ملک بھر میں میانمارکے مسلمانوں سے اظہار یک جہتی کیلئے ریلیوں اور مظاہروں کا سلسلہ جاری

07 جون 2015 (20:55)

لاہورمیں جماعت اسلامی،پاکستان سنی تحریک، اہلحدیث یوتھ فورس اوررکشہ یونین سمیت معتدد تنظیموں نے ریلیاں نکالیں۔اور احتجاجی کیمپ لگائے گئے۔مظاہرین نے پلے کارڈزاوربینرزاٹھارکھے تھے جن پربرماکے مظلوم مسلمانوں کی حمایت میں نعرے درج تھے۔ شرکا کا کہنا تھا حکومت میانمارمیں مسلمانوں پرجاری مظالم کوسلامتی کونسل، اقوام متحدہ، اوآئی سی اورانسانی حقوق کے اداروں کےسامنے اٹھائے ۔جماعت اسلامی کی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے رہنما لیاقت بلوچ نے کہا پاکستان ایٹمی ملک ہونےکےناطے اسلامی دنیاکی ترجمانی کرے ۔جماعت اسلامی میانمار کے مسلمانوں کے حق میں چودہ جون کو ریلی نکالے گی-

برمامیں مسلمانوں کے قتل عام پر اقوام متحدہ اور عالمی طاقتوں کے ساتھ ساتھ عالم اسلام بھی قبرستان کا منظر پیش کر رہا ہے: سراج الحق

لاہور میں جماعت اسلامی کے مرکز منصورہ میں کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے سراج الحق کا کہنا تھا کہ مشرقی تیمور اور جنوبی سوڈان کو مسلم ریاستوں سے الگ کرنے والوں کو برما میں مسلمانوں کا قتل عام کیوں نظر نہیں آتا،ان کا کہنا تھا کہ حکمرانوں کا قبلہ مکہ مکرمہ نہیں واشنگٹن ہے، برما کے مسئلہ پر عالمی طاقتوں اور اقوام متحدہ کے ساتھ ساتھ عالم اسلام میں بھی قبرستان کی سی خاموشی ہے۔ مسلم دنیا کے حکمران اس وقت تک زبان نہیں کھولتے جب تک اوبامہ کسی ظلم کی مذمت نہ کردے۔ واشنگٹن کے غلام چاہتے ہیں کہ قرآن پڑھنے اور اسلامی نظام کی بات کرنے والے ”مجرموں“ کو پکڑ کر سمندر میں پھینک دیا جائے۔

بدھوں کی سفاکیت اور جبر و استبداد کا نشانہ بننے والے روہنگیا مسلمانوں کی مصیبتیں تاحال کم نہ ہوسکیں

میانمر کے سفاک بدھوں نے مسلمان کیلئے زمین چھوٹی کر دی ، دہشت گردی کی ایسی بدترین مثال قائم کی کہ انسانیت بھی شرما جائے ، جوانوں کے علاوہ خواتین ، بوڑھوں اور بچوں تک کو نہ بخشا، ایسی اذیتیں دیں جو پہلے دنیا نے کبھی نہ دیکھیں -
بدھوں کی سفاکیت ، جبر و استبداد اور ظلم و ستم کا نشانہ بننے والے روہنگیا مسلمانوں کے آلام و مصائب اس وقت دنیا کے سامنے آئے جب ہزاروں بے یار و مددگار بچے ، بوڑھے جوان اور عورتیں کشتیوں میں سوار ہو کر جنوب مشرقی ایشیائی ممالک کی جانب پناہ کی تلاش میں نکلے ،بھوک پیاس اور بیماریوں میں مبتلا ان بے کس لوگوں کی دو ماہ تک سمندر میں بھٹکنے کے باوجود روہنگیا کے مسلمانوں کی مشکلات کم نہ ہوسکیں -
میانمر کی انتظامیہ نے مسلم ممالک کے دباو پر ہزاروں میں سے صرف چار سو مسلمانو کو تو دوبارہ اپنی زمین پر اتار لیا، تاہم ان عارضی کیمپوں میں بھی یہ مسلمان شدید مشکلات سے دوچار ہیں،ادھر میانمر کے ساحلی شہر سیٹوی سے چند کلومیٹر دور ان مسلمانوں ایک تنگ کیمپ مسلمانوں کیلئے قائم ہے، افلاس زدہ اس کیمپ میں 958 روہنگیا خاندان آباد ہیں ، بارش کی وجہ سے کیمپ میں رہنے والے روہنگیا مسلمانوں کی حالت اور بھی خراب ہوگئی ہے ۔ ایک اندازے کے مطابق سمندر میں اب بھی پچیس ہزار سے زاید مسلمان بھٹک رہے ہیں -
دوسری جانب تھائی لینڈ ، انڈونیشیا اور خطے کے دیگر ممالک نے روہنگیا مسلمانوں کو پناہ دینے کے بجائے انسانی سمگلروں کے خلاف آپریشن تیز کر دیا ہے ،انسانی حقوق کیلئے آواز بلند کرنے والے نام نہاد ملک انسانوں کے ساتھ جانوروں سے بدتر سلوک پر تاحال زبان بند کیے ہوئے ہیں -

خطے کے مسلم ممالک کی خاموش بھی سمجھ سے بالاتر ہے

میانمر پانچ کروڑ کی آبادی کا ہے ، جہاں کا مذہب بدھ مت ہے، جو مہاتما بدھ کے پیروکار ہیں، مہاتما بدھ کو دنیا میں امن کا سب سے بڑا پیامبر اور عدم تشدد فلسفے کا داعی سمجھا جاتا ہے اوران کی تعلیمات کے مطابق جس نے کسی جانور کو بھی قتل کیا تو وہ ایسے ہی ہے جیسے اس نے کسی انسان کو قتل کیا، اس کے باوجود ان سفاک بدھوں کا اصل چہرہ اپنے ملک میں اقلیتی مسلمانوں پر ظلم و تشدد کے بعد سب کے سامنے آ گیا -
مشرقی ایشائی ملک میانمار، انیس سو سینتیس تک برصغیر کا ہی حصہ سمجھا جاتا تھا۔ پھر برطانیہ نے اسے برصغیر سے الگ کرکے ایک علیحدہ کالونی کا درجہ دے دیا اورانیس سو اڑتالیس تک یہ علاقہ بھی برطانوی تسلط کے زیر اثر رہا، آخری مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو بھی میانمار میں ہی جلاوطنی کے دن گزارنے پر مجبور کیا گیا،اور آج بھی رنگون میں ان کی قبر مغل سلطنت کے زوال اور برطانوی سفاکیت کے نوحے سناتی نظر آتی ہے، روہنگیا مسلمان میانمر کی آبادی کا صرف چار فیصد ہیں،جو شروع سے ہی یہاں جبری مشقت کرتے آئے ہیں ، اور ان کو پراپرٹی خریدنے کا حق ہے نہ ہی تعلیم کی سہولیات میسر ہیں ، بنیادی انسانی حقوق بھی ان مسلمانوں کوشروع سے ہی فراہم نہیں کیے گئے-
بنگلہ دیش میں بھی روہنگیا مسلمان ایک عرصے سے اپنے حقوق کی جنگ لڑ رہے ہیں، بنگلہ دیش سرکار تمام تر مظالم کے باوجود اپنی سرحد کھولنے کو تیار نہیں، برابری کی بات کرنے والی حسینہ واجد بھی روہنگیا مسلمانوں پر ظلم پر چپ سادھ لیتی ہیں،انڈونیشیا کی سرحد بھی ان مسلمانوں کیلئے بند ہے، جبکہ ملائیشیا بھی ان کو اپنے ملک میں داخلے کی اجازت نہیں دیتا، امن کا نوبل پانے والی آنگ سانگ سوچی بھی اس ظلم کیخلاف گونگی ہی ہیں،برما کے بدقسمت مسلمان کہتے ہیں کچھ بھی بہتر ہوتا نظر نہیں آرہا، اور دنیا کا کوئی بھی ملک ان کی مدد کرنے کو تیار نہیں -