گلگت بلتستان میں کل ہونے والے انتخابات میں مسلم لیگ نون اور تحریک انصاف کے درمیان کانٹے دارمقابلے کی توقع

07 جون 2015 (17:35)

گلگت بلتستان میں الیکشن کل ہونگے، پیپلز پارٹی، مسلم لیگ نون اور پی ٹی آئی سمیت دیگرسیاسی جماعتوں کی گلگت بلتستان میں دلچسپی میں حیرت انگیز اضافہ ہوا ہے۔ انتخابی مہم کے دوران سیاسی جماعتیں گلگت بلتستان کی خدمت اور لوگوں کی بہبود کے خاطر ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی جنگ لڑتی نظر آئیں-
تحریک انصاف کے چیئرمین عمران خان نے انتخابی مہم کے دوران گلگت بلتستان کے متعدد علاقوں کے دورے کیے اوراپنے امیدواروں کوجتوانے کیلئے راہ ہموار کی،عمران خان کے بقول ان کی جماعت حکومت بنائے گی-
اس کے برعکس مسلم لیگ نون کاووٹ بینک بھی کسی سے کم نہیں اورحکمران جماعت الیکشن میں مخالفین کوٹف ٹائم دینے کی صلاحیت رکھتی ہے، دوسری جانب گلگت بلتستان قومی موومنٹ کے صدر عبدالواحد نے قانون ساز اسمبلی انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کر رکھا ہے، انہوں نے لوگوں سے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ الیکشن کے ذریعے عوام کو مسلکی اور علاقائی بنیادوں پر تقسیم کرنے کی سازش کی جارہی ہے-
گلگت بلتستان کوالگ شناخت ملنے کے بعد پہلے الیکشن میں پیپلزپارٹی نے حکومت بنائی اورمہدی شاہ کووزیراعلیٰ مقرر کیا، اس کے بعد مسلم لیگ نون اورتحریک انصاف نے بھی پنجے گاڑ لیئے، ان سیاسی پارٹیوں نے گلگت بلتستان کے بنیادی آئینی مسلئے کو متعلقہ فورمز پر کبھی نہیں اٹھایا اور نہ ہی گلگت بلتستان میں انتخابات جیتنے سے کسی پارٹی کی قومی طاقت پر کوئی فرق پڑتاہے، گلگت بلتستان میں حکمرانی کاتاج کس کے سرپرہوگا اس کافیصلہ سوموار کے روز ہوجائے گا۔