داعش نے خودکش حملوں اور ان کی تیاری کا فن خیمنی سے سیکھا: جنرل سعید قاسمی

07 جون 2015

تہران (آن لائن) ایرانی پاسداران انقلاب کے ایک سابق عہدیدار میجر جنرل سعید قاسمی نے دعویٰ کیا ہے کہ دولت اسلامیہ "داعش" نے خودکش حملوں اور خودکش بمباروں کی تیاری کا طریقہ بانی انقلاب ایران آیت اللہ خمینی سے سیکھا ہے۔ نیوز ویب پورٹل "عطا نیوز" کے مطابق جنرل قاسمی نے شمالی مشرقی ایرانی شہر نیشاپور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ "فدائی خودکش بمبار تیار کرنا ایک فن ہے اور یہ فن کسی دور میں صرف ہمارا خاصہ ہوا کرتا تھا، لیکن ہماری قیادت نے اس پر کوئی توجہ نہ دی۔ آج داعش نے وہی طریقہ اختیار کرلیا ہے۔" خیال رہے کہ ایران میں جہاں ایک طرف "داعش" کی پرزور مخالفت کی جاتی ہے وہیں ماہرین ایرانی نظام اور داعش کے طریقہ کار میں مماثلت بھی بیان کرتے ہیں۔ داعش بھی اپنی جنگ کو"مقدس جہاد" کا نام دیتی، شہادت، جنت اور فلاح دارین کے نعرے کے تحت لوگوں کو اپنے گرد جمع کرتی ہے۔ اہل تشیع مسلک کے حامی بالخصوص ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای بھی شام میں صدر بشارالاسد کی حمایت میں بندوق اٹھانے کو"عین جہاد " کا نام دیتے ہیں۔حال ہی میں ایرانی عہدیدار نادر نصیری نے مرشد اعلیٰ کا ایک بیان نقل کیا تھا جس میں انہوں نیکہا تھا کہ "شام میں لڑتے ہوئے مارے جانے والے مقدس جنگ کے شہید ہیں۔ انہوں نے اپنی جانیں حرب اہل بیت اطہار کے دفاع میں پیش کی ہیں۔ ان کے لیے ھجرت اور جہاد دو اجر ہیں"۔خیال رہے کہ ایرانی جنرل سعید قاسمی سنہ 1995ئ￿ میں قائم ہونے والی"انصار حزب اللہ" نامی ایرانی جنگجو تنظیم کے بھی سربراہ رہ چکے ہیں۔ اس تنظیم نے عراق اور ایران کے درمیان آٹھ سال تک جاری رہنے والی لڑائی کے دوران بھرتی ہوئے والے جنگجو شامل ہیں اور اس تنظیم کو پاسداران انقلاب اور ایرانی حکومت کی جانب سے براہ راست مالی مدد فراہم کی جاتی ہے۔انصار حزب اللہ نے سنہ 1999ئ￿ میں اس وقت شہرت حاصل کی تھی جب اس کا نام حکومت مخالف مظاہرین کو پولیس کے ساتھ مل کر کچلنے کے حوالے سے میڈیا پرآیا تھا۔ اس تنظیم نے سنہ 2009ئ￿ میں اصلاح پسندوں کی سبز انقلاب تحریک کو ناکام بنانے میں بھی سیکیورٹی فورسزکے ساتھ مل کر بھرپور کردار ادا کیا تھا۔