنت بھیجنے کو دل چاہتا تھا جس نے ظالم کو کھلی چھٹی دی ہوئی ہے۔ اس کے مقابلہ میں وہ سیمنٹ فیکٹری جو آخری اور پھر چوتھی پرائرٹی پر تھی، کو فل پریشر سے بلاتعطل گیس سپلائی کی گئی۔ ان کے دور میں SNGPL بھاری خسارہ سے دوچار ہوئی مگر ان کا مشاہرہ تین لاکھ سے بڑھ کر ساڑھے بائیس لاکھ روپے ماہانہ کر دیا گیا اور پھر یہی نہیں تقرری کے سلسلے میں سپریم کورٹ کے احکامات کی واضح خلاف وردی کرتے ہوئے انھیں دوبارہ تقرری کا پروانہ دے دیا گیا۔ اس مقصد کے لئے رولز میں غیرقانونی ترامیم کرتے ہوئے 60 سال کی عمر کو بڑھا کر 62 سال کر دیا گیا۔ کیا کوئی پوچھنے والا نہیں؟ چیف جسٹس سے سوال ہے۔ ایسے کرپٹ حکام کے خلاف کاروائی کب انجام پر پہنچے گی؟ کب اس قوم کو کرپٹ حکام سے چھٹکارا ملے گا؟ اور کب ہمارے ادارے کرپشن سے پاک ہو کر اسلام کے نام پر بننے والے مملکت خداداد پاکستان کو ایک ترقی یافتہ ملک بنائیں گے؟