زرعی شعبہ کو ریلیف دیئے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا: کسان اتحاد

07 جون 2015
زرعی شعبہ کو ریلیف دیئے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا: کسان اتحاد

ملتان (خبر نگار خصوصی) پاکستان کسان اتحاد کے مرکزی صدر خالد محمود کھوکھر نے کہا ہے کہ زرعی شعبہ کو ریلیف دیئے بغیر ملک ترقی نہیں کر سکتا جب تک کاشتکار کی پیداواری لاگت کم نہیں ہو گی وہ خوشحال نہیں ہو سکتا نوائے وقت سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہ آئی ایم ایف نے یہ بجٹ بنایا ہے دنیا کے کسی ملک میں زرعی مداخل پر جی ایس ٹی نہیں ہے لیکن پاکستان میں موجودہ بجٹ میں بھی جی ایس ٹی ختم نہیں کیا گیا بھارت سالانہ زرعی شعبہ پر 120 کھرب کی سبسڈی دیتا ہے ہمارے ہاں مارکیٹنگ کا نظام نہیں ہے کپاس چاول آلو سمیت کسی فصل کا کاشتکار کو معاوضہ نہیں ملتا بلکہ صنعتکار کا پانی دودھ سے مہنگا ہے انہوں نے مطالبہ کیا کہ جی ایس ٹی ختم کرنے کے ساتھ کاشتکار کو ریلیف دیا جائے ورنہ کھیت کھلیانوں سے اٹھنے والی آندھی کو حکمران نہیں روک سکیں گے محمد فیض کورائی نے کہا کہ یہ بجٹ کسان کش ہے جسے مسترد کرتے ہیں چاروں صوبوں کے کاشتکاروں کو ریلیف نہیں دیا گیا وہ اسلام آباد و لاہور میں احتجاج کریں گے مثالی کاشتکار عامر خان چانڈیو نے کہا کہ 20 کروڑ کی آبادی کو خوراک فراہم کرنے والے زرعی شعبہ کو بجٹ میں مکمل طور پر نظر انداز کر دیا گیا ہے ٹیکسٹائل سیکٹر کو ریلیف دے کر مخصوص طبقے کو نوازا گیا اگر یہی سلسلہ جاری رہا تو کاشتکار کاشتکاری چھوڑنے پر مجبور ہو گا۔